جنھیں نامعلوم مسخ شدہ لاشوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے تو یہ رپورٹ @BBCUrdu کے صحافی @RiazSangi کی 4 سال قبل کی ہے ضرور دیکھیں بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کا قبرستان جو ناقابل شناخت ہوتے ہیں اور بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کیے دفنا دیے جاتے ہیں
#MarchAgainstBalochGenocide
اس سے قبل 28 ستمبر کو سکرنڈ سے 12 کلومیٹر دور کچے کے قصبے ماڑی جلبانی میں ہونے والے اس واقعے کے بارے میں پولیس اور رینجرز اعتراف کر چکے ہیں کہ یہ ہلاکتیں دراصل ان کی جوابی فائرنگ کے باعث ہوئی تھیں۔
https://t.co/pwoy5avmqF
کراچی سے لیکر کشمور تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ان میں غیر مقامی لوگوں کا استعمال کیا گیا ، ایک بھی سندھی ثابت نہیں ہوا ، تحقیقات میں مقامی معاونت ضرور ثابت ہوئی ، دوسرا بلوچستان کی آجوئی تحریک میں فدائی حملے کا رجحان آچکا ہے لیکن سندھ کی تحریک میں ایسی شدت نہیں آئی ، برگیڈیئر حارث واضح نہیں کرسکے کہ خودکش حملے کے مشتبہ عناصر کون ، کونسی تنظیم کیا نیٹ ورک #Sakrand
کراچی میں عدم برداشت کا ایک اور واقعہ ، سیکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر کلفٹن میں کھلونے بیچنے والے سات سالہ بچے کو گولی مارکر ہلاک کردیا ، ماں کئی گھنٹے لاش کے لیے منتیں کرتی رہے ، گارڈ نے لاش جھاڑیوں میں پہنکی فرار ہوگیا ، متاثرہ خاندان کا تعلق سکھر سے ہے @MuradAliShahPPP
#COP27 سندھ کے لوگ جو کلائمنٹ چینج کی دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں ، کبھی شدید بارشیں کبھی سیلاب و قحط ، خشک سالی اس صورتحال میں کم آمین کم خوراک اور نتیجہ کمزور بچے کمزور مائیں ، ایک ایسی نسل بن رہی ہے جس کی جسمانی اور ذہنی نشونما متاثر رہے گی
ٹی وی صحافت میں ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو نیوز ڈیسک کہلاتی ہے ، جس کے دباؤ کا ہر رپورٹر شکار رہتا ہے ، فلاں پر ٹکر چل گیا تم نے نہیں دیا، اس نے بریکنگ نیوز دی تم کہاں ہو، وہ وہاں پہنچ گیا تم کدھر مر گئے ہو ،“ سب سے پہلے ہم “ کی دوڑ کی قیمت کبھی کبھار بھاری ادا کرنا ہوتی ہے
آج صحافت کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ گیا ، جو خبریں اور ویڈیوز ایک گروپ سے دوسرے گروپ میں کھود کھود کر جاتی ہیں کچھ دیر کے لیے یہ اچھل کھود رک گئی واٹس ایپ بحال ہوتے ہیں دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہوگیا ، صحافی اللہ کے شکر گزار ہیں
واٹس ایپ کی عمر دراز ہو 🤲
ملالہ جس سوچ کا شکار ہوئی وہ سوچ آج بھی زندہ ہے ،ان کی آمد سے ایک روز جو اسکول وین پر حملہ ہوا وہ اس سوچ کی عکاس ہے ۔ یہ سوچ پاکستان تک محدود نہیں یہ ایران اور افغانستان میں بھی اس سوچ کو دیکھا جا سکتا ہے ،کل رات جب ان سے انٹرویو کے لیے گئے تو یقینن متاثر ہونے کے بغیر نہ رہے سکے
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک ایسی کمیونٹی رہتی ہے جو عبادت میں ذکر پر اعتقاد رکھتی ہیں ان کا سالانہ اجتماع ماہِ رمضان میں ہوتا ہے۔
🇵🇰📿🤲🏽 https://t.co/O2B1Yvd1yC
وزیراعظم ہاؤس میں عمران خان کی حکومت کے آخری چند گھنٹے کیسے گزرے؟
سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔
https://t.co/0z1Z6tx2q8