مفکر اسلام مفتی محمودؒ اور پاکستان
ایک تاریخی حقیقت
تحریر: سمیع سواتی
قسط نمبر _01
پاکستان کے قیام کو آج کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر ہماری قومی تاریخ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض شخصیات کے بارے میں تاریخی حقائق کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر بارہا پھیلایا گیا کہ وہ پاکستان کے قیام کے مخالف تھے، یا خدانخواستہ پاکستان کے قیام میں شریک ہونا کسی گناہ کے مترادف سمجھتے تھے۔
مگر مفتی محمودؒ کے اپنے بیان کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ تاثر نہ صرف یک طرفہ ہے بلکہ ان کے سیاسی و فکری مؤقف کی مکمل تصویر بھی پیش نہیں کرتا۔
پاکستان سے پہلے کا اختلاف، پاکستان کے بعد کا فیصلہ
مفتی محمودؒ کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قیامِ پاکستان سے قبل مختلف سیاسی فارمولوں اور آئینی تجاویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ مسلمانوں کے سیاسی، مذہبی اور اجتماعی حقوق کا تحفظ تھا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے:
قیامِ پاکستان سے پہلے کسی سیاسی فارمولے سے اختلاف کو پاکستان دشمنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مفتی محمودؒ کا بنیادی سوال یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کس نظام اور کس سیاسی بندوبست کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی و آئینی بحث تھی، پاکستان سے دشمنی نہیں۔
پھر جب پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوگیا تو مفتی محمودؒ نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے میں کوئی ابہام نہیں رکھا۔
ان کے اپنے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان بن جانے کے بعد یہ ایک قطعی فیصلہ تھا اور جمہوری اصول کے تحت فیصلے کو تسلیم کرنا لازم تھا۔ چنانچہ ان کی جماعت نے اعلان کیا کہ اب پاکستان کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کے استحکام، ترقی، بقا اور نظریے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔
یہ ایک ایسی واضح شہادت ہے جس کے بعد یہ کہنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے کہ مفتی محمودؒ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے تھے یا اس کی بقا کے مخالف تھے۔
پاکستان کے خلاف نہیں، پاکستان کی تکمیل کے لیے جدوجہد
مفتی محمودؒ کی سیاست کا ایک بنیادی پہلو یہ تھا کہ وہ پاکستان کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے جہاں اسلامی نظریۂ حیات کو عملی صورت ملنی چاہیے۔
وہ خود بیان کرتے ہیں کہ پاکستان ان کا ملک تھا، کیونکہ وہ اسی خطے میں پیدا ہوئے تھے، اور پاکستان کی بقا و سلامتی اور اسلامی نظریۂ حیات کے لیے جدوجہد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے طویل عرصے کو اسی مقصد کے لیے جدوجہد سے تعبیر کرتے ہیں اور پاکستان کے لیے اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہیں۔
یہاں سے ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے:
مفتی محمودؒ کی جدوجہد پاکستان کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی وعدے کو پورا کرنے کے لیے تھی۔
وہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے تو پھر اس میں اسلامی نظامِ حیات، اسلامی معاشی اصول اور اسلامی عدل و انصاف کیوں نافذ نہ ہوں؟
یہ سوال پاکستان سے دشمنی کا نہیں، بلکہ پاکستان کے نظریاتی تشخص سے وابستگی کا سوال تھا۔
پاکستان کا مطلب صرف سرحد نہیں، ایک نظریہ بھی ہے
مفتی محمودؒ کی گفتگو میں اسلامی معاشی نظام، سود سے پاک بینکاری، معاشرتی عدل، غریبوں کے حقوق، روزگار، ریاست کی ذمہ داری اور اسلامی اخلاقیات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستان ایک اسلامی نظریے کے نام پر قائم ہوا ہے تو اس ریاست میں اسلام کے معاشی و معاشرتی اصول بھی نظر آنے چاہئیں۔
اسی لیے ان کی تنقید کو پاکستان مخالف کہنا درست نہیں۔ وہ پاکستان کے وجود کو چیلنج نہیں کر رہے تھے؛ وہ پاکستان کے نظام، سمت اور عملی کردار پر سوال اٹھا رہے تھے۔
یہی فرق آج سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جمعیت علماء اسلام کا مؤقف بھی بالکل واضح تھا
مفتی محمودؒ کے بیان میں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ان کی جماعت نے پاکستان کو تسلیم کیا اور اس کی ترقی، بقا، استحکام اور نظریاتی بنیاد کے لیے جدوجہد کا عزم کیا۔
لہٰذا جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کے لیے یہ بات باعثِ فخر ہونی چاہیے کہ ان کے اکابر نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نظریاتی تشخص کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔
یہی وجہ ہے کہ مفتی محمودؒ کی سیاست کو محض اس بنیاد پر سمجھنا کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے مسلم لیگ کی بعض حکمتِ عملیوں یا سیاسی تجاویز سے اختلاف رکھتے تھے، تاریخی ناانصافی ہوگی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مفتی محمودؒ پاکستان کے حامی تھے یا مخالف۔۔۔ جاری ہے
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوھر علی خان کی رہائش گاہ آمد
مولانا فضل الرحمان نے بیرسٹر گوہر سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کی
مولانا فضل الرحمان نے مرحومہ کی بلندی درجات اور مغفرت کی دعاء کی
اللہ کریم مرحومہ کی کامل مغفرت فرماکر اعلی علیین میں مقام عطاء فرمائے،مولانا فضل الرحمان
ماں جیسی شفیق اور پیار کرنے والی ذات کی رحلت یقینا بڑا صدمہ ہے،مولانا فضل الرحمان
ماں کا کوئی نعم البدل نہیں،مولانا فضل الرحمان
اس موقع پر پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی، طارق بلوچ موجود تھے
بقول ایک انگریز: جب آزادی کی تحریک کے مجاہدین کوتوپوں کےسامنے اڑانے کافیصلہ ہوا۔
توہزاروں قیدیوں میں ایک ایک سےتنہائی میں کہاگیا۔
صرف اتناکہہ دو کہ میرااس تحریک سے کوئی تعلق نہیں جان بچ جائےگی۔
ہزاروں اڑگئے مگرکسی ایک نےبھی یہ کہنے سے انکار کردیا۔
@MoulanaOfficial#teamJUIgulf
حافظ صاحب کا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ حکومت پر بہترین، بروقت اور معنی خیز تبصرہ—چند الفاظ میں پوری سیاسی بساط کا نقشہ کھینچ دیا، اور اقتدار کے اس حسین ’’اتحاد‘‘ کی حقیقت بھی آشکار کر دی۔
پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں ھونے والا دفاعی معاہدہ پوری مسلم دنیا کے لئے نہایت خوشی کی خبر ھے تینوں حکومتیں اس تاریخ ساز معاھدے پر جو بیت اللہ کے بالکل قریب ھوا مبارکباد کی مستحق ہیں اللہ تعالی اسکو امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بنائیں آمین
انتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
جی ابابیلو!
ان دنوں یقیناً ایکس پر کچھ مزہ نہیں آ رہا ہوگا، ایک جیسی صورتحال ہے ، کیونکہ ہم تحریکی لوگ ہیں اور قیادت سے ملنے والی دلیل کی طاقت ہی ہمارا اصل زیور ہے۔
فی الحال جب غلاظت کے منہ بند ہیں تو کیوں نہ اس فرصت کو غنیمت جان کر اپنی صفوں کو مضبوط اور مربوط کریں؟
جیسے فیس بک پر ہم ایک مضبوط کمیونٹی بن چکے ہیں، ویسے ہی ایکس پر بھی ایک دوسرے سے جڑیں۔ روزانہ باقاعدگی سے سرگرم رہیں، جماعتی سرگرمیوں، قیادت کے مؤقف اور اپنی مثبت آواز کو بھرپور انداز میں آگے بڑھائیں۔
فالو اور فالو بیک دن میں 4،5 مرتبہ وقفے سے ضرور کریں۔ حد پوری ہوجائے تو کچھ دیر وقفہ، پھر دوبارہ سلسلہ جاری۔ ساتھ ہی ایک دوسرے کی مفید پوسٹس پر حقیقی لائک، ری پوسٹ اور ریپلائی بھی باقاعدگی سے کریں ۔
یاد رکھیں! فالوورز ایک دن میں ہزاروں نہیں بڑھیں گے، مگر تسلسل، نظم اور باہمی تعاون سے آہستہ آہستہ سب کے فالوورز ہزاروں میں پہنچ سکتے ہیں۔
میری دیرینہ خواہش ہے کہ ہر ابابیل کی آواز ہزاروں لوگوں تک پہنچے۔ اسی مقصد کے لیے فالوورز مہم شروع کرنے کا ارادہ ہے، لیکن کامیابی تب ہی ہوگی جب آپ سب بات مانیں گے اور عملی تعاون کریں گے۔
احباب مشورہ بھی دیں۔
ایسا کون سا آسان، منظم اور مؤثر طریقہ اپنایا جائے جس سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ساتھیوں کے فالوورز بڑھ سکیں؟
آئیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اپنی آواز کو مضبوط کریں اور ایکس پر بھی اپنی صفوں کو منظم و مربوط کریں۔
(نوٹ پوسٹ پوری پڑھیں اور سب تک پہنچائیں )
سب سے پہلے ان تمام اکاونٹس کو فالو کریں ۔
@MoulanaOfficial@juipakofficial@ziaurrehman76@SoomroOfficial
آج سے سال ڈیڑھ سال پہلے کے مولانا فضل الرحمن صاحب کے الفاظ۔
فرق صرف اتنا ھے کہ محسن نقوی 1973 کے آئینی پارلیمانی نظام کے کولیپس ھونے کی بات کررھے ھیں جبکہ مولانا فضل الرحمن صاحب اس ھائبرڈ نظام کے کولیپس ھونے کی بات کررھے جس کے محسن نقوی وکیل ھیں
آج بھی اگر انسانیت کوامن کا پیغام دے سکتاہے تو وہ دین اسلام ہوسکتا ہے۔❤
صد سالہ اجتماع سے قائد ملّت اسلامیہ کا تاریخی خطاب
@marwat_anis . @MudasirFurqan
یہاں اسٹیج پر باتیں ہوئیں، پنجاب کے زمیندار کی، پنجاب کے کسان کی، پنجاب کے مزدور کی۔ میں پاکستان کے پنجاب کے کسان کو پیغام دینا چاہتا ہوں، میں پنجاب کے مزدور کو پیغام دینا چاہتا ہوں، آپ بے فکر ہو جائیے، وڈیروں کا، چودھریوں کا، سرداروں کا بھوت اپنے سروں سے اتار لیجیے۔ یہ جنگ جمعیۃ علماء اسلام لڑے گی۔ اگر تیرے گریبان میں کسی طاقتور کا ہاتھ پڑا، جمعیۃ علماء اسلام اس ہاتھ کو توڑ کر رکھ دے گی۔ اگر کسی جابر نے آپ کے گلے میں ہاتھ ڈالا، اس جابر کا ہاتھ توڑ دیا جائے گا۔ اور ہم نے پاکستان میں، ہم نے خیبر پختونخوا میں، ہم نے بلوچستان میں بڑے بڑے خوانین، بڑے بڑے نواب، جو اپنے آپ کو خدا کہا کرتے تھے، ان کی خدائی کو اگر زمین بوس کیا ہے تو پنجاب کے چودھری اور نواب کی خدائی کو بھی ہم ہی زمین بوس کر سکتے ہیں۔
آپ ذرا ارادہ تو بدلیں، پاکستان کا اور پنجاب کا کسان ذرا اپنی رائے تو بدلے، اپنے اندر خودداری تو پیدا کرے۔ یہ لوگ تھانے کی سیاست کرتے ہیں، یہ لوگ پولیس سے مل کر تمہیں گرفتار کراتے ہیں، تھانوں میں پولیس کے ہاتھوں تمہاری تذلیل کراتے ہیں، اور پھر تذلیل کرانے کے بعد تھانے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: "سائیں، یہ تو ہمارا بندہ ہے، اس کو رہا کرو۔" بظاہر وہ آپ کا خیر خواہ بنتا ہے، لیکن آپ کی تذلیل کے پیچھے بھی اسی کی سازش اور اسی کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قصور میں خطاب
#مولانا_کی_للکار
اپنے نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم آپ کو کلاشنکوف اور پیسہ دینگے آپ لشکر بنائیں”
اگر ہمیں خود ہی لشکر کشی کرنی ہے، تو پھر ہم آپ کو ٹیکس کس بات کا دیتے ہیں؟
#JusticeForBalochistan