کل پوری دنیا میں اسرائیل کے لیے یہ مناظر شرمندگی کا باعث تھا دنیا کی بڑی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی مگر پھر بھی پاکستان سمیت دنیا کے بے شمار ممالک نے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کا بائیکاٹ کیا یہ ایک تاریخی دن تھا جو اسرائیل کو یاد رہے گا
مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی پاور پالیٹکس کی سب سے معتبر کتاب ہیں۔ میرے بس میں ہو تو اس کتاب کو سیاسیات کے نصاب کا حصہ بنا دوں۔
مولانا اقتدار کی سیاست کرتے ہیں، مگر یہ تو سب ہی کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سبھی۔ پھر فرق کیا ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو مولانا کو اپنے معاصر میں ممتاز اور منفرد بناتی ہے؟
مولانا سب سے زیادہ قادر الکلام ہیں۔ بات کہنا کوئی ان سے سیکھے۔ شدت جذبات کی انتہا پر بھی مولانا وہی کہتے ہیں جو وہ کہنے آئے ہوتے ہیں۔ وہ کسی کمزور لمحے کی گرفت میں نہیں آتے۔
مناظرے کی روایتی طاقت اور علم الکلام کے فن کو سیاست میں کسی نے کمال تک پہنچایا ہے تو مولانا ہیں۔ دھمکی دیتے اور للکارتے بھی ہیں تو 73 کے آئین کے تحت۔ کوئی گرفت نہیں کر پاتا۔ کوئی مقدمہ نہیں بن پاتا۔
مولانا کے تناظرات سب سے زیادہ ہیں۔ چاہیں تو اسلام کے تناظر میں مقدمہ کھڑا کر دیں، چاہیں تو 73 کے آئین کے تناظر میں دلیل لے آئیں۔ جی میں آئے تو جہاد پر مضمون باندھ لیں اور چاہیں تو جمہوریت کا درس شروع کر دیں۔ تناظرات کا اتنا وسیع دائرہ ان کے کسی حریف کے پاس نہیں۔
مذہب کارڈ مولانا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ عمران خان پوری کوشش کے باوجود اس سے محروم ہیں اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو یہاں مولانا کی عمل داری کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر چکی ہیں۔
مبارک ثانی کیس میں مولانا کی تشریف آوری زبان حال سے بتا رہی تھی کہ نہ ان کے آگے کسی کا چراغ جل سکتا ہے نہ ان کے پیچھے۔
مولانا کے کارکنان جیسے قدرتی کارکنان بھی کسی کے پاس نہیں۔ سب کو اپنے کارکنان کا حلقہ تخلیق کرنا پڑتا ہے۔ مولانا اس تکلف سے بے نیاز ہیں۔ ایک مکتب فکر کے مدارس کی افرادی قوت فطری اور قدرتی انداز میں مولانا کا دست و بازو ہے۔ یہ سہولت ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
مولانا کی سٹریٹ پاور غیر معمولی ہے۔ ان کے کارکنان جیسے یکسو کارکنان بھی کسی اور کے پاس نہیں۔ عمران دورِ حکومت میں، جب سب کچھ ایک پیج پر تھا اور پی ڈی ایم سہمی بیٹھی تھی، یہ صرف مولانا تھے جو اپنے کارکنان کے ساتھ اسلام آباد میں رجز پڑھ رہے تھے۔
خدا کا یہ انمول تحفہ صرف مولانا کو ملا ہے کہ ان کا کارکن پوری یکسوئی کے ساتھ ان کے پیچھے کھڑا ہے اور مولانا جو مرضی فیصلہ کر لیں، وہ سوال نہیں اٹھاتا۔ وہ بغداد کے درویش کی طرح مطمئن ہے۔
فہم سیاست کے باب میں بھی مولانا کا کوئی مقابل نہیں۔ نہ مذہبی سیاست میں، نہ عصری سیاست میں۔ زرداری صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست کے امام ہیں لیکن مولانا سیاست کے امام اعظم ہیں۔ جب مولانا تشریف لاتے ہیں، سب کے وضو ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔
مولانا سیاست کی کھلی وادیوں کے مسافر ہیں۔ وہ کسی بند گلی میں داخل ہونے کے قائل نہیں۔ وہ تمام آپشن کھلے رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد فرما سکتے ہیں اور اس سے ان کی اصولی سیاست پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اصولی صولی سیاست ان کے ہاں کشتہ مرجان بن جاتی ہیں۔
مولانا کی بارگیننگ پاور غیر معمولی ہے۔ تقسیم اقتدار میں جب معاملہ مولانا سے پڑتا ہے تو حصہ بقدر جثہ والی بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ ان کا حصہ ان کے جثے سے زیادہ ہوتا ہے۔ جلد باز نہیں ہیں، ٹھنڈا کر کے کھانے کے قائل ہیں اور کافی خوش خوراک ہیں۔
مولانا سیاست کا نمک ہیں۔ وہ اقتدار میں نہ ہوں تو حزب اقتدار ادھوری ہوتی ہے۔ ادھر حزب اختلاف اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مولانا اس کا حصہ نہ ہوں۔ سب کی رونقیں ان ہی کے دم سے ہیں۔ ہر گونگے کی گویائی مولانا ہیں۔
یہ امریکہ کی طرح ایک چلتی پھرتی ویٹو پاور ہیں۔ 73 کے آئین کے تناظر میں یہ جس پلڑے میں وزن ڈال دیں، وہی بھاری ہو جاتا ہے۔
چنانچہ آج آپ دیکھ لیجیے وزیراعظم بھی مولانا کے در پر کھڑے ہیں، صدر محترم کا کوچہ یاراں بھی یہی ہے اور تحریک انصاف بھی بڑے پیار سے مولانا کو دیکھتی ہے اور لجاتی ہے کہ ’یہ مولانا میرا بھی تو ہے۔‘
یہ وقت اہلِ مذہب کے لیے سازگار نہیں، نظریاتی تقسیم بھی گہری ہو چکی ہے، لیکن مولانا نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ایک مذہبی رہنما سیکولر سیاست کے تقاضے بھی بخوبی نبھا سکتا ہے اور اس آہنگ سے کہ ساری سیکولر سیاست اس کے پیچھے آن کھڑی ہوتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔
طرزِ حکمرانی اور پاور پالیٹکس کے باب میں میکیاولی اور چانکیہ دنیا بھر کے نصاب کا حصہ ہیں۔ ہمیں کم از کم پاکستان کی حد تک انہیں نصاب سے خارج کر دینا چاہیے کیونکہ نظام الملک طوسی سے مولانا فضل الرحمٰن تک ہمارے پاس اب اپنی ایسی شخصیات موجود ہیں جو مسلم روایات کے اندر رہتے ہوئے زیادہ بہتر رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔
اقبال کے الفاظ مستعار لوں تو مولانا کا معاملہ بھی وہی ہے ؎
میرے طوفاں یم بہ یم
دریا بہ دریا، جو بہ جو
07 ستمبر 1974 کو قومی اسمبلی پاکستان نے ایک متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ 07 ستمبر 2024 کو اس فیصلے کے 50 سال مکمل ہونے پر مینار پاکستان لاہور میں گولڈن جوبلی تقریب منعقد ہوگی، جسے یوم الفتح کا نام دیا گیا ہے، اس سے پہلے 22 اگست 2024 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی امت کو نئی فتح حاصل ہوئی، جس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
میں پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خوشی اور فتح کے دوہرے جذبے کے ساتھ مینار پاکستان لاہور میں مجتمع ہو کر یکجہتی کا اظہار کریں، جناب رسولﷺ سے محبت اور ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کا مظاہرہ کریں۔ جمیعت علماء اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دیگر مذہبی و دینی جماعتوں کے کارکنوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قوم کو مینار پاکستان میں جمع کرنے کے لیے تحریک چلائیں اور نظم و ضبط کے ساتھ قوم کی شرکت کو یقینی بنائیں۔
72 سال میں پہلی بار مولانا فضل الرحمان صاحب عدالت میں حاضر ہوا اور یہ آقاء نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ناموس کی خاطر حاضر ہوا۔
جو کہ کامیابی حاصل کرکے لوٹ گئے۔
کیونکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے سےمتنازع پیرا گراف نکال لئے۔
اور اصل یہی کامیابی ہے۔
#فتح_مبین_یوم_تشکر
گزشتہ دنوں تجدید عھد وفا جو کر آئے تھے
آج اس وعدہ کی وفا دیکھ لی سب نے
آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام جب تک زندہ ہین کوئی مائی کا لال ختم المرسلینﷺ کی
ختم نبوت کے قانون کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا ان شاءاللہ تعالیٰ
#فتح_مبین_یوم_تشکر
پہلے روضہ رسول پر حاضری دی،
پھر میدان سے ہوتا ہوا عدالت پہنچا اور بلآخر پوری امت کا حق ادا کرکے سرخرو ہوا.
واہ کیا شان ہے میرے قائد کی.
#فتح_مبین_یوم_تشکر
مسلم لیگ ن کا لیڈر جج کے سامنے پیش ہوا الزام چوری
پیپلز پارٹی کا لیڈر جج کے سامنے پیش ہوا الزام چوری
پی ٹی آئی کا لیڈر جج کے سامنے پیش ہوا الزام چوری
میرا لیڈر کل زندگی میں پہلی بار کسی جج کے سامنے پیش ہوا اور وہ بھی ختمِ نبوت کے دفاع کی خاطر الحمدللہ
#فتح_مبین_یوم_تشکر
@HamidMirPAK@SyedWiqasAhmad1@asmashirazi
یہ والی منطق قوم سمجھائیں جو مروت کہہ رہا ہے
خود ٹویٹ کیا ،جب پکڑا گیا تو کہا میں صرف آواز والی ٹویٹ اون کرتا ہے اور اسکی صفائی تحریری ٹویٹ سے کر رہا ہے
جس چیز نفی کررہا ہے عین اسی لمحے کر رہا ہے
@sherafzalmarwat Instead of accepting your mistake just look at the arrogance you try to put all the blame on JUI. What do you think we are not aware of you and your language idiot
Have some shame man you are not accepting the mistake that you have no knowledge of Islam and putting all the blame on Ulma even though you and your supporters don't even tolerate the presence of the Ulma.
@SHABAZGIL
1970 ء کے انتخابات میں جمعیۃ علماء اسلام
کے ٹکٹ پر پورے ملک سے مختلف محاذوں
پر مصروف علماء کرام نے جمعیت کے پلیٹ فارم
سے انتخابی دنگل میں اترے
جن میں خطابت کے میدان سے
مولانا عبدالشکور دینپوری ملتان سے ،مولانا محمد ضیاء القاسمی فیصل آباد،، مولانا محمد لقمان علی پوری مظفرگڑھ، مولانا محمد اجمل خان لاہور
اور فن مناظرہ و مباحثہ کے
مولانا عبد الستار تونسوی ڈیرہ غازی خان سے ، مولانا دوست محمد قریشی جتوئی
خانقاہی میدان سے مولانا عبداللہ درخواستی رحیم یار خان ، مولانا عبیداللہ انور لاہور سے
لیکن محکمۂ زراعت کی کاروائی کے پیشِ نظر سوائے دوچند کے یہ تمام اکابر علمی شخصیات ہر حلقے سے مؤقر ووٹ بینک کے باوجود کامیاب نہ ہوسکے ۔
اس موقع پر مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمہ اللّٰہ نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ
" مجھے اندیشہ اس چیز کا ہے کہ میں نے تمام دینی فنون کی ماہر شخصیات کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔عوام نے انہیں مسترد کیا ۔کہیں انکا یہ عمل اللّٰہ کے عذاب و غضب کو دعوت نہ دے دے “
مفتی صاحب کا یہ جملہ بالکل درست ثابت ہوا ۔ٹھیک دو سال بعد ملک دو لخت ہوا اور اسکے بعد ملک سیاسی ،معاشی ،معاشرتی ،مذہبی اور امن و امان کے حوالے سے جس زوال اور عدم استحکام کا شکار ہوا ۔آج تک اسکی تلافی یا قضاء ممکن نہ ہوسکی آج جس انداز میں عوام، عدلیہ اور کمپنی نے دینی و مذہبی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر ایک فتنے کو پروموٹ و پروجیکٹ کیا یہ قوم کے بدترین مستقبل کی نوید لگتا ہے