میرے والدین اس عمر میں انصاف کے لیئے کبھی ATC جاتے ہیں ، کبھی ضلع کچہری جاتے ہیں ، کبھی سیشن اور کبھی ہائی کورٹ کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔
میں اُن سے کہتی ہوں انصاف نہیں ملنا آپ خود کو نہ تھکائیں مگر وہ نہیں مانتے۔
اُن کا کہنا ہے تم لوگوں کو اکیلا کیسے چھوڑ دیں
فلک جاوید خان
مُلک ڈوب رہا ہو۔ بھوک ننگ کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہوں۔ بجلی کا بل جمع کروانے کے لیے لوگ گھر کا سامان فروخت کر رہے ہوں۔ یہ سب ہو رہا ہو تو حکمران چین کی نیند نہیں سو سکتا مگر یہ خاتون اس عالم میں بھی نوٹنیکوں سے باز نہیں آتی اپنے تمغے بنا کر افیسرز کے ک��دھوں پر چسپاں کر رہی ہے۔
پیدہ کرنے والے کی قسم یہ پولیس والے بھیڑے درندے بھی حکومت کے گناہوں میں برابر کے شریک ہیں ان کو بھی حساب دینا ہوگا ۔ ایک مولوی ہاتھ میں قرآن پکڑ کر پنجاب پولیس کو جہنمی ثابت کر رہا ہے
نواز شریف کے ڈاکٹر عدنان نے بتایا نواز شریف کچھ چیک اپ کے لئے سنگاپور جارہے ہیں سنگاپور کا نام سنا تو پرانی چیزیں ذہن میں آ گئی
غالباً ہو سکتا ہے نواز شریف دل کے عارضے کے لئے نہیں تجوری کے عارضے کے لئے گئے ہوں جس جہاز پر گئے ہیں وہ بھی بہت بڑے سیٹھ کا جہاز ہے اور وہ سیٹھ ان کے رشتےدار بھی ہیں ٹرپ کی اصل وجہ حسن نواز کا کاروباری سلسلہ ہے حسن نواز برطانیہ میں مالی تباہی کا شکار ہوۓ تھے اسی لئے پاکستان جاکر نئے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا ہے
نواز شریف اچھے مڈل کلاس دادا نانا کا کردار ادا کرتے ہوۓ اپنی آنے والی نسل کا سوچ رہے ہیں
شہزاد اکبر
بلڈ پریشر بھی انہوں نے مینیو لیا چھپا کیوں رہے ہیں مینول صرف ڈاکٹر نے ہاتھوں سے لیا کے سرکاری ہاسپٹل اور خواجہ اصف نے بھی غلط بات کی کہ میں نے لیا ہمیں کسی چیز کا یقین نہیں رپورٹ بھی انہوں نے خود لیک کی ڈرو اور خوف اور کیا چھپا رہے ان کے کہنے کے مطابق بلڈ پریشر 140 بائے 80 تھا ڈاکٹر عظمی خان
راول ڈیم پر ایک صوبے وزیراعلیٰ کیلئے ریسٹ ہاؤس بھی بنا ہے، وہ بھی تو عوام کو بتائیں۔ اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس موجود ہے، جہاں وزیراعلیٰ کی انیکسی ہے، اس کے باوجود راول ڈیم پر ریسٹ ہاؤس سمجھ سے مکمل باہر ہے
یہ کوئی فلم کا سین نہیں بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب چار سال پہلے عمران خان نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے موٹروے پر لانگ مارچ میں انٹری کر دی 🔥
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
عدالتی حکم کے باوجود آج خان صاحب کی ملاقات نہ کروانے پر مریم نواز کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔ آج ملاقات پنڈی پولیس نے رکوائی ہے، جو کہ حکومتِ پنجاب کے دائرہ اختیار میں آتی ہے!!
اڈیالہ جیل کا عملہ اس جرم میں مریم نواز کے ساتھ شامل ہے
باوجود اس کے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اور آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی حکم جاری کیا ہے، عمران خان کی بہنوں کو ابھی تک ان سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس حکم کی روشنی میں — جس میں عمران خان کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں علاج کا حکم دیا گیا تھا — اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے آج کے فیصلے کے تناظر میں، جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ب��نوں کو ان سے ملاقات کرائی جائے، توہینِ عدالت کے معاملے پر عدالت کا کیا فیصلہ آتا ہے؟.
بلوچستان کے ہر طبقے او�� قبیلے سے تعلق رکھنے والے بزرگ، رہنما، مشر، طلباء رہنما، مظلوم خاندانوں کے لوگ مل بیٹھ گئے اور جرگہ کررہے ہیں
ان تمام سرکردہ رہنماؤں کو اب ایک حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس طرح اپنے حقوق کی خاطر 27 ستمبر کو نکلنا ہے، 27 ستمبر کا لانگ مارچ پاکستان کے مستقبل اور امن کی خاطر ہے
آج ہی عدالت نے حکم دیا تھا کہ فیملی کی ملاقات ہونی چاہیے عمران خان سے۔ آج پھر توہین عدالت کی ہے حکومت نے اور ان کے اوپر بیٹھے ڈکٹیٹر نے۔
جب تک عوام کا بھرپور پریشر نہیں ہوگا، رہائی مشکل ہے۔ ہر ممکن کوشش کریں ۲۷ ��تمبر کا لانگ مارچ کامیاب بنانے کے لیے!
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
عدالتوں کے آرڈرز، چاہے ہائی کورٹ کے ہوں یا سپریم کورٹ کے، سب کا انجام ایک جیسا ہوتا ہے۔ اڈیالہ جیل عدالتی آرڈرز کا قبرستان بن چکا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہاں عدالتی ��حکامات دفن ہو جاتے ہیں۔علیمہ خان
یہ (جسٹس خادم حسین سومرو کا قید تنہائی بارے تحریری فیصلہ ) وہ کنکری ضرور ہے جو حج کرتے وقت رمی کے دوران شیطان پر ماری جاتی ہے ۔۔ایک کنکری اور سہی ۔۔
دن بہ دن عدالتی احکامات کی دھجیاں حکومت بکھیر رہی ہے
وہ وقت دور نہیں کہ جب عدالتوں سے مزید ایسے احکامات آنا شروع ہو جائیں گے اور حکومت توہین عدالت کے ایک ایسے گہرے گڑھے میں گر جائے گی کہ جس سے نکلنا مشکل ہو جائے ۔۔
مطیع اللہ جان
اج ہائی کورٹ کا بڑے واضح حکم تھا اور ایک پٹیشن ہم نے سپریم کورٹ میں بھی ڈالی ہے کہ خان کو قید تنہائی میں اور ائسولیشن کے بارے میں بشر بی بی کو بھی مگر یہ اڈیالہ ان سارے ارڈرز کا قبرستان خان کا علاج تو ویسے بھی انہوں نے ردی کی ٹوکری میں ڈال لیا تھا اور اج ملاقات بھی علیمہ خان
آج کی دو خبریں۔۔۔
1- عمران خان کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے ، اُنہے ہر وہ سہولت دی جائے جو اُن کا بُنیادی حق ہے۔۔۔ہائی کورٹ
2- آج بھی عمران خان سے کِسی بھی بہن یا وکیل کی مُلاقات نہیں کروائی گئی۔۔۔
ایک دفہ کا ذکر ہے جب ہائی کورٹ کے احکامات نا ماننے سے ٹانگیں کانپتی تھیں۔۔