"خیرپور (سندھ) کے چڑیا گھر کی تعمیر نوع پر 80 ارب روپے خرچ ہوۓ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ خیرپور میں تو کوئی چڑیا گھر ہے ہی ��ہیں"-
اس خاتون کا یہ الزام کوئی معمولی نہیں- سندھ حکومت کی طرف سے جواب تو آنا چاہیئے-
سندھ تعلیمی میدان میں جناب زرداری صاحب اور بلاول زرداری صاحب کے زیر سایہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رھا ھے ۔
اس لیے چھوٹے صوبے بنا کر سندھ کی ترقی کو بریک نہیں لگا سکتے ۔
پیپلزپارٹی کے ان وڈیروں اور ان کے نسل پرست حواریوں کے لیے سندھ صرف لوٹ مار کا ایک ذريعہ ہے، جبکہ دھرتی ماں کا سوانگ رچانے والے اپنے بچوں کو بیرون ملک شاہانہ تعلیمی اداروں میں پالتے اور پڑھاتے ہیں۔ عام عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ کے چند روپے کی بھیک کے پیچھے لگا کر پورے سندھ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
یہ وہ سہیون ہے جہاں سے وزیر اعلی خود ہے ۔ لیکن یہاں بھی بچے ننگے پاؤں، پھٹے کپڑوں میں پھر رہے ہیں، جہاں پینے کے پانی میں گٹر کا پانی شامل ہو چکا ہے، اور جہاں نہ اسکول ہے، نہ ہسپتال، نہ تعلیم۔ جس سندھ کو پیپلزپارٹی کے وڈیرے اسمبلیوں میں بیٹھ کر "جنت" بتاتے ہیں،دھرتی ماں چلاتے ہیں اس کی حقیقی تصویر یہ ہے کہ مسلسل دہائیوں سے اقتدار پر قابض ان حرام خوروں نے اپنے ہی حلقے کے عوام کو بنیادی انسانی سہولیات سے محروم کر کے جیتے جی جہنم میں دھکیل دیا ہے۔
جب احتساب یا سوال کا وقت آتا ہے، تو عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے "مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں" کے کھوکھلے اور ڈرامائی نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کو کسی غیر نے نہیں بلکہ ان ہی وڈیروں، جاگیرداروں اور حرام خوروں نے لوٹا ہے جن کا نعرہ اب دراصل یہ بن چکا ہے: "مرسوں مرسوں، سندھ کے وسائل اور اقتدار نہ چھڈیسوں!" یہ نعرہ سندھ کی حفاظت کے لیے نہیں، ��لکہ اپنی لوٹ مار اور اقتدار کو بچانے کے لیے عوام کے جذبات کا ڈھونگ ہے۔
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احت��اج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
19 اگست 2025: ٹھیک ایک سال پہلے موسلا دھار بارشوں کے باعث کراچی میں یہی مناظر تھے۔
اور ٹھیک ایک سال بعد، 19 اگست 2026 کو مونسون مکمل طور پر خشک رہا ہے۔ کراچی کو اس سیزن میں اب تک معمول کی اوسط بارش کے مقابلے میں 97 فیصد کم بارش کا سامنا ہے۔
کراچی کے لوگ اب اپنے بچوں کیلئے سڑکوں پر نکلنا شروع ہو چکے ہیں۔
یہاں سے لراچی پر براجمان جماعت کی الٹی گنتی شروع ہوتی ہے۔
ٹک ٹوک، ٹک ٹوک۔ امید ہے کہ انہیں آواز آرہی ہے۔
سندھ کی کرپشن شدہ فائلیں NAB نے دوبارہ کھول دی ہیں۔
ریونیو ڈیپارٹمنٹ: کراچی کی سرکاری زمینوں کے 270 کیسز (6000+ ایکڑ)،
2011 کے بعد سے بلدیاتی اداروں میں 13 ہزار سے زائد غیر قانون�� بھرتیاں،
اور لینڈ یوٹلائزیشن و دیگر: 40 ارب روپے سے زائد کے 10 ریفرنسز واپس ناب کے پاس۔
الٹی گنتی….
پیپلزپارٹی کی سیاست کا بھیانک چہرہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ شرجیل میمن تو محض ایک مہرہ ہے، جبکہ اس پیپلزپارٹی نامی مافیا کی صفوں میں ایسے متعدد کردار بھرے پڑے ہیں۔
اس پورے کرپٹ ٹولے کا اصل سرغنہ تو وہ "مسٹر 10 پرسنٹ" ہے جو ان سب کا باپ ہے اور جسے ہر قسم کے قانون سے بالا تر قرار دے دیا گیا ہے۔ یاد رکھیے، جن جن طاقتوں نے اس کرپٹ نظام کی سرپرستی کی اور اسے تحفظ دیا، وہ بھی برابر کے شریکِ جرم ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے سندھ کے عوام پر جن حرام خوروں کو مسلط رکھا گیا، وہ آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ملک کا کوئی ادارہ اس قابل نہیں رہا کہ ان کا گریبان پکڑ سکے۔
اگر کسی غریب یا عام شہری پر معمولی سا بھی الزام ہو، تو پولیس رات کے اندھیرے میں چادر و چار دیواری کا قدس پامال کرتے ہوئے گھروں سے اٹھا لیتی ہے۔
دوسری طرف یہ لٹیرے جو پورا ملک نگل گئے، آج بھی 32 گاڑیوں کے شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ گھومتے ہیں، اور ریاستی ایجنسیاں انہیں سلامیاں پیش کرتی ہیں۔ قانون مر چکا ہے، عدالتیں مفلوج ہیں، اور ادارے ان ڈاکوؤں کی لونڈی بن چکے ہیں۔ نظام کی اس ��کمل ناکامی پر اب کسی ترمیم یا ڈنڈے کی ترمیم سے کام نہیں چلے گا۔ نظام کی مکمل تبدیلی ہی واحد حل ہے ۔ جو حرام خور اور فرعونی سوچ رکھنے والے پیپلزپارٹی کے وزراء ملک میں نئے صوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ دراصل اپنے مالی مفادات، پروٹوکولز اور کرپشن کے راستوں کو بچانا چاہتے ہیں۔
نئے صوبوں کی مخالفت عوام پر مظالم اور زوال پذیر نظام کو طوالت دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان کو بچانا ہے تو صوبوں کی حد بندی ختم کر کے عوام کو اقتدار کا حقیقی حصہ دار بنانا ہی ہوگا۔