30 جولائی — یومِ شہدائے باجوڑ
30 جولائی صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ شہدائے باجوڑ کی عظیم قربانیوں، ان کی بے مثال جدوجہد اور ان کے بلند مقام کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔
ہمیں اس دن کو ایسے باوقار، مؤثر اور منظم انداز میں منانا ہوگا کہ شہداء کی یاد تازہ ہو، ان کی قربانیوں کا پیغام ہر گھر اور ہر طبقے تک پہنچے، اور پوری قوم پر واضح ہو کہ شہداء کے احترام، عظمت اور ان کے مشن سے وفاداری کا حقیقی تقاضا کیا ہے۔
جو عناصر ہم پر شہداء کی توہین کے الزامات عائد کرتے ہیں، انہیں عملی اور مثبت انداز میں یہ پیغام دینا ہوگا کہ شہداء کی عزت و تکریم محض دعوؤں سے نہیں، بلکہ ان کی قربانیوں کو زندہ رکھنے، ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے سے ہوتی ہے۔
تمام دوستوں، کارکنان اور سوشل میڈیا ٹیموں سے پُرزور اپیل ہے کہ 30 جولائی، یومِ شہدائے باجوڑ کے لیے ابھی سے معیاری، باوقار اور مؤثر مواد تیار کریں۔ فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شہداء کی قربانیوں، ان کے عظیم مقام، احترام اور یاد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔
آئیے! ہم سب مل کر یومِ شہدائے باجوڑ کو شہداء کے ساتھ تجدیدِ عہد، خراجِ عقیدت اور ان کی قربانیوں کو زندہ رکھنے کے عزم کے طور پر منائیں۔
شہدائے باجوڑ کو سلام — ان کی قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
#رہبر_ورہنما_مولانا
#سروس_یا_پروپیگنڈا
#پٹرولیم_لیوی_نامنظور
#کشمیر_کو_امن_دو
#ادارے_بدنام_ناکرو
گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانا عمران خان کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔
مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف اس کے حالیہ بیانات، جو قصور جلسے کی تقریر کے ٹھیک دو ہفتے بعد دلوائے گئے، نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ وہ پارٹی کا نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا کٹھ پتلی اور گماشتہ ہے۔
#رہبر_ورہنما_مولانا
#سروس_یا_پروپیگنڈا
#پٹرولیم_لیوی_نامنظور
#کشمیر_کو_امن_دو
#ادارے_بدنام_ناکرو