ابھی تو مودی و یہودی اور انکے حمائتی وظیفہ خواروں کو قیصر و کسری کے درمیان صلح ہضم نہیں ہوئی تھی پاکستان و سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ درد کر رہا تھا کہ پاکستان نے ترکی کو دائیں بازو اور سعودی عرب کو بائیں بازو سے پکڑ کر ایک تکون بنادی ہے۔ یہ حیران کن عجوبہ ہوا ہے کیونکہ تاریح کی یادداشتوں میں سلطنت عثمانیہ ترک تھے اور ��ولاد سعود نے ان سے بادشاہت حاصل کی ہے۔
چشم بد دور🙏🙏🤲🤲🤲🤲
عرفان ایزد ایڈووکیٹ کی وال سے
@IrfanAizadAdv
یہ اسلامی ممالک جتنے مرضی دفاعی معاہدے کرلیں لیکن رہیں گے امریکہ اور یورپ کے کتے ہی ۔۔۔
کچھ عرصہ قبل شکریہ راحیل شریف کی سربراہی میں 57 ممالک کی اسلامی فوج بھی بنائی تھی لیکن امریکہ کتوں کی طرح اسلامی ممالک کو ذلیل کررہا ہے اور راحیل شریف اور اسکی فوج کتے کی طرح سوئی مری پڑی ہے
یہ اتنا بڑا ��عاہدہ ہے کہ کم از کم ڈیڑھ سو سال کی تاریخ کا دھارا بدل گیا ہے۔
بخدا اس وقت جس قدر دل شکر سے معمور ہے اتنا ہی شدید غصہ بھی اس نااہل ترین حکومتی کارندوں پر جو میڈیا پر ٹائیں ٹائیں بھی نہیں کر سکتے اور نئی نسل کو بھی نہیں بتا سکتے کہ مشرق سے نیا سورج طلوع ہو رہا ہے
خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔
اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے ن��جوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھان��یاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظ��یات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟
میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک ��یں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔
اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
ہمارے شہداء پوری قوم کے ہیرو ہیں۔۔ وہ ہمارے محسن ہیں ہم انکے احسان کا بدلہ چکا ہی نہیں سکتے۔
اس پر سب کا اتفاق ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
مگر کبھی غصے میں آکر سخت بات بھی ہو جاتی ہے
مولانا کی غصے میں کی گئی باتوں کے پس منظر پر بھی غور ہونا چاہیے۔
یہ تو لاعلمی کا شور ہے اور شعور کی لا علمی
عوام نے شور کیا لاعلمی میں اور آپ شعور کی لاعلمی کی وجہ سے اچکزئی اور مینگل صاحبان کا مولانا کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
مولانا فضل الرحمان صاحب کے بیان پر اب مزید بحث نہیں ہونی چاہئے، ایسے بیانات تو محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل ہر وقت دیتے ہیں، تو پھر مولانا صاحب کیلئے یہ پیمانہ الگ کیوں؟؟؟
مولانا فضل الرحمان اور ان کے سینکڑوں ساتھی علما نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد فتوے دیئے ہیں۔ ان پر کئی بار حملے ہوئے، ان کی جماعت کے درجنوں علما اور سینکڑوں کارکنوں کو دہشت گردوں نے شہید کیا۔ ان کا علاقہ بدترین دہشت گردی کا شکار ہے۔ ان کی ناراضگی کو برداشت کرنے اور ان سے مکالمہ کرنے میں ہی بہتری ہے۔