اپوزیشن میں کیسے کیسے چیمپئن بنے ہوتے ہیں : آج سے 6 برس پہلے یعنی 2020 میں لیگی ایم این اے اے کی جانب سے نون لیگ کے رہنما محسن شاہ نواز رانجھا نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی کہ قومی خزانے سے کوئی اپنی پبلسٹی کیسے کر سکتا ہے ؟ پی ٹی آئی کے جھنڈے کے رنگ میں صحت کارڈ بنانا غیر قانونی قرار دیا جائے ۔۔۔۔
ویسے پوچھنا تھا آج مسلم لیگ نون کی حکومت ہے اس میں قومی خزانے سے کوئی ذاتی تشہیر تو نہیں ہو رہی ؟؟ کیونکہ حکومت میں آنے سے پہلے تو ان کو کارڈ پر مخلاف پارٹی کے جھنڈے کا رنگ رکھنے پر بھی اعتراض تھا
آج ایک عظیم خاتون کی برسی ہے جس کی خاطر شیخ مجیب ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا تھا اسی خاتون کو جنرل ایوب نے اپنی فوجی آمریت کو مضبوط کرنے کیلیے غدار اور سیکورٹی رسک قرار دیا تھا اس خاتون کی برسی ہے جس کے متعلق جب اسٹیبلیشمنٹ کے نور نظر بھٹو نےکہا تھا یہ شادی کیوں نہی کرتی تو اس جملے کو سن کر ایک برطانوی صحافی رو پڑا تھا کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس عورت پر الزام لگاتی ہے جسے یہ مادر ملت یعنی قوم کی ماں کہتی ہے، جس روز جنرل ایوب نے جب اسکو دھاندلی سے ہرایا تو اس وقت متحدہ پاکستان بھی ہارگیا .. فاطمہ جناح ملت کے پاسبان کی بہن جیت جاتی توپاکستان واقعی آج ایشین ٹائیگر ہوتا اس دھاندلی کی سزا آج تک پاکستان بھگت رہا ہے،،،
پاکستان کی تاریخ میں اس سے سنہرا موقع نہ آیا اور نہ شاید کبھی آئے، PTI کو فوری طور پر وزیراعظم کا 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کا مطالبہ مان لینا چاہیے۔ چُھری خربوزہ پر گرے یا خربوزہ چُھری پر، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے، الیکشن 2018 کا کُھلے یا 2024 کا، نقصان الیکشن چوری کرنیوالوں کا ہی ہو گا، لہذا یہ ہائبرڈ نظام زہر کا پیالہ تو پی لے گا مگر 2018 الیکشن کی تحقیقات نہیں کروائے گا۔ لیکن اب تو وزیراعطم قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر پیشکش کر چکے ہیں، اب ن لیگ آگے آگے اور اپوزیشن کو پیچھے پیچھے بھاگنا چاہیے کہ کھولو 2018 کا الیکشن۔ روز اس پر پریس کانفرنس کریں، اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج کریں، سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیں کہ کھولو 2018 کا الیکشن۔ ریاست 2024 کی چوری بچانے کیلئے کبھی 2018 نہیں کھولے گی لیکن اپوزیشن کی جیت دونوں صورتوں میں ہو گی
قرآنی کائناتی ماڈل اور سائنس کا تقابل کسی بھی طرح مناسب اور منطقی نہیں نہ اس کی ضرورت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے سائنس ابھی ارتقا کی منزلیں طے کر رہی ہے تو قرآن کی سمجھ بوجھ بھی ایک ارتقائی عمل ہے
ہم سائنس کے سابقہ قوانین یا قرآن کی پرانی تفاسیر کی بنیاد پر اس لئے یہ تقابل نہیں کر سکتے کہ دونوں پر ابھی بہت کام باقی ہے۔ سائنسی قوانین اور قدیم علماء کی قرآن کی تفسیر دونوں کئی جگہ اگر غلط نہیں تو نامکمل ضرور ثابت ہوئے ہیں
جس طرح سائنس ارتقا پذیر ہے اسی طرح قرآن کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ
هو القرآن يفسره زمان۔ یعنی قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں انسان علم کی منازل طے کرے گا ویسے ویسے قرآن کی تفہیم میں وسعت آئیگی
جب ہم کسی دور کی نامکمل سائنس کو قرآن پر زبردستی فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا پرانی تفاسیر میں لکھی ہوئی انسانی آراء کو آخری قرآنی سچائی مان لیتے ہیں، تو ہم دونوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہوتے ہیں۔
پچھلی صدیوں میں کائنات کے بارے میں جو سائنسی تصورات حتمی سمجھے جاتے تھے، آج وہ بدل چکے ہیں۔
اسی طرح، پرانے دور کے مفسرین نے اپنے دور کے مشاہدات اور لغوی تفہیم کے مطابق جو باتیں لکھیں، وہ ان کے دور کی ذہنی بساط کے مطابق درست تھیں، لیکن انہیں ہمیشہ کے لیے حرفِ آخر نہیں مانا جا سکتا۔
قرآن کا معجزہ ہی یہ ہے کہ یہ ایک "زندہ کتاب" ہے۔ یہ ہر دور کے انسان کے فکری اور سائنسی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اپنے معنی کے نئے افق کھولتی ہے۔
جیسے سائنس کائنات کی حقیقتوں کو گہرائی میں جا کر دریافت کر رہی ہے اور جیسے جیسے خود انسانی شعور ترقی کر رہا ہے، قرآن کے الفاظ (جیسے ارض، سماء، فلک) کے وہ پہلو نمایاں ہو رہے ہیں جن کا پہلے تصور بھی ممکن نہیں تھا۔
اس لیے تقابل یا ایک دوسرے کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کی دوڑ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اصل خوبصورتی اس بات میں ہے کہ ہم کائنات کے مشاہدے اور قرآنی تدبر دونوں کو ایک جاری و ساری سفر سمجھیں، جہاں سائنس اپنے مادی سفر میں آگے بڑھ رہی ہے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآنی اصطلاحات کی تفہیم خود بخود نکھر کر سامنے آ رہی ہے۔
https://t.co/aeowFONmdq - Watch full fideo -
ٹرمپ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایران کی جنگ سے کیسے جان چھڑائی جاے؟ نئے حملے پھر دوبارہ نیا ڈرافٹ؟ اور اسرائیل وزیراعظم کی پوری پوری کوشش ہے کہ امریکہ اس جنگ سے نہ نکل سکے! لبنان پہ بڑے حملے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں!
ہارڈ سٹیٹ کا کارنامہ: حکومت کی جانب سے 2 سال میں آئی ایم ایف سے 2,340 ارب روپے قرضہ لیا گیا جبکہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے 2,725 ارب روپے بٹور لئے گئے۔ جیو نیوز میں عاطف شیرازی کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض رقم سے زیادہ رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی گئی۔