مراد سعید ملک کی طاقتور اور منافع بخش ترین وزارتوں میں سے ایک، وزارتِ مواصلات کے وفاقی وزیر رہے، مگر ان کا بھائی آج بھی خیبر پختونخوا حکومت میں گریڈ 9 کا ملازم ہے اور سرکاری کوارٹر میں رہتا ہے۔ کیا موروثی سیاست میں ایسی مثال مل سکتی ہے؟ یہی عمران خان کا پاکستان کے لیے تحفہ ہے؛ ایسے لوگ جو اقتدار میں آکر اپنی ذات اور خاندان نہیں، اصولوں اور عوام کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ مراد سعید صرف ایک سیاست دان نہیں، دیانت داری اور سادگی کی علامت ہیں۔ یہی تحریکِ انصاف کی اصل پہچان ہے
خیبر پختونخوا میں گورنر راج
ممبران کابینہ کے بعد کلیم سعید سے بھی سرکاری گھر خالی کروا لیا گیا
کلیم سعید کی والدہ جسمانی معذور ہیں جنہیں گود میں اٹھا کر گھر سے بے دخل کیا گیا
ان کیساتھ بدتمیزی بھی کی گئی اور سامان گھر سے نکالا گیا
کلیم سعید ٹی ایم اے کبل میں سکیل 9 کے ٹیکسیشن آفیسر ہیں اور سابق وفاقی وزیر مرادسعید کے بھائی ہیں
مذکورہ گھر ان سے نگران دور میں بھی خالی کروایا گیاتھا
کلیم سعید کینسر کے مریض اور زیر علاج ہیں
پوری قوم کو ان ججز کو یاد رکھنا چاہیے جو فاشزم کو سہولت فراہم کر رہے ہیں، جو قاضی اور منصف کہلاتے ہیں لیکن اپنے مفادات اور مراعات کی خاطر ظلم ہونے دے رہے ہیں!
#ShameOnJudges
نامعلوم (جو اب سب کو معلوم ہیں) نقاب پوش افراد کا ایم این اے اقبال آفریدی کو اور ان کے بیٹے عرفان آفریدی کو ان کے رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا ہے.
#AsimLaw
معدنیات کے ذریعے ڈاکہ ڈالنے کے لیے عاصم منیر نے ایمرجنسی لگائی۔ دن دہاڑے پاکستان پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
اسی عاصم منیر نے عمران خان اور اُس کی بہنوں کو ڈر کے مارے قید میں رکھا ہوا ہے۔ عمران خان کی بہنوں پر ایک مقدمہ نہیں ہے، 30 دن سے اوپر ہو گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ ایک مسنگ پرسن بن چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بھی قوم کو تمہاری دن دہاڑے ڈکیتی کے بارے میں بتایا۔ تمہیں ان سے تکلیف بھی اسی بات کی ہے۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف مہم چلا رہے ہو۔
یہ سب تم نے کر لیا ہے، عاصم منیر، لیکن حیثیت تمہاری وہی ہے جو ایران نے رکھی ہے۔ تمہارے مالک تمہیں استعمال کریں گے، تم بھی غلامی میں جھک جاؤ گے، لیکن اب ان کو بھی احساس ہو گا کہ تمہاری حیثیت کیا ہے!
قائدِاعظم نے تمہیں نوکر کہا تھا، نوکر بن کر رہو!
عمران خان اگست 2023 سے پاکستان میں قید ہیں اور گرتی صحت اور اپنی جماعت کی اجتماعی گرفتاریوں کے دوران 100 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ IHRF اسے سیاسی محرکات پر مبنی عدالتی انتقام سمجھتی ہے اور بلا الزام فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ #انسانی_حقوق https://t.co/4wAxv1vOxV
مراد سعید کی معذور و بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک، غیر اخلاقی اور پختون روایات کے منافی ہیں۔
مراد سعید کی والدہ دہشت گردی سے متاثرہ ہیں جو طویل عرصے سے بیمار ہے، جبکہ ان کے بھائی بھی کینسر کی جنگ لڑ رہا ہے، ایسے نازک حالات میں ایک شدید متاثرہ خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور شہریوں کی تذلیل کرنا بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سیاسی اختلافات کے باوجود بیمار خواتین، بزرگوں اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ بالکل اسکے متضاد ہو رہا ہے۔
متعلقہ حکام تھوڑی شرم کر لے پختون اور انسانی ریاوات کا ہی پاس رکھ لے آئین و قانون کا تو ویسے ہی جنازہ اٹھا لیا ہے۔
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر موجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
مراد سعید کا بھائی جو کہ غیر سیاسی ہے اور کینسر کا مریض ہے ہسپتال میں داخل ہے مراد سعید کی والدہ 17 سال قبل اپنے گھر میں بیٹھی تھی کہ افواج پاکستان کے ٹینک کا گولہ گھر پر لگنے سے ہمیشہ کیلئے معزور ہوگئی وہ سترہ سال سے نہ دیکھ سکتی ہے نہ سن سکتی ہے
اج اس کو اسی حالات میں گھر سے نکال دیا گیا گھر کا سامان باہر پھینک دیا گیا اور گھر کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا😢💔
My mother, @Aleema_KhanPK Aleema Khan’s 30-day detention period under the colonial-era Maintenance of Public Order (MPO) law has now expired.
Yet, despite the expiry of her 30-day detention period, we have received no further order from the Lahore High Court, nor any official communication from the Punjab Home Department or jail authorities explaining the legal basis for her continued detention or confirming her release.
On what legal grounds is she still being held? Why has she not been released?
Since the day she was abducted and subsequently detained under the MPO, she has been denied access to both her family and legal counsel. One of the strongest voices advocating for her brother, Imran Khan @ImranKhanPTI, has also been silenced.
Thirty days have passed. No family access. No legal access. No justice.
Are the authorities preparing to extend her detention for another 30 days? If so, on what grounds?
We demand her immediate release.
Not another day of silence, obstruction of justice, or denial of her most basic rights is acceptable.
#imrankhan
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
They thought locking him in illegal captivity and trying to erase him would make people forget. But hope cannot be imprisoned.
While those in power serve only themselves, his vision lives on through acts of giving and donations to the hospital he built—now multiple branches of Shaukat Khanum Memorial Hospital—healing those in need.
Even from behind bars, he remains with the people in spirit. True service for one's country can never be locked away.
#ReleaseImranKhan
پاکستان تحریک انصاف کاعمران خان ایڈیشن سے اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ ہے،یہی لوگ مزاحمت کا پرچم اٹھائے رکھے ہوئے ہیں یہ ایڈیشن اسٹیبلشمنٹ کو ناقابل قبول ہے اس لئے پاکستان تحریک انصاف کا اسٹیبلشمنٹ پسندیدہ ایڈیشن تیار کرنے کی کوشش میں ہیں،یہ مشرف دور کی ق لیگ کی طرح عسکری لیبارٹری میں تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب پارٹی ہوگی اسی لئے سہیل آفریدی نشانے پر ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے مخلص،وفادار ممبران پارلیمنٹ، لیڈرشپ کی اغواء، گرفتاری اور جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔اس وقت پاکستان کا پورا سیاسی سپیکٹرم بوٹوں کے سامنے جھک چکا ہے۔۔مزاحمت کا چراغ جیل میں قید عمران خان اور اس کے خاندان نے جلائے رکھا ہے اور معاشر میں تحریک انصاف کے مخلص وفادا پارلیمنٹرینز اور لیڈرشب نے۔۔۔مجھے یقین ہے کی عمران خان کا مخلص اور قربانی دینے والا ورکر اسٹیبلشمنٹ کی اس جمہوریت دشمن کوشش کو ناکام بنا دے گا اور یہ ٹابت کردے گا کہ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی مزاحمتی پارٹی ہے اور جیل میں موجود اپنے قائد سے مخلص اور وفادار ہے۔