جڑ جڑ کر بیٹھیں تاکہ دوسروں کو بھی جگہ ملے، سہیل آفریدی
اتنے میں سٹیج سیکرٹری بھاگ کر آیا اور جناب کرسیاں خالی ہیں یہ کس کو جڑ جڑ کر بیٹھنے کا کہہ رہے،
کیا مطلب کرسیاں کس کو نظر آ رہیں اندھیرے میں دن کے بجائے رات کا جلسہ اسی لیے تو رکھا تھا، سہیل آفریدی
پیچھے کو کرتے ہوئے سٹیج سیکرٹری نے کہا جناب چشمہ اتار دیں آپ عصر کو ہی آ کر سیدھا سٹیج پر جا کھڑے ہوئے،
ابھی مغرب ہوئی نا اندھیرا ہوا....!!!
جہاں انسانوں کی ہر ٹیکنالوجی ختم ہو جاتی ہے، ٹھیک وہیں سے اللہ کی ٹیکنالوجی شروع ہوتی ہے..
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیے. یہ میرے اللہ کی ٹیکنالوجی ہے ، نہ کوئی پائلٹ نہ راڈار سسٹم..... ہزاروں کی تعداد میں یہ لینڈنگ بھی کرتے ہیں اور ٹیک آف بھی۔ مگر کبھی کوئی کریش نہیں ہوا۔
لینڈنگ اور ٹیک آف کے مناظر دیکھیں اور اس رب عظیم کی شان کی ثناء کیجیے جس کی ہر تخلیق بے عیب، مکمل اور لازوال ہے..
عمر نذیر کشمیری کے ساتھ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص TTPکمانڈر ڈاکٹر رؤف کشمیری کا بیٹا ہے۔ اگر یہ بات درست نہیں تو عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کھل کر وضاحت کیوں نہیں کرتی اور اگر یہ درست ہے تو قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ وہاں کس مقصد کے لیے موجود تھا؟ کیا وہ عوامی مسائل حل کرنے آیا تھا یا کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے؟
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ سوال مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے کہ عوامی حقوق کا نعرہ محض ایک پردہ ہے جس کے پیچھے تصادم، انتشار اور ریاست سے محاذ آرائی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ افسوس یہ ہے کہ اس کھیل کی قیمت دونوں اطراف کے معصوم اور بے گناہ لوگ اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔
وہ جو کہتے تھے ٹرمپ کو جواب نہیں دیا پاکستان نے انکے عرض ہے۔
یہ ہے اصلی ابسیلوٹی ناٹ۔۔
اسحاق ڈار کا امریکہ اسرار کو ابراہم اکارڈ پر کورا جواب
Ishaq dar
بی ایل اے کی چالاکی پھر پکڑی گئی،پروپیگنڈہ کرنے میں ناکام ہوگئے
مستونگ میں سیشن جج کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا،وہ بلوچ جج تھے،باہر سے نہیں آئے تھے،مقامی ردعمل اور دیگر نام نہاد بیانیے پر گہری چوٹ لگنے کے ڈر سے بی ایل اے نے فوری یہ ذمہ داری داعش سے قبول کرادی۔
لیکن غلطی یہ کر بیٹھے کہ جہاں جج صاحب کو نشانہ بنایا گیا وہ مکمل طور پر علاقہ بی ایل اے کے اثرورسوخ والا ہے وہاں صرف بی ایل اے کی موجودگی کے واضح ثبوت ہیں۔
یہاں ایک پہلو تو یہ سامنے آگیا کہ بی ایل اے،داعش اور ٹی ٹی پی مسلسل ایک دوسرے کیساتھ تعاون سے چل رہے ہیں۔
افغانستان میں بھی بی ایل اے،داعش اور ٹی ٹی پی کے مشترکہ تربیتی ٹھکانوں اور سہولت کاری کی تصدیق ہوتی ہے۔جب بی ایل اے کی ہینڈلر بھارتی خفیہ ایجنسی راء ہے تو پھر ٹی ٹی پی اور داعش کو بھی وہیں سے مدد مل رہی ہے۔
بی ایل اے نے کل جس بلوچ جج کو شہید کیا ہے،زاروقطار آنسوؤں کیساتھ رونے والا اُن کا بیٹا ہے۔
اِس کا باپ پنجابی نہیں تھا،بلکہ ایک بلوچ تھا اور جج تھا یعنی کوئی محرومی بھی نہیں تھی۔
بلوچ جج نے بی ایل اے کا کیا بگاڑا تھا؟بلوچ نسلوں کو یتیم کون کررہا ہے؟ اور کس مقصد کے تحت کررہا ہے؟
بی ایل اے اور اُس کے سہولتکاروں کو ایک زعم تھا،خوش فہمی تھی اور بڑے تکبر سے کہتے تھے کہ اِن پہاڑوں پر آکر دکھاؤ،نو گو ایریا ہے،رسائی نہیں ہے،بی ایل اے کے سرمچاروں کو تلاش نہیں کرسکتے۔
اب نہ صرف پہاڑ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی دسترس میں ہیں بلکہ بی ایل اے کی کمین گاہیں،خفیہ ٹھکانوں پر بھی جوان پہنچے ہوئے ہیں لیکن وہاں سرمچار نہیں ہیں کیوں کہ کچھ تو فرار ہوتے مارے گئے اور کچھ مارے جانے کے ڈر سے فرار ہوگئے۔
بلوچستان میں عوام کو محفوظ بنانے اور صوبے کو ایک ترقی یافتہ ماڈل بنانے کے لئے جو بھی کارروائی درکار ہے،اقدامات کی ضرورت ہے وہ تمام کیے جارہے ہیں۔
بلوچ شناخت کون مٹارہا ہے؟ بلوچ شناخت کا اصل دشمن ہے کون؟
بی ایل اے،بی وائے سی اور اِن جیسے جتنے بھی گروہ ہیں،ان کی پرتشدد کارروائیوں کی بنیاد یہ ہے کہ وہ بلوچ شناخت کے لئے لڑرہے ہیں،بلوچ شناخت کو بچانا چاہتےہیں،دوسرے صوبوں نے وسائل پر قبضہ کرلیا ہے،بلوچ شناخت خطرے میں پڑگئی ہے۔
دل تھام کر حقائق پڑھیے،بلوچ شناخت کیسے مضبوط،مستحکم اور دنیا میں قائم ہوگی؟ ظاہر ہے بلوچ نواجوان پڑھے لکھے گا،اچھا ہنر سیکھے گا،پاکستان سمیت دنیا میں نام بنائے گا تو بلوچ شناخت قائم رہے گی۔
جب ایک بلوچ نوجوان سائنسدان بنے گا،قابل ڈاکٹر بنے گا،قابل انجیئنر بنے گا،نئی نئی ایجادات کرے گاملک سمیت دنیا کو فائدہ دے گا تو ہی بلوچ شناخت قائم ہوگی؟
لیکن اب تک یہ سب ہو کیوں نہیں سکا؟ کیوں کہ بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر ڈال کر پروپیگنڈہ کرکے انہیں پہاڑوں پر لے جایا گیا،انہیں تعلیم سے دور کیا گیا،ان کے ہاتھ میں بندوق اور جسم پر خودکش جیکٹ پہنادی گئی۔
بلوچ بچوں کے تعلمی اداروں پر حملے کرکے تباہ کردیے گئے،ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق کئی اساتذہ کو شہید کیا گیا،متعدد اسکول تباہ کردیے گئے،اس کا نقصان کسی دوسرے صوبے کو نہیں بلوچ شناخت کو ہوا،بلوچ نسل کو ہوا،حکومت بھی متاثر نہیں ہوئی،فوج بھی متاثر نہیں ہوئی،بلکہ بی ایل اے کے اِن حملوں سے براہ راست بلوچ شناخت متاثر ہوئی،بلوچ نسل کا مستقبل تاریک ہوا۔
اب تک بی ایل اے کے دہشتگرد متعدد ٹرانسپورٹر گاڑیاں جلاچکی ہیں،وہ تمام گاڑیاں کسی پنجابی کی نہیں بلکہ بلوچ ڈرائیو کی ہی تھیں،جب ایک ٹرک جلاتے ہیں تو پورا خاندان متاثر ہوتا ہے،پہلے بلوچوں کو یہ پسماندہ رکھتے ہیں،انفراسٹرکچر پر حملے کرتے ہیں تاکہ بلوچستان ترقی نہ کرے اور پسماندہ بلوچ کے پاس جو روزگار کا ذریعہ ہوتا ہے اُسے بھی آگ لگادیتے ہیں۔
بتایئے بلوچ شناخت کا دشمن کون ہے؟اگر بلوچستان ترقی کرے گا،انفراسٹرکچر قائم ہوگا،منصوبے مکمل ہوں گے تو بلوچستان ہی ترقی یافتہ صوبہ بنے گا،عالمی سطح پر نام بنائے گا تو اِس سے بلوچ شناخت ہی قائم ہوگی،لیکن اِس بلوچ شناخت پر بی ایل اے کیوں حملہ آور ہے ؟
@Tyy_Am7 إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
اللہ سبحان و تعالیٰ کامل مغفرت فرمائیں ، آگے کی تمام منزلیں آسان اور سہل فرمادے۔ اور قبر کو نور سے بھر دے۔ حضور نبی کریم کی شفاعت کا مستحق بنا دے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
آمِين يَارَبَّ العَالَمِينﷻ
یہ بیان جو مولانا فضل الرحمن نے دیا سخت گمراہ کن ہے فوجی تنخوا لیتے ہیں اس لئے ملک پر احسان نہیں کر رہے اور نہ ہی موت شہادت ہے تنخوا لینا کسی عمل کے اجر ثواب کو ختم نہیں کرتا مدارس کے شیخ الحدیث اساتذہ مساجد ایمہ بھی تنخوا لیتے ہیں کیا اس سے قرآن پڑھانے والے کا اجر ختم ہو جاتا ہے
الحمدللہ آج چینی چھوڑے چھ مہینے ہو گئے ہیں۔
روزانہ 5 کلومیٹر پیدل چلنا،
40 منٹ تک ورزش کرنا معمول بنا لیا ہے۔
نہ چائے، نہ کافی، نہ کولڈ ڈرنک، پیزا، برگر شوارما وغیرہ۔
سب کو خدا حافظ کہہ دیا ہے۔
سب غلط عادتوں کو چھوڑ دیا ہے
بس اب جیسے تیسے کرکے
اس جھوٹ بولنے والی عادت پر کنٹرول کرنا ہے ۔
دہشتگردوں نے ہنہ اوڑک میں سول آبادی پر حملہ کیا،جس کا مقامی افراد نے بھرپور جواب دیا،دہشتگردوں کو بھاگنے پر مجبور کیا،اس دوران 4 بہادر بلوچ شہری شہید ہوگئے،6 زخمی ہوگئے،6 جولائی کو دہشتگردی نے کوئٹہ کے عوام کو پانی سپلائی کرنے والے منگی ڈیم پر قائم پولیس کی چوکی پر حملہ کیا،جسے پولیس کے جوانوں نے ناکام بنادیا،15 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اہم پریس بریفنگ