بھائ کسان کو اچھا ریٹ ملا ہے اور ابھی بھی گندم صرف کسان کے پاس ہی ہے۔ اور وہ 4000 روپے سے زائد پر بیچ رہا ہے۔ آٹے اور روٹی کی قیمتوں کے استحکام کیلئے 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم آسانی سے ضرورت پوری کرے گی
جنت نظر وادی کشمیر میں کشمیریوں کے وکیل، قائد جناب محمد نواز شریف اور دختر کشمیر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی آمد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ قائدین 21 جولائی کو یونیورسٹی کالج گراؤنڈ، مظفر آباد میں پہلے عوامی اجتماع سے خطاب فرمائیں گے۔ ہم سب ہیں کشمیر، کشمیر ہے پاکستان
آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ثاقب مجید راجہ کے حلقے میں ننھے بچوں کا اپنے قائد میاں محمد نواز شریف سے والہانہ محبت کا اظہار دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔
یہ معصوم بچے اپنے ہاتھوں سے قائد کے استقبال کے لیے استقبالیہ پوسٹر آویزاں کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا یہ جذبہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نواز شریف کی محبت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔
شاباش میرے بہادر بچوں!
آپ کا یہ جوش و جذبہ قابلِ تحسین ہے۔ ان شاء اللہ، 21 جولائی کا دن کشمیری عوام کی اپنے محبوب قائد کے ساتھ والہانہ وابستگی کا تاریخی مظہر بنے گا۔
#SherInKashmir 🐅
وزیرِاعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی ہدایت پر مظفرگڑھ میں حکومتِ پنجاب کے منفرد عوامی فلاحی اقدام "سانجھی سبزی" کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اراضی پر کاشت کی جانے والی تازہ اور معیاری سبزیاں شہریوں کو بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ہر خاندان کو آسانی سے صحت بخش خوراک میسر آئے۔ یہ اقدام عوامی فلاح، غذائی تحفظ اور عوامی خدمت کے حکومتی عزم کی عملی ترجمانی ہے۔
عمیر بھائ ۔۔
گندم پالیسی 2026 میں تین ملین میٹرک ٹن کا ہدف ایک لازمی مقدار نہیں بلکہ "زیادہ سے زیادہ" (up to) کی حد کے طور پر شعوری طور پر رکھا گیا تھا۔ پالیسی کا بنیادی مقصد ایک مقررہ مقدار کی خریداری نہیں بلکہ کاشتکار کو اس کی پیداوار کا منصفانہ معاوضہ دلانا اور مارکیٹ کو مستحکم رکھنا تھا۔
2۔ حکومتی مداخلت کا اصل فلسفہ: مارکیٹ میں بڑے خریدار کی موجودگی
ایسی مداخلت کا مقصد ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت گندم کی منڈی میں بطور سب سے بڑے اور رجحان ساز خریدار (indicator buyer) اپنی موجودگی قائم کرے تاکہ کاشتکار کو بہتر نرخ کی ضمانت مل سکے۔ یہی وہ بنیادی فرق تھا جس کی بدولت اس سال کاشتکار کو بہتر قیمت ملی۔ حکومت نے 3500 روپے فی 40 کلوگرام کم از کم اسپاٹ قیمت مقرر کی اور ایگری گیٹرز نے اسی قیمت پر خریداری کا آغاز کیا۔ اس مداخلت کے نتیجے میں مارکیٹ فوری طور پر متحرک ہوئی اور قیمتیں 3500 روپے سے تجاوز کر گئیں۔ اس وقت کاشتکار کو 4000 روپے فی 40 کلوگرام کے قریب بلکہ اس سے زائد قیمت مل رہی ہے۔
3۔ خریداری میں کمی: نظام کی ناکامی نہیں بلکہ کامیابی کی علامت
یہاں یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ماضی میں بھی حکومتی گندم خریداری کا یہی اصول رائج رہا ہے: حکومت اسٹریٹجک ذخائر کی ایک بالائی حد مقرر کرتی، کم از کم امدادی قیمت پر خریداری کا آغاز کرتی، اور جب منڈی کے نرخ ایک خاص سطح سے تجاوز کر جاتے اور مطلوبہ مقدار محفوظ ہو جاتی تو حکومت مزید خریداری روک دیتی تھی۔ اس کی وجہ بالکل منطقی ہے: حکومتی خریداری کا مقصد کاشتکار کو اچھی قیمت دلانا ہوتا ہے، اور جب کاشتکار کو منڈی سے خود بہتر قیمت ملنے لگے تو حکومت خریداری جاری رکھ کر قیمتوں کو مزید بڑھاوا نہیں دیتی، کیونکہ اس کا بوجھ بالآخر صارف پر پڑتا ��ے۔ یہ صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مارکیٹ مداخلت کا مسلمہ اصول ہے۔ چنانچہ رواں سال ایگری گیٹرز کی خریداری کا سست ہونا نظام کی کسی خامی کا نتیجہ نہیں بلکہ انہی طے شدہ اصولوں (parameters) کا فطری نتیجہ ہے: منڈی نے کاشتکار کو حکومتی قیمت سے بہتر نرخ دے دیے، اس لیے بڑے پیمانے پر خریداری کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔ یہ در��قیقت پالیسی کی کامیابی کی علامت ہے۔
4۔ اسٹریٹجک ریزرو کا وسیع تر تصور
اسٹریٹجک ریزرو صرف وہ ذخائر نہیں جو براہِ راست حکومتی تحویل میں ہوں۔ یہ ذخائر مارکیٹ کے کسی بھی فریق کے پاس ہو سکتے ہیں، اور حکومت مارکیٹ کے استحکام، غذائی تحفظ اور دیگر مقاصد کے لیے انہیں بوقتِ ضرورت حاصل کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کے پاس متعدد راستے کھلے ہیں: پاسکو سے خریداری، کھلی منڈی سے خریداری، یا مارکیٹ میں گندم پر سرمایہ کاری کرنے والے دیگر سرمایہ کاروں سے حقِ اولین انکار (right of first refusal) کا استعمال۔ اس طرح پالیسی نے ایک طرف حکومت کو روایتی گندم خریداری اور راشن بندی کے نظام سے نکال��، اور دوسری طرف اس امر کو یقینی بنایا کہ منڈی میں بڑے خریدار موجود رہیں تاکہ کاشتکار کو بہتر نرخ ملتے رہیں۔
5۔ اسٹریٹجک ریزرو کی موجودہ پوزیشن
ایگری گیٹرز کے ذریعے تقریباً 485,000 میٹرک ٹن گندم محفوظ کی جا چکی ہے، جبکہ حکومتِ پنجاب پاسکو سے بھی گندم حاصل کر رہی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 1.5 ملین میٹرک ٹن کا ذخیرہ مارکیٹ کے استحکام اور قیمتوں کے توازن کے لیے کافی ہے۔ اسی ذخیرے سے حکومتِ پنجاب اس وقت 3800 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے گندم جاری کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں آٹا 1100 روپے فی 10 کلوگرام اور 2200 روپے فی 20 کلوگرام پر دستیاب ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت تقریباً 24 تا 30 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔
6۔ محتاط انداز میں مرتب کردہ پالیسی
یہ ایک نہایت سوچ سمجھ کر مرتب کی گئی (carefully calibrated) پالیسی ہے۔ واضح رہے کہ مارچ 2026 میں کھلی منڈی میں گندم کے نرخ تقریباً 4600 تا 4700 روپے بلکہ بعض مقامات پر 5000 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچے۔ گندم ایک ایسی لازمی جنس ہے جو عوام کی 60 فیصد سے زائد حراری ضروریات پوری کرتی ہے۔ اس لیے پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرف کاشتکار کو بہتر قیمت ملے اور دوسری طرف گندم کی منڈی فلور ملز اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے خواہشمند دیگر فریقوں کے لیے قابلِ پیش بینی (predictable) رہے، تاکہ نجی شعبے کا اعتماد بحال ہو اور سرمایہ کاری کا تسلسل قائم رہے۔
مزید برآں
ایگری گیٹر ماڈل دراصل تقریباً 85 برس سے زائد پرانے اس فرسودہ نظام سے منتقلی کا آغاز ہے جو ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ اور ڈیفنس آف انڈیا رولز 1939، فوڈ اسٹفس کنٹرول آرڈر اور ملنگ آرڈر کے تحت قائم ہوا تھا۔ اس نوآبادیاتی دور کے نظام میں سرکاری خریداری، کموڈٹی فنانسنگ اور راشن بندی کے ذریعے ریاست منڈی پر مکمل کنٹرول رکھتی تھی، جس کے نتیجے میں کاشتکار کو دبی ہوئی قیمتیں ملتی تھیں اور قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا رہتا تھا۔ حکومتِ پنجاب نے اس پرانے ڈھانچے سے نکل کر ایک آزاد منڈی کی جانب پیش قدمی کی ہے جہاں کاشتکار اپنی پیداوار بہتر قیمت پر فروخت کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ 85 سال پرانے نظام کی تبدیلی راتوں رات ممکن نہیں؛ نئے نظام کو مستحکم ہونے میں وقت درکار ہے۔ تاہم یہ پہلا سال ہونے کے باوجود نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کا اعتماد بڑھے گا اور یہ نظام بتدریج ایک کہیں بہتر اور مضبوط نظام کی شکل اختیار کرے گا۔
فوڈ ڈائریکٹوریٹ گورنمنٹ آف پنجاب کی شفاف اور اوپن بولی کے تحت سیلیکٹ کی گئ 11 کمپنیاں اب تک 4 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید چکی ہیں ۔ فوڈ کے پاس 19 لاکھ میٹرک ٹن کا باردانہ موجود تھا۔ جس میں سے باقی کا باردانہ مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہوتا ہے اور اکاونٹیبلٹی بھی ہوتی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4200 من سے زائد ہے۔ جبکہ forward contracting کے ذریعے خریدی گئ اس گندم کی فی من قیمت حکومت پنجاب کو مارچ 2027 میں بھی 4400 کی پڑے گی۔ اس وقت تقریبا 43 ارب روپے کی گندم پرائویٹ کمپنیاں پنجاب کے strategic reserve کے لئے خرید چکی ہیں جس پر پنجاب حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور نہ ہی گندم کا گردشی قرضہ ہو گا۔ جبکہ یہ گندم پنجاب کے strategic reserve کیلئے مارچ 2027 تک موجود ہو گی۔
کشمیر الیکشن مہم کا نکتہ عروج پرسوں مظفر آباد میں تاریخی جلسہ ھونے جارھا ھے
جس سے مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف اور دختر پاکستان وزیر اعلی پنجاب محترمہ @MaryamNSharif
خطاب کریں گی۔۔۔۔۔۔
مسلم لیگ کے اگلے مورچوں کے جانباز مظفر آباد میں پہنچ چکے
پرویز سندھیلہ جو ھمیشہ الیکشن میں طویل مسافت طے کرکے مسکم لیگ سے عقیدت کا مضبوط اظہار کرتے آرھے ھیں
راشد نصراللہ
بلال رضوان عزیر کیانی
وزیر اعلی محترمہ مریم نواز کا ھراول دستہ پورے عزم کے ساتھ موجود 👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب یکساں ترقی کی راہ پر گامزن ہے جہاں ترقی کا سفر اب صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے میں پھیل رہا ہے۔ عوام کی آسانی کے لیے صوبے بھر میں سیوریج اور جدید نکاسیِ آب کے سسٹم کو اپ گریڈ کرتے ہوئے واسا نیٹ ورک کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے اور اضلاع کو جدید ترین مشینیں اور آلات فراہم کیے جا رہے ہیں
اور ناظرین ریاست مخالف زہر اگلنے پر عمران خان کی باجی نورین کو این سی سی آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو اسلام آباد طلب کرلیا
ڈسکلیمر علیمہ خانم شاندانہ گلزار کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں لیکن ہوا ککھ بھی نہیں
نورین نیازی کا یہ بیان سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی مفادات پر حملہ اور دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔ جب ذاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آ جائے تو پھر حقائق نہیں الزامات بولتے ہیں۔ ایسے بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات صرف سیاسی دیوالیہ پن اور شدید غیر سنجیدگی کا اظہار ہیں۔👇👇
یہ شیر انسان ہے!
ایک صحافی بار بار آئی جی آزاد کشمیر کو سیاسی حل کا مشورہ دے رہا تھا۔
آئی جی صاحب نے ایسا جواب دیا کہ مجبورا صحافی کو بھی اپنی بات سے پیچھے ہٹنا پڑ گیا
اور ناظرین ماضی کے الیکشنز میں ہالینڈ سے مادر وطن پہنچ کر کوریج فرائض انجام دینے والے “ ون مین آرمی “ پرویز سندھیلا مظفر آباد پہنچ گئے ہیں اور 27 جولائی تک نواز لیگی جلسوں جلوسوں ریلیوں کی کوریج کرنے کے ساتھ عوام کے خیالات ہم تک پہنچائیں گے
سندھیلا پائن تواڈی راتی کوئی نہیں جمیا
بدل رہا ہے لاہور ۔۔
شہریوں کی سہولت کے لیے 16 ہزار کچی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کر لی گئی ہے۔ سیوریج اور ڈرینیج کا نیا جال بچھایا جا رہا ہے۔ نکاسی کا جدید سسٹم لایا جا رہا ہے۔ پانی کی سٹوریج کے لیے زیرِ زمین سٹوریج ٹینکس بنائے گئے ہیں۔