ایسے ہی رویے بچوں کو مسجد سے متنفر کرتے ہیں۔ کبھی انہیں ڈانٹا جاتا ہے، کبھی صفوں سے پیچھے دھکیلا جاتا ہے اور کبھی بڑے خود آگے کھڑے ہونے کے لیے بچوں کو پیچھے ہٹاتے ہیں
حالانکہ اصول بالکل واضح ہے کہ جو پہلے آئے گا وہ آگے کھڑا ہوگا اور جو بعد میں آئے گا وہ پیچھے کھڑا ہوگا، مگر افسوس ہمارے ہاں یہ میرٹ بھی مسجدوں سے غائب ہو چکا ہے
اب اس شخص کو ہی دیکھ لیجیے، جس فرعونیت کے س��تھ اس نے بچے کو ٹانگ سے دھکیلا ہے، ذرا سوچیے اس معصوم کی عزتِ نفس کو کتنی ٹھیس پہنچی ہوگی، سب کے سامنے اس کی تذلیل ہوئی،
اس کے دل پر کیا گزری ہوگی اور اس کے ننھے ذہن میں مسجد کے بارے میں کیا تاثر پیدا ہوا ہوگا
ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ بچوں کی بھی عزتِ نفس ہوتی ہے، ان کے جذبات ہوتے ہیں اور وہ بھی عزت و احترام کے مستحق ہیں
مسجدیں بچوں کو اللہ کے قریب کرنے کی جگہ ہیں، انہیں اپنی بدتمیزی اور فرعونیت سے مسجد سے دور کرنے کی نہیں
#آفاق_سومرو
سچ کہوں تو یہ ماں ناقابلِ یقین حد تک بہادر ہے۔ اس ماں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنے بچوں کو بچایا اور دو دوسری خواتین سمیت مجموعی طور پر چار زندگیاں بچا لیں۔ اس بہادر ماں کو میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے سلام ہے۔ 🫡🥹
@shahd971401
پارہ چنار نے دوبا��ہ سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔ یہ کیسی غیرت ھے جنہیں معصوم بچوں پر بھی رحم نہ آیا. او ظالمو بچوں کا کیا قصور تھا؟؟
پینتس سالہ اسلم جس کا تعلق سکردو سے تھا، اس کو ایک لڑکی ہانیہ سے محبت ہوگئی، گھر والے نہیں مانے تو ان دونوں نے چھ سال قبل کورٹ میرج کرلی ۔ دونوں
1/5
را��ی پور کی حویلی میں ظالم سید نے ایک معصوم سندھی ملازمہ کے ساتھ زیادتی کی، پھر خود جا کر بستر پر سکون سے سو گیا، جبکہ وہ معصوم لڑکی ساتھ ہی زمین پر تڑپتے تڑپتے دم توڑ گئی۔ آج بھی وہ سید اور اس کی ظالم بیوی آزاد ہیں اور پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں، انہیں کوئی سزا نہیں ملی، کیونکہ ان کے سروں پر پیپلز پارٹی کی سرپرستی کا سایہ تھا۔
29 اکتوبر کو خبر سامنے آئی کہ شادی بیاہ، محفل نعت و قوالی، موسیقی اور تقریبات میں نوٹ اچھالنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ خلاف ورزی پر FIR درج ہوگی،2 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا۔ اس ٹک ٹاکر نے پابندی کو ہوا میں اڑادیا۔ اسکے ڈیرے پر وزیر حاضری دیتے ہیں عام آدمی ہوگا تو دھرا جائیگا۔