یہ انہونی ہوئی ہے، پاکستان کی صوبائی خودمختاری کی تاریخ میں دوتہائی اکثریت والے صوبے میں کبھی کسی نے ایمرجنسی نہیں لگائی، ہم اِس کی مذمت کرتے ہیں، بیرسٹر گوہر
کل بھی بھٹو پالشی تھا، آج بھی بھٹو پالشی ہے.
بھٹو تیری نام نہاد جمہوریت اور اقتدار کی حوس پر کروڑوں بار لعنت۔ اسی ہوس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا اور آج واحد صوبہ پختونخوا جہاں عوام کی منتخب کردہ حکومت تھی اسے ختم کر کے پھر ویسے ہی حالات پیدا کر دئیے ہیں۔
تمام معاملات طے ہوگئے تھے میں سہیل آفریدی سے ملنے پشاور جارہا تھا اچانک فون آیا اوپر سے حکم ہے گورنر راج لگا رہے ہیں میں نے کہا بلوچستان میں کب لگانا ہے
مولانا فضل الرحمن
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ 🚨
سہیل آفریدی نے خیبر پختون خواہ عوام کے لیے ایک سٹینڈ لیا ہے۔ ہم بے گناہوں کے خون پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔
ہم کسی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کریں گے جو یہ کہتی ہے کہ جو بھی بمباری ہو ہم اس کے ساتھ ہیں
خدا کی قسم آپ پوری دُنیا گھوم کر آجاؤ ایسا رویہ سرکاری اہلکاروں کا پاکستان میں ہی ملے گا
سیالکوٹ میں ٹریفک وارڈن شہری کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
میرا کام تھا آپ تک یہ ویڈیو پہنچاؤں اب آپکا کام ہے اسے ہر جگہ پھیلانا
“اسٹیبلشمنٹ کا کارندہ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں ناسمجھ ہوں، اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ناسمجھی ہے تو میں یہ ناسمجھی بار بار کروں گا”۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
باری باری سب کی باری، ظلم کی باری ہر باری!
نہ غریب کی عزت محفوظ، نہ امیر کی جان و مال۔
قصور میں پیرا فورس کے اہلکاروں کا غریب ریڑھی بان پر تشدد،
وردی کے نام پر طاقت کے بے جا استعمال کی ایک اور افسوسناک مثال ہے۔ جنہیں عوام کے جان و مال اور عزت کا محافظ بنایا گیا تھا، وہی عوام کو سرِعام تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنانے لگے ہیں۔
غریب آدمی پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اوپر سے اگر ریاستی اختیار رکھنے والے ہی اس کی عزت اور روزگار پر حملہ کریں تو وہ فریاد کس سے کرے؟
مریم نواز! صرف وردی پہنانا کافی نہیں، ان اہلکاروں کی اخلاقی تربیت، قانون کی پاسداری اور عوام سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی تربیت بھی ضروری ہے۔
وردی کسی کو عوام کی تذلیل، تشدد یا طاقت کے غلط استعمال کا لائسنس نہیں دیتی۔
#مینڈیٹ_چور_بےشرم_حکمران
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
سہیل آفریدی کی آج کی مکمل پریس کانفرنس
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک صوبائی وزیر اور چند ممبران قومی و صوبائی اسمبلی و کارکنان و پارٹی عہدیداران اغواء ہیں اور پھر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف ایک انتشاری جماعت ہے
ایسے دستور پر لعنت ہے ایسے قانون پر لعنت ہے ایسے انصاف کے اداروں پر لعنت ہے جو اس ملک میں لاقانونیت کا کھلم کھلا ساتھ دے رہے ہیں
عاصم منیر کے پاس دو راستے ہیں یا سرنڈر کرے یا مارشل لا لگائے۔
اگر مارشل لا بھی لگا تو یہ ایک کمزور ترین مارشل لا ہوگا۔
عاصم منیر صاحب! میلہ لُٹنے والا ہے۔ یہی کنٹینر آپ کے گلے پڑیں گے۔
میری ساری عمر تحریکوں میں گزری ہے۔ یہ تحریک تو آپ نہیں روک سکتے۔ مشورہ ہے بندوقیں پھینکیں، اور مشورہ اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ عاصم منیر کے دیرینہ ماموں بابر شاہ میرے ورکر تھے۔ اب تو وہ اور وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف کے والد بشیر الدین محمود ہمیشہ اسلام آباد میں میرے گھر آ جایا کرتے تھے۔ اگر میں گھر پر موجود نہ ہوتا تو میرے نوکر گھر پر ہوتے اور وہ آ کر ان کے پاس بیٹھے رہتے۔
اس لیے میرا مشورہ خلوصِ دل سے ہے۔
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا ):
علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی، تینوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ آپ کی ہمت اور جرات کو سلام۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں، سہیل آفریدی، آپ بھی آپ کو یہ جنگ جیتنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اتنا ڈرا ہوا کسی ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔ یہ بیچارے کنٹینر جمع کرتے رہیں گے اور احتجاج میں یہی کنٹینر ان کی شکست کا باعث ہونگے۔
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا