یہ وہ خیبر پختونخواہ کے اسپیکر اور اراکین اسمبلی کی مراعات والے بل ہیں جس بارے اس وقت تحریک انصاف کے حامی شفیع جان کا جھوٹا بیان چلا رہے ��ہ ایسا کوئی قانون نہی بنا ہے
ہمارے پاس مکمل کاپی موجود ہے آپ بھی اسے پڑھ سکتے ہیں
عوام سے کیے گئے تمام تر وعدوں کے باوجود چھاؤنی کے عین پہلو میں مسلح گروہ ایک بار پھر دندناتے ہوئے حملہ آور ہوئے، قیمتی جانیں ضائع ہوئے، بےگناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ حکومت کی امن و امان برقرار رکھنے کی دعویداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
#JusticeForBalochistan
بلوچستان میں امن وامان کی موجودہ دگرگوں صورتحال تشویشناک ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوام کے جان ومال کا تحفظ بنیادی حق ہے ۔اسلم غوری
بدامنی کی اس لہر کو سنجیدہ نہ لینا اور ریاستی سطح پر موثر اقدمات کا نہ ہونا مزید تشویش کا باعث ہے ۔اسلم غوری
حکمرانوں کی لاپرواہی ،غفلت اور نااہلی سے کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے کی بو آرہی ہے ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوامی امنگوں کے برعکس دھاندلی زدہ مسلط حکومتیں عوام کو امن دینے کی اہلیت سے عاری ہیں ۔اسلم غوری
اسمبلی فلور پر مسلسل ہماری قیادت اس جانب توجہ مبذول کراتی رہی ،لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔اسلم غوری
بدامنی کی بدترین صورتحال بلوچستان اسی سالہ محرومیوں کا نتیجہ ہے ۔اسلم غوری
عوامی محرومیاں ،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بدامنی کے بنیادی اسباب ہیں ۔ترجمان جے یو آئی
بلوچستان ،صوبہ خیبر پختونخواہ اور کشمیر کے حالات پر قومی قیادت کو سر جوڑ کر متفقہ لائحہ عمل دینا وقت کی ضرورت ہے ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
امن کا درس آپکو ہمیشہ اسی جماعت والوں سے ملے گا
اپنے نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ ہم آپ کو کلاشنکوف اور پیسہ دینگے آپ لشکر بنائیں
اگر ہمیں خود ہی لشکر کشی کرنی ہے، تو پھر ہم آپ کو ٹیکس کس بات کا دیتے ہیں؟
#JusticeForBalochistan
کوئٹہ والوں سے گزارش ہے کہ جب تک حالات پرامن نہیں ہوتے، غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔ حالات بہتر نہیں ہیں اور اکثر راستےبھی بند ہیں اللہ پاک ہمارے صوبےمیں امن و امان قائم کرے
ہم اہلیان بلوچستان وزیراعظم اور وزیر اعلی سے درخواست کرتے ہیں کہ امن دو امن دو
#JusticeForBalochistan
ابابیلوں!
ایک بار پھر 11 جولائی کو قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کے زیرِ صدارت قصور (پنجاب) کی فضاؤں میں جمعیت کے نعروں کی گونج سنائی دیں گی۔
#JusticeForBalochistan
:ہنہ آپ کی فوجی چھاؤنی سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، آج ہنہ کے شہداء کا حساب معلوم نہیں۔ پھر آپ باقی بلوچستان کی حفاظت کیسے کریں گے؟ گوادر اور واشک کے عوام آپ سے اپنی حفاظت کی توقع کیسے رکھیں؟
#JusticeForBalochistan
اپنے نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم آپ کو کلاشنکوف اور پیسہ دینگے آپ لشکر بنائیں”
اگر ہمیں خود ہی لشکر کشی کرنی ہے، تو پھر ہم آپ کو ٹیکس کس بات کا دیتے ہیں؟
#JusticeForBalochistan
جتنا چاہے رو لیں، جتنی چاہے ایک دوسرے پر تنقید کر لیں، جب تک ہم ان حالات میں اپنے درمیان وحدت، اتفاق اور اتحاد پیدا نہیں کریں گے، تب تک ہمارے علاقے اسی طرح تباہ ہوتے رہیں گے۔
صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع کا احتجاجی کیمپ سے خطاب
#JusticeForBalochistan
پیٹرول کے ایک لیٹر پر 118روپے ٹیکس ہے ، بجلی کے بل پر چودہ قسم کے ٹیکس ہیں فکسڈ ٹیکس فاضل ٹیکس مزید ٹیکس سیلز ٹیکس ویلتھ ٹیکس اور جانے کیا کیا مدور لکھے ہوتے ہیں اس کے بعد س��یب کا ظالمانہ ترین نظام چھ مہینے کی کڑکی ہے گیس کے بل پر فکسڈ ٹیکس بجلی بل سے زیادہ ہے ان طریقوں سے حکومت عوام کا پیسہ لوٹ رہی ہے
دوسری طرف ایف بی آر ٹیکس کا ہدف دو دفعہ بدلنے کے باوجود حاصل نہی کر سکا ہے نون لیگ نے سوائے عوام کو بیلن میں دینے کے کوئی اور معاشی کارنامہ ابھی تک نہی کیا ہے
مانسہرہ:قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے معتمد خاص مفتی ابرار احمد خان کے بیٹے مولانا حمزہ احمد کی تقریب ولیمہ
ولیمہ میں قائد جمیعت کی خصوصی شرکت
مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف مکتبہ فکر کے سینکٹروں افراد کی شرکت
جیو کی وضاحت میں بہت خامیاں ہیں یہ کہنا کہ یہ غیر ارادی تھا ادارے کی پالیسی کے خلاف تھا تو اتنی حساس ترین ڈاکیومینٹری جو نبی کریم ﷺ کی ذات بارے تھی اس پر اس قدر غفلت کیسے ہو گئی ؟
پھر لکھا ہم کاروائی کر رہے جیو اس رپورٹر اور ایڈیٹورل بورڈ کے نام سامنے لائے قانونی کاروائی کے لئے پیش کرے جیو اس سلسلہ میں خود منصف نہی ہو سکتا ہے
جن لوگوں کے مزہبی جذبات کی دل آزاری ہوئی ان کو حق حاصل وہ ان لوگوں ان کے عقائد کو جان سکیں ساتھ ہی عوام کو پتہ ہو کیسے لوگ حساس چیزیں چیک کرتے ان کو نشر کرنے کی اجازت دیتے ہیں معاملہ صرف اس ویڈیو کا نہی بلکے جیو میں اہم عہدوں پر کن مشکوک عقائد لوگوں کو بٹھا رکھا یہ جاننا لازم ہے
جیو پھر بھی باز نہ آیا ۔ عوام اور علماء اگلی جنگ کے لیئے تیار رہیں!
جیو نیوز نے اگرچہ معذرت جاری کر دی ہے اور پیمرا نے بھی اس کا لائسنس 15 دن کے لیے معطل کر دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی اپنی غلطی کا احساس ہے تو پھر اس کی نشریات یوٹیوب پر کیوں جاری ہیں؟
اگر یہ صرف اس بنیاد پر جاری ہیں کہ یوٹیوب پیمرا کے براہِ راست دائرۂ اختیار میں نہیں آتا، تو یہ معافی کی روح کے مطابق نہیں۔
ہم اس معاملے پر متعلقہ اداروں سے قانونی اور آئینی طریقے سے رابطے میں ہیں، اور ہمارا واحد رستہ یہی ہے کہ مسئلہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل ہو۔
اگر ضرورت پیش آئی تو ہم علماء کی قیادت میں عوام کو PTA اور دیگر مجاز فورمز، تک اپنی شکایات مہذب، پُرامن اور قانونی طریقے سے پہنچانے کا طریقۂ کار بھی فراہم کریں گے۔
بہ الفاظِ دیگر، پیمرا کے پاس ہزاروں درخواستیں پہنچانے کے لیئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔
جاگیرِ مصطفیٰ میں عزتِ مصطفیٰ پر کوئی سمجھوتہ نہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
ہم آپ کو ہر پیش رفت سے بروقت آگاہ کرتے رہیں گے۔
عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں زمین پر جبکہ پاکستان میں آسمان پر حکومتی بے حسی کی انتہاء ہے ۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک ہفتہ برقرار رکھنے کا فیصلہ ظالمانہ ہے ۔
انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہیں
حکومت عوام کا خون چوسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی
قیمتوں میں اضافے کے وقت بھی پیٹرولیم کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا اور اب کمی کے وقت بھی
جنگ کے باعث ایرانی عوام نے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا کہ پاکستانی عوام نے برداشت کیا
حکمران خدا خوفی سے بے نیاز ہو چکے ہیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
اس وقت اگر کشمیری احتجاج پر ہیں تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ وہاں جو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر حکومت نگوشیٹ نہ کرسکے، تقریروں میں وہ نوجوان ہیں اگر کسی نے کوئی حد سے آگے بڑھ کر بات کی ہے یا پاکستان کے خلاف کوئی الفاظ تعبیر ہوئے ہیں تو اُس کے حق میں بھی باتیں ہوئی ہیں، اسی اجتماع میں ہوئی ہیں، انہی مقررین نے پاکستان کے حق میں باتیں کی ہیں، اور آج وہ باقاعدہ ایک خط مجھے بھیج رہے ہیں۔
جناب سپیکر! آپ کی توجہ چاہیے، جناب سپیکر میں آپ سے مخاطب ہوں، رولز کے مطابق سپیکر سے ہی مخاطب ہونا پڑتا ہے اور اگر سپیکر جو ہے جب وہ "چشم من در چشم تو
چشمان تو جائے دیگر"،
کشمیریوں کی جو اس وقت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے یہ خط بھیجا ہے اپنے قیادت کے دستخطوں کے ساتھ اور جس میں انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے کہا ہے، یقیناً یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا، نہ میرے بس کی بات ہے لیکن میں نے اس کا مثبت جواب دیا ان کو اور کل 23 تاریخ تھی، یہ آخری تاریخ تھی انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا اور اگلا پروگرام دینا تھا، لیکن انہوں نے نہیں دیا اور ابھی ان کے درمیان میں شائد مشاورت چل رہی ہو، وہ کوئی جواب تیار کر رہے ہوں میرا جو ان کو پیغام ملا ہے اس کے بارے میں، لیکن حکومت حکومت ہوا کرتی ہے، اگر حکومت کا رد عمل مقررین نوجوانوں کی تقریروں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حکومت کا رد عمل جذباتی ہو جاتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوا کرتا۔
جناب سپیکر! اچھا ہوا کہ اس وقت جناب وزیراعظم بھی تشریف لے آئے ہیں ہاؤس میں، موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے اور ان کی موجودگی میں، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ اگر اس وقت احتجاج پر بیٹھے ہوئے عوام کا ایک بڑا ہجوم ہے، ایسا نہیں کہ بلکل وہاں پر کوئی پبلک نہیں ہے ان کے ساتھ، لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور ان کی جو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے اس کا باضابطہ طور پر میرے پاس خط آیا اور میں نے اس کے جواب میں ایک بیان ریکارڈ کیا، جب ان کو بھیجا، اس کو پبلش کیا میں نے، کہ میں اس میں جو کردار میرا ادا ہو سکتا ہے میں کرنے کے لئے تیار ہوں اور حکومت کے آفس کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے، ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے مجھے کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل آیا ہے، سوائے اس کے کہ کل 23 تاریخ تھی اور کل انہوں نے اگلا پروگرام دینا تھا، لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا، جو انہوں نے نہیں کیا اور اس وقت انہوں نے کسی قسم کے اگلے قدم کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تو یہ ان کی طرف سے ایک مثبت رد عمل عملی طور پر نظر آ رہا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا اور ان شاءاللہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور امید افزا گفتگو ہوتی ہے تو یہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف لے جائے گی، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ پہ نظر رکھنی چاہیے، مقررین کی تقریروں کو بہانہ بنا کر طاقت کا استعمال یہ کبھی بھی حکومتوں کا رویہ نہیں ہوا کرتا، حکومت جو ہیں وہ ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جب کشمیر کے اندر تشدد ہوگا آپ بتائیں کہ اٹھتر سال تک کشمیریوں کے کاز کی وکالت کرنا اس کو آپ ایک لم��ے میں دفن کردیں گے اور وہ انــڈیا جو ہر فورم پر دفاعی پوزیشن میں ہوا کرتا تھا آج وہ جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے، جب ہم ان کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے بیلجیم میں، انسانی حقوق کے اداروں میں، اقوام متحدہ میں، آج وہ پاکستان کے خلاف قراردادیں لا رہا ہے، پوزیشن بالکل تبدیل کر دی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستان ریاست کے طرف سے جو رد عمل گیا ہے اور جو ان کو لاشیں ملی ہیں اور مزید بھی بالکل تیار کھڑے ہیں کہ کبھی کوئی حرکت ہو تو ہم ایک سخت اقدام کریں، اس سے مسئلہ کشمیر کی پوری نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، پاکستان کا موقف بالکل برعکس چلا گیا ہے اور انــڈیا کا موقف بھی برعکس چلا گیا ہے۔ ہم جہاں اٹھتر سال تک کھڑے تھے آج ہنــدوستان وہاں کھڑے ہونے کی طرف جا رہا ہے اور جہاں ہنــدوستان اٹھتر سال تک کھڑا تھا آج ہم پاکستان اسی مقام پر جا رہے ہیں، اس میں کچھ ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں ہر چند کہ اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہے، ہر چند کہ اس میں اگر کشمیر یا پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی مواد ہے تب بھی وہ خواجہ آصف نہیں ہے یہاں پر، وہ یہاں پر وزیر دفاع ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا رد عمل محتاط ہونا چاہیے تھا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب