پاکستانی معاشرے کا سب سے بڑا دشمن؛
اس بے پاکستان کی شوبز کو تباہ کیا، اور پاکستان کے پاس صرف ایک پراڈکٹ تھی جو اسے دنیا بھر کے گھروں میں ٹی وی کے ذریعے لے کے جاتی تھی وہ تھی کرکٹ، اس بیماری کو جب کرکٹ اکیڈمی میں لے جایا گیا اس نے اسکو بھی برباد کر دیا۔
صدرالدین ہشوانی پی سی اور میریٹ ہوٹل کے مالک ہیں
جن پر فوج قبضہ کرنا چاہتی ہے جو تقریباً قبضے کے قریب ہے۔
ہشوانی خاندان اعلیٰ ظرف اور اصول پرست ہے مگر ملک سے محبت کی وجہ سے انہیں دس سال پہلے ملک بدر کر دیا گیا تھا۔
جنرلز اور زرداری مل کر ان کے تمام کاروبار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
پی سی ہوٹل پر تقریبا قبضہ مکمل ہو چکا ہے
Held a detailed telephone conversation with my brother President Masoud Pezeshkian of Iran earlier today, lasting over one hour.
I reiterated Pakistan’s strong condemnation of the continued Israeli attacks on Iran, including recent strikes on civilian infrastructure, and conveyed Pakistan’s solidarity with the brave people of Iran. Expressed, once again, my condolences on the tragic loss of precious lives and prayed for the swift recovery of the injured and displaced.
Also thanked him for his appreciation of Pakistan’s sincere efforts to advance peace and facilitate dialogue in the region.
I apprised him of Pakistan’s ongoing diplomatic outreach - engaging the United States and brotherly Gulf and Islamic countries - to facilitate dialogue and de-escalation.
@drpezeshkian
35 سال کی سروس کے بعد ایک وفاقی سیکرٹری کو 6-7 ملین روپے کی گریجویٹی ملتی ہے۔ ا جج جنہوں نے استعفیٰ دیا (ریٹائرڈ نہیں ہوا!) ہر ایک 161-156 ملین روپے لے کر چلے گئے! 🤯 اگر کوئی سیکرٹری استعفیٰ دیتا ہے تو انہیں صفر ملتا ہے۔ کیا یہ ناانصافی نہیں ہے؟ یہ جج ریٹائرمنٹ کے فوائد کے لیے اہل نہیں تھے لیکن بہرحال انہیں بھاری ادائیگیاں ملیں ۔ ایک جج 80 کی دہائی میں سی ایس ایس میں فیل ہو گیا 😊 کیا اس طرح کی ادائیگیوں میں شفافیت اور انصاف نہیں ہونا
چاہیے ۔۔
ایک پارلیمٹیرین چاہے وہ 40سال بھی پارلیمنٹ کا ممبر رہے اسکو نہ کوئ پلاٹ ، نہ پنشن نہ گاڑی نہ سٹاف صرف اور صرف تنخواہ جو چند ماہ سے ساڑھے چار لاکھ ھوئ ھے اس سے پہلے پونے دولاکھ تھی۔ گالیاں اور قید بونس میں ملتی ھے۔
یہ دو جج جو بنتا تھا اور جو نہیں بنتا تھا سب کچھ سمیٹ خوشی خوشی گھر چلے and will live happily ever after۔
#FairnessInPensions #Transparency #AccountabilityMatters
The lights of Christmas are illuminating every corner of Punjab! The glow of these decorations reflects the vibrant mosaic of our province where all religions are represented and respected.
To our Christian brothers and sisters, your joy is our joy. We celebrate this season of hope and peace together as one family.
Merry Christmas to everyone celebrating.
عالی مرتبت! یہ کوئی ہار نہیں، متحدہ عرب امارات کا دوسرا اہم ترین سول اعزاز "آرڈر آف دی یونین" ہے، جیسا کہ "ہلال پاکستان" ہے۔ خیر۔۔۔ دو ڈھائی سال میں ایک ملین کی ریچ، 47 ہزار لائیکس، سب نے تالیاں بجائیں، واہ واہ بھی ہو گئی۔ سچ جان کر کیا کرنا ہے، سب اپنے اپنے جھوٹ میں خوش ہیں۔۔۔
جسٹس جہانگیری صاحب کا کیس بالکل سادہ سا تھا۔ رٹ آف کو وارنٹو کی بنیاد یہ LLB پارٹ ون اور LLB پارٹ ٹو کے جعلی تیار کردہ رزلٹ کارڈز/مارک شیٹس/سرٹیفکیٹس تھے۔۔ ان کے اوپر جعلی انرولمنٹ نمبر لکھے، انکے اوپر مختلف نام اور ولدیت استعمال کئے، گورنمنٹ اسلامیہ کالج کا نام جعلسازی سے استعمال کیا، کالج کے پرنسپل نے کہا کہ طارق محمود نام کا طالب علم کبھی انکے کالج کا طالب علم ہی نہیں رہا۔ اسکے بعد جعلی تیار کردہ ایک پارٹ ٹو کے رزلٹ کارڈ کی بنیاد پر کراچی یونیورسٹی کے ساتھ ملی بھگت کرکے ڈگری حاصل کی، جعلی ڈگری کی بنیاد پر وکالت کا لائسنس لیا اور اس لائسنس کی بنیاد پر ہائیکورٹ کے جج بنے۔
سپریم کورٹ کے لاتعداد فیصلے کہتے ہیں کہ اگر بنیاد غلط ہوگی تو اس پر تعمیر کردہ تمام عمارت غیرقانونی ہوگی۔
بس اتنا سا کیس تھا۔ ڈیڑھ برس تک جج صاحب نے ان جعلی رزلٹ کارڈز کا جواب نہیں دیا، باقی ہر حربہ استعمال کیا، ہر مئوقف اختیار کیا۔
@xadeejourno
فیض حمید نے سزائے موت کے دو دہشت گرد مسلم خان اور محمود خان کی سزا معافی کے لئے پہلے جنرل باجوہ کو کنونس کیا پھر فیض حمید نے عمران خان کو راضی کیا عمران خان نے صدر عارف علوی سے سزا معاف کروائی حامد میر یہ تھا وہ ایک پیچ جسکی وجہ سے آج ملک میں دہشت گردی ہے
کل تک تو یہ موصوف یہ ماننے سے منکر تھے کہ نو مئی ہوا بھی نہی پھر فالس فلیگ کہتے رہے اب نہایت مہارت سے عمران اور تحریک انصاف کو بچا کر معاملہ سارا جنرل فیض کے کھاتے ڈال دیا بہترین سپن ڈاکٹر ہیں
منافقت میں ان صاحب کا دنیا میں ثانی کوئی نہی ہے
یہ ہوتا ہے جب آپ کو واٹس ایپ پر میسیج ملے اور آپ اُسے ٹوئٹر پر کاپی پیسٹ کردیں ۔ جو کانفرنس 21 نومبر کو ختم ہورہی تھی اُس میں حامد میر کا پسندیدہ صحافی چوبیس نومبر کو جارہا تھا ۔۔ اندازہ لگائیں ۔۔۔۔
اعزاز سید نے عمر چیمہ کے ساتھ بیٹھ کر پہلے دو کنفرم نام بتائے تھے ایک جنرل اظہر عباس اور دوسرا نام جنرل فیض حمید کا تھا اب انہوں نے اچانک جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے چوبیس گھنٹے بعد ان کا نام لے دیا ہے۔
یہ ہے ان کی ٹوٹل صحافت!
@AzazSyed
حقانی صاحب امریکہ میں سفیر رہے پالیسی کو بہتر سمجھتے اور سمجھا بھی رہے ہیں باقی میر صاحب اس حکومت کے سب سے لاڈلے اور عطا تارڑ صاحب کے سب سے قریبی دوست ہیں تازہ تازہ ایوارڈ یافتہ ہے روز ان کی گپ شپ ہوتی ہے ہر چیز میں نوازے جاتے ہیں ان کے بارے ہم نے اب کیا کہنا ہے انکا کام شرارت ہے