🚨 بنوں آپریشن میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی: حافظ گل بہادر گروپ کے ہائی ویلیو ٹارگٹس ڈھیر
♦️ ذرائع کے مطابق بنوں میں جاری آپریشن کے دوران حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا.
‼️بریکنگ
01 اگست 2026
لکی مروت
لکی مروت میں شہداء پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا ڈی پی او آفس کے باہر احتجاج۔
مظاہرین کس آئی جی پی خیبرپختونخوا اور صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔
احتجاج میں شہداء پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
حکومت نے کشمیر میں تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کے مطابق شہداء کی تعداد 80 تک پہنچ چکی ہے۔ حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
مولانا فضل الرحمان کا ویڈیو پیغام
یہ پاکستان ھے ھم سب کا مشترکہ وطن، یہ پاکستان ایک آئین کے تحت چلتا ھے جیسا کہ ھمیں بتایا گیا ھے اور اس آئین نے ھر ایک کے لیے حدود متعین کردی ھیں لیکن ایک عجیب منظر ھمارے سامنے ھے
قصور کے جلسے کے بعد کچھ صحافی اپنے یوٹیوب چینلز سے مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف میدان میں آئے گالیاں دیں الزامات لگائے غداری کے فتوے لگاۓ دشنام طرازی کی اور جو غلاظت نکالی جاسکتی تھی وہ نکالی گئی،
لیکن اس سے بھی عجیب بات یہ کہ ISPR کے زیراھتمام ورکشاپس ھوتی ھیں ان میں انہی لوگوں کو دعوت دے کر بلایا جاتا ھے، ابھی حال ھی میں پچھلے ھفتے کوئٹہ کینٹ کا دورہ کروایا تو یہی لوگ شریک تھے اب کل ھی ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے دارالحکومت میں فیلڈ مارشل صاحب مہمان خصوصی تھے تو وھی لوگ اور چہرے تھے جو پچھلے دس دن سے مولانا صاحب کو گالیاں دے رھے ھیں۔
تو @OfficialDGISPRصاحب بحیثیت ایک پاکستانی کے میرا سوال ھے کہ آخر ھمارے خون پسینے کی کمائی سے ان لوگوں کی آبیاری کیوں کی جارھی ھے جو سیاسی لوگوں اور جماعتوں کو گالیاں دیتے ھیں؟؟؟ آپ ان کو اون کرتے ھیں یا اس سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟ اگر آپ ان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کرینگے تو انگلیاں آپ کی طرف اٹھیں گی۔ دعوت فکر ھے
آپ ملاحظہ کیجئے
#مولانا_چھاگئے
#کرپٹ_چوکیدار
#کالےچینلز_کی_مشتاقیاں
#پیڈ_ٹرینڈ_فلاپ
#کرائے_کے_باکو
جمعیت کے ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل راحت اندوری کی زبان میں “مشتاق نظروں” کی طرف دیکھتے ھوئے یوں مخاطب ھیں۔
جاکے یہ کہہ دےکوئ شعلوں سے، چنگاری سے
پھول اس بار کھلے ھیں بڑی تیاری سے
مدتوں بعد یوں تبدیل ھوا ھے موسم
جیسے چھٹکارا ملا ھو کسی بیماری سے
#مولانا_کا_کڑوا_سچ
#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
جمعیت کے ابابیلوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
تم کہتے ہو فضل الرحمان معافی مانگے میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس جرنیل کے دفتر سے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا اسے معافی مانگنا ہو گی ! مولانا فضل الرحمان ۔
#مرد_آہن_مولانا
بس ٹیم میں ایک،،خواجہ سرا،،کی کمی ہے اور مفتی قوی کی۔ یہ دونوں بھی ساتھ ملائیں۔
ٹیم مکمل ہوجائیگی۔ میرا مشورہ ہے کہ ٹیم کا کپتان بھی خواجہ سرا ہونا چاہئیے۔
عوام بتائیں ٹیم کیسی لگ رہی ہے؟؟