قبضہ مافیا, جرائم پیشہ افراد, رسہ گیروں, بدمعاشوں اور وکلاء کو پاپولر حکومت اور عوامی ریلیف کے کاموں سے مسئلہ ہے-
آپ مافیاز کی طاقت ملاحظہ کریں کہ لاہور ہائی کورٹ تک کو عوامی فلاح کے اقدامات, قبضہ شدہ جائیدادوں کی واگزاری, براہ راست انصاف کی فراہمی (المعروف سی سی ڈی) چبھ گئیں اور کالی بھیڑوں کی معاونت کرتے ہوۓ نہ صرف پنجاب پراپرٹی آرڈیننس پر عملدرآمد معطل کر دیا گیا بلکہ چھڑوائے ہوۓ تمام قبضے بھی واپس کرنے کا حکم صادر کر دیا گیا- کہا گیا ہے کہ اب ہم دیکھیں گے ان معاملات کو 🤦♂️ (بالکل ویسے ہی جیسے 77 سال سے دیکھ رہے ہیں)-
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے یہ ریمارکس کہ "یہ قانون برقرار رہتا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروا لیا جاتا" انتہائی غیر ضروری, غیر ذمہ دارانہ, بغض سے بھرپور بلکہ "بالی ووڈ مووی سٹائل" ریمارکس ہیں- ہم سب نے ان ریمارکس کو دکھی دل کیساتھ نوٹ کیا ہے-
پنجاب کے مختلف اضلاع میں اب تک جتنے قبضے واگزار کروائے گئے وہ جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے پاس موجود دستاویزی ثبوتوں اور سرکاری ریکارڈز کے مطابق کروائے گئے- چیف جسٹس صاحبہ ذرا جاتی امرا کا قبضہ لینے کی کوشش کر کے تو دیکھیں ناں پھر.....!!!
ہمیں ایسی عدالتیں نہیں چاہییں جو امراء اور مافیاز کا ساتھ دیں- ہمیں ایسی عدالتیں بھی نہیں چاہییں جو گھناونے جرائم والے ملزمان کو ضمانتیں دیکر انہیں عوام کیساتھ مزید ظلم کرنے کیلئے چھوڑ دیں- ہمیں ایسی عدالتیں بھی نہیں چاہییں جو جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کے مقدموں کے فیصلے ہی نہ کریں- ہمیں ایسی عدالتیں بھی نہیں چاہییں جو من پسند افراد کو اسٹے آرڈرز عطا کریں اور پھر پلٹ کر نہ پوچھیں-
عدالتیں اسلئے ہوتی ہیں کہ وہ ملک کے آئین و قانون کے مطابق عوام کو انصاف فراہم کریں, نہ کہ صرف خواص کی خدمت کریں اور اس عمل کے دوران خود کو آئین اور قانون سے ماوراء سمجھ کر خود کو بدمعاش سمجھنے لگیں-
جب ہمیں اللہ کی مصلحتیں سمجھ آنے لگیں تو ہر خسارہ، ہر رکاوٹ، حتیٰ کہ ہر تکلیف بھی ہمیں نعمت لگنے لگتی ہے۔ وہ لمحے جب دل تھک کر بیٹھ جائے، تب بھی اللہ کی رہنمائی ہمیں سکون دیتی ہے۔
ہر کمی، ہر چیلنج، ہر امتحان سب کی اصل قدر تب سمجھ آتی ہے جب ہم اللہ کی حکمت پر بھروسہ کریں۔
اے اللہ!
ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما
اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے۔
اور رمضان کو ہمارے لیے سلامتی کے ساتھ لے آ
اور ہم سے اسے قبول فرما،
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!
اے اللہ!
ہمیں رمضان عطا فرما
نہ اس حال میں کہ ہم (زندہ ہوتے ہوئے) اس سے محروم ہوں
اور نہ اس حال میں کہ ہم (دنیا سے) جدا ہو چکے ہوں
یہ ٹویٹ نبیل صاحب کی درخواست پر مریم نواز صاحبہ کی توجہ کیلئے کی جارہی ہے۔ اسے حسب توفیق آگے بڑھا کر ان کا مسئلہ حل کر نے میں مدد فرمائیں @nabeel_bilo
بخدمت جناب
سی ایم پنجاب کمپلینٹ سینٹر
موضوع: گاؤں چھبر ہٹھاڑ، یو سی کونسل گوہڑ ہٹھاڑ، یو سی نمبر 34، تحصیل و ضلع قصور میں صفائی کے مسائل اور ڈمپنگ پوائنٹ کی فوری ضرورت
جنابِ عالی!
نہایت دکھ اور امید کے ساتھ آپ کی خدمت میں یہ گزارش پیش کر رہا ہوں کہ میں گاؤں چھبر، یو سی کونسل گوہر، یو سی نمبر 34، تحصیل و ضلع قصور کا رہائشی ہوں۔ ہمارے گاؤں میں صفائی کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ یہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے نہ کوئی ڈمپنگ پوائنٹ ہے اور نہ ہی ٹرالی یا کنٹینر۔
اس مجبوری کے باعث لوگ اپنے گھروں میں کوڑا کرکٹ رکھنے پر مجبور ہیں، جس سے بدبو، مکھیاں، مچھر اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ہمارے بچے بار بار بیمار پڑ جاتے ہیں، بزرگ اذیت میں ہیں اور خواتین کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ برداشت بن چکی ہے۔ یہ صرف گندگی کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت اور باعزت زندگی کا سوال ہے۔
جنابِ عالی! یہ وہ حلقہ ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن)2008ء سے مسلسل کامیاب ہو رہی ہے۔ اسی حلقے سے میاں محمد شہباز شریف قومی اسمبلی حلقہ 138 قصور کا الیکشن جیت چکے ہیں، جنہیں ہم نے دل سے ووٹ دے کر کامیاب کروایا۔ بعد میں ملک رشید احمد خان (وفاقی وزیر مملکت NA-138) اور ملک محمد احمد خان (سپیکر پنجاب اسمبلی) بھی اسی حلقے سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ ہمارا گاؤں ہمیشہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑا ہے اور آج بھی اسی امید پر آپ کی دہلیز پر حاضر ہے۔
ہم آپ سے پُرخلوص اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں نظرانداز نہ کیا جائے اور:
ہمارے گاؤں میں فوری طور پر ایک ڈمپنگ پوائنٹ قائم کیا جائے،
کوڑا کرکٹ کے لیے ٹرالیاں / کنٹینرز فراہم کیے جائیں،
اور صاف ستھرا پنجاب ٹیم کو باقاعدہ کوڑا اٹھانے کا پابند بنایا جائے۔
آپ کا ایک فیصلہ ہمارے گاؤں کو بیماری سے بچا سکتا ہے اور ہمیں سکھ کا سانس دے سکتا ہے۔ امید ہے آپ ہماری فریاد کو سن کر جلد عملی قدم اٹھائیں گے۔
والسلام
درخواست گزار:
03154266503
گاؤں چھبر، یو سی کونسل گوہر، نمبر 34
تحصیل و ضلع قصور