اگر آج کے اقدامات کو وہ درست کہتے تو 12 اکتوبر 1999ء کا اقدام بھی ٹھیک ہے، اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کو جو پھانسی دی گئی تھی وہ بھی ٹھیک ہونی چاہیے
ضیاء الحق کا جو مارشل لاء لگا تھا وہ بھی پھر صحیح ہے
کوئی بھی عمل جو غیر آئینی ہو، غیر جمہوری ہو، وہ قبول نہیں
#سرداراخترمینگل
افغانستان کے ساتھ لڑائی پوری مغربی سرحد بند ہو گئی، تجارت بند ہو گئی، لوگوں کے روزگار اور کاروبار تباہ ہو گئے، چین ہمارے اوپر اعتماد ختم کر چکا ہے، اور میں کہتا ہوں اگرچہ ابھی تک آن ریکارڈ کوئی بات نہیں ہے، باضابطہ پر کوئی بات نہیں ہے لیکن تم نے جو ایمرجنسی لگائی ہے فاٹا کے علاقوں پر یہ وہاں کے معدنی ذخائر پر قبضہ ہے اور صرف قبضہ ہی نہیں امریکیوں کے ساتھ جو تم نے سودے کئے ہیں اور جس طرح ہماری سر زمین پر ہمارے وسائل کا مالک تم امریکہ کو بنا رہے ہو اور ان کے سرمایہ کاری کے لیے راستے کھول رہے ہو اور اس کے بدلے میں اگر کچھ سکے آپ کو مل جائیں اور آپ اکتفا کرنے کی طرف جا رہے ہو، یاد رکھو! یہ سیاست اب ہمیں قبول نہیں ہے اور چین اور روس کو اس پر تحفظات ہیں، خطے میں آپ باہر کی قوتوں کو لا رہے ہیں میں کہتا ہوں ملٹی نیشنل کمپنی آتی ہیں، امریکہ میں بھی جاتی ہیں، یورپ میں بھی جاتی ہیں، چائنا میں بھی جاتی ہیں، روس میں بھی جاتی ہیں، سرمایہ کاری کرتی رہتی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے لوگ آ رہے ہیں اور پاکستان سے سرمایہ کار اپنا پیسہ باہر لے جا رہے ہیں؟ سرمایہ کاری کے لیے سب دنیا دو تین چیزوں کو دیکھتی ہے سب سے پہلی بات یہ کہ جہاں کوئی امن ہو، سیکیورٹی ہو، تو وہاں پر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ وہاں پر معاہدات اور معاملات میں شفافیت ہو تو وہاں جا کر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور تیسری بات ہے کہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو وہاں پر لوگ جا کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان تین حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنے آپ سے خود سوال کریں کہ ان تین باتوں کے ہوتے ہوئے افغانستان میں کیوں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور پاکستان میں کیوں نہیں ہو رہی؟ اور ہمارا اپنا پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ باہر کیوں لے جارہا ہے؟ ان کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا آپ لوگوں نے اور ناز کیا جا رہا ہے کہ ہم ملک کو بچا رہے ہیں
@HarmeetSinghPk اصول بیچ کر مَسند خریدنے والو
نگاہِ اہلِ وفا میں بہت حقیر ہو تم
وطن کا پاس تمھیں تھا نا ہو سکے گا کبھی
کہ اپنی حِرص کے بندے ہو بے ضمیر ہو تم
ٹائمنگ چیک کرے آج یورپ کی ایک کانفرنس میں منظور پشتین بھی سامنے آگئے پاکستان کی انٹیلیجنس مراد سعید اور تحریک انصاف کے پیچھے پڑی رہے گی اور یہاں ملک ٹوٹ جائے گا واقعی وقار ملک ٹھیک کہتے ہیں یہ آیا نہیں لایا گیا ہے
@RealWaqarMaliks
گورنر راج غیر آئینی نہیں، لیکن ایک غیر جمہوری عمل ہے۔ پہلا گورنر راج پاکستان بننے کے بعد ہماری حکومت کے خلاف لگایا گیا۔ 1970ء کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی کی بلوچستان حکومت کے خلاف گورنر راج نافذ کیا گیا، جس کے ردعمل میں پختونخوا کی حکومت نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت نہ صرف حکومتیں ختم کی گئیں بلکہ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بھی شدت اختیار کر گیا۔ اگر میں اُس وقت کے گورنر راج کو غلط سمجھتا ہوں تو آج کے گورنر راج کو درست کیسے قرار دے سکتا ہوں؟
@Jan_Achakzai تم بھی وطن فروش ہو بلوچستان کے دشمن ہو اور استعماری طاقتوں کے آلہ کار ہو
جہنوں نے ہمارے حقوق غضب کیے بلوچستان کے زمینوں کو بے رحمی سے غیروں کو لیز پر دیے اور معدنی وسائل پر قابض ٹولے کے پیروکار ہو تم
صبح بخیر
دنیا میں سب سے خطرناک زوال کردار کا نہیں، ضمیر کا ہوتا ہے؛ کردار گرے تو انسان شرمندہ ہوتا ہے، مگر ضمیر مر جائے تو انسان اپنی تباہی کو بھی کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔
یہ فاشسٹ نظام بس اتنا ہی طاقتور ہے کہ ایک معمر ترین سیاسی راہنما جاوید ہاشمی سے خوفزدہ ہے جو ایک ہاتھ کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں
جاوید ہاشمی گرفتاری سے نہیں ڈرتا اس لیے اس کے گھر کا دروازہ باہر سے بند کردیا ہے کیونکہ وہ لانگ مارچ کیلیے نکلنا چاہتے ہیں
حکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنرراج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔
لانگ مارچ کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی توخدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے مزاحمت ہوگی ۔ الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اب واقعتا ایک ایسے نازک موڑ پر آگیا ہے کہ یہاں ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا اور اس موڑ سے احتیاط سےنہ گزراگیا تویہ ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔تحریک انصاف نےلانگ مارچ ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین وقانون کی بالادستی، پارلیمنٹ اورعدلیہ کے احترام اور ملک میں انصاف کے حصول کے لئے شروع کیا ہے لیکن اس پرموجودہ حکومت پاکستان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوجس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، سہیل آفریدی، ان کی کابینہ کے ارکان کو افغانستان، انڈیااوراسرائیل سے جوڑ رہے ہیں، ان پر جس طرح ملک دشمنی کے سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں اورخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی جو دھمکیاں دی جارہی ہیں، دوسرے لفظوں میں پشتونوں کوملک دشمن قراردیا جارہا ہے، یہ صورتحال ملک کے لئے کسی بھی طرح درست نہیں ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ میں اس پر حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ اس وقت پاکستان جوسنگین صورتحال درپیش ہے اگرایسے میں لانگ مارچ کے جواب میں خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی اور لانگ مارچ کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو خدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت ہوگی،اس سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، لہٰذامیراحکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔
اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمراں خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا اورپشتونوں کے بارے جس طرح کی دھمکی آمیز زبان استعمال کررہے ہیں اس سے خیبرپختونخوا کے پشتونوں میں جوجذبات پیدا ہورہے ہیں، اسی کی روشنی میں سہیل آفریدی نے یہ متنبہ کیاہے کہ اگر پشتونوں کے خلاف ایسا ہی عمل کیاجاتارہا تو ہماری نسلیں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگائیں گی اورقومی ترانے کے احترام میں نہیں کھڑی ہوں گی۔لہٰذا حکمرانوں کوحالات کی اس نزاکت اور سنگینی کااحساس کرناچاہیے اوریہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے انڈیا کے خلاف جنگ ہویاروس اورامریکہ کےدرمیان افغان جنگ ہو، پشتونوں نے ہردورمیں ہمیشہ پاکستان اور فوج کاساتھ دیاہے،آج جن طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، وہ طالبان قبائلی پشتونوں نے نہیں بنائے بلکہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنائے تھے، پشتونوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ڈی پیز بنکر خود مشکلات سامنا کیا۔
پی ٹی آئی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور رہنماؤں کالانگ مارچ سے الگ تھلگ رہنا قابل غورہے،انہیں چاہیےکہ وہ ملک میں جمہوریت کی بقا،عدالتی نظام کی بحالی اورانصاف کے نظام کے لئے اس میں بھرپورشرکت کریں اور اگرشامل نہیں ہوناچاہتے توپھر شرافت کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیدیں۔
خیبرپختونخوا کے جوعوام اس مقصد کے لئے گھروں سے نکلے ہیں میں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں اوران کی کامیابی کے لئے دعاگوہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر ہنگامی 481ویں فکری نشست سے خطاب
5 اکتوبر 2026ء
کچھ عرصہ قبل حامد میر اپنے کسی دوست کے گھر گئے تو وہاں فرزانہ علی انکے دوست کی اہلیہ سے ملنے آ گئیں حامد میر کو دیکھ کر فرزانہ نے انٹرویو پر اصرار کیا اور پھر حامد میر ناں نہیں کر سکے حامد میر نے فرزانہ کے بارے میں کہا جہاں مرد نہیں بولتے وہاں آپ بولتی ہیں۔