چھوٹے صوبے بناتے ہوئے آزادکشمیر کے تجربے سے ضرور سیکھئے گا جہاں ایک ضلعے کی آبادی ایک سپریم کورٹ، ایک ہائیکورٹ، ایک وزیراعظم، ایک صدر، ایک اسمبلی، ایک ایوان بالا 53 کے ایوان میں 29 اراکین کی کابینہ، آبادی کا ہر فرد سرکاری نوکری، مفت بجلی اور آٹے کا خواہاں نتیجہ، 70٪ بجٹ بذمہ وفاق
کرکٹ کا ستیاناس “ بلوچستان کا ستیاناس “ کشمیر کا ستیاناس “ اسلام آباد کا ستیاناس “ خیبرپختونخوا کا ستیاناس وزیر داخلہ نے کر دیا ہے
بلوچستان میں لاشیں گر رہی تھی موصوف نیویارک میں وزیر خارجہ بن کر گھوم رہے تھے منہ نہ کھلوائیں تو بہتر ہے استعفی دو گھر جاو
I may be intellectually lazy, highly dishonest, and even more malicious, but that doesn't change the fact that AJK is a freeloading enclave that provides nothing but problems just by existing precipitously close to one of Pakistan's main population centres.
ایک یوتھیے نے جعلی وڈیو لگائی جس میں یہ دکھایا کہ فورسز لوگوں کو گولیاں ماری رہی ہے،،،وہ وڈیو لاکھوں ریچ لے گئی
میں نے ایک اصلی وڈیو لگائی کہ لاشیں زندہ ہو گئی اس پر صرف 20K ریچ
اندازہ لگائیے یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس وقت کیا بیچ اور خرید رہے ہیں
کل اس شخص کا انٹرویو سُنا کہ وہ ارب پتی ہے‼️ سُن کر بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ جو جو کام یہ شخص کر رہا ہے اُس میں اتنے ہی پیسے بنتے ہیں۔افسوس اور حیرت ہوتی ہے کہ اسے کوئی روکنے والا کیوں نہیں ہے؟ پاکستان میں اس کو بین کیوں نہیں کیا جاتا؟ اب سب کچھ کرنے کے بعد جب اسے کنٹینٹ بنانے کی رینج ختم ہو گئی ہے تو یہ انگریزوں والی ویڈیوز بنانا شروع ہو گیا ہے۔کدھر مر گئے ہیں پاکستان کے ادارے؟؟؟ کم از کم اس کے چینلز ہی بین کر دو اور کچھ نہیں کر سکتے تو۔اور کتنا گند پھیلائے گا یہ بندہ۔ زیادہ تر اس کے دیکھنے والے بچے اور اٹھارہ سال سے کم نوجوان ہیں۔یہ ان سب کو خراب کر رہا ہے۔
ہاتھوں سے لگائی گرہیں، دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔
منصور عثمان اعوان انتہائی پیاری، ملنسار، محبتی اور مہذب شخصیت ہیں۔ گزشتہ 1 دہائی کے تعلق کے دوران کبھی تصور میں بھی نہیں آیا کہ انکی زبان، ہاتھ یا ذات کسی کو نقصان پہنچا ہوگا۔
اگر لاہور جیسے شہر (جہاں میڈیا، سوشل میڈیا بہت متحرک ہے) میں پنجاب پولیس کے اہلکار اٹارنی جنرل کے گھر میں گھسنے کے جرات کر گئے ہیں تو صرف اس ایک واقعہ سے اندازہ لگا لیں کہ پنجاب بھر کے عوام پسماندہ شہروں (جہاں میڈیا سوشل میڈیا کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے) میں پولیس کے کیسے بے رحمانہ سلوک اور لوٹ مار کا سامنا کر رہی ہوگی۔
کئی ماہ سے مسلسل نشاندہی کر رہا ہوں کہ پنجاب میں پولیس اہلکاروں اور افسروں کی اکثریت اب پیشہ ڈاکوئوں اور بھتہ خوروں کا روپ دھار چکی ہے، ایک فون کال پر بھتہ مانگا جا رہا ہے، بلاجواز شہریوں کو اغواء کر کے خفیہ تھانوں، ٹارچر سیلوں میں رکھا جاتا ہے اور ڈیل کے بعد چھوڑا جاتا ہے۔
نہ جانے عوام پر یہ ظلم کہاں جا کر رکے گا۔
This woman is faking it. I am attaching this video of her just a month ago on her YouTube channel. She is a vile person. Don’t fall for this carefully curated and desperate attempt to destabilize Pakistan. She is trying to look like Pakeeza victim right now when this video shows her real face.
🚨محمد عمیر کا پیغام🚨
براہِ کرم میرے 17 ماہ کے معصوم بیٹے محمد صالح بن عمیر کے انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں
18 جولائی کو صبح تقریباً 5:00 بجے ہم اپنے 17 ماہ کے بیٹے کو سول ہسپتال مری لے گئے کیونکہ اسے الٹی اور اسہال کی شکایت تھی۔
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نہ اس کا بخار چیک کیا اور نہ ہی اس کی دیگر اہم علامات (Vital Signs) کا معائنہ کیا۔ اس کے بجائے اس نے پرچی پر پانچ انجیکشن لکھ دیے۔
یہ پانچوں انجیکشن پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں لگا دیے گئے۔ حتیٰ کہ رنگر لیکٹیٹ (Ringer Lactate)، جو عام طور پر ڈرِپ کے ذریعے دیا جاتا ہے، اسے بھی ڈرِپ لگانے کے بجائے براہِ راست انجیکٹ کر دیا گیا۔ میں نے مرد نرس سے پوچھا:
“کیا رنگر لیکٹیٹ ڈرِپ کے ذریعے نہیں دینا چاہیے؟”
اس نے جواب دیا:
“ اب ہو گیا ہے۔”
اور باقی انجیکشن لگاتا رہا۔
اس کے فوراً بعد ڈاکٹر نے ہمیں بچے کو گھر لے جانے کے لیے کہہ دیا۔
اس کے بعد ہم اسے قریبی سی ایم ایچ مری (CMH Murree) لے گئے۔
وہاں عملے نے پہلے دیے گئے علاج کا جائزہ لینے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہمیں دوبارہ سول ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوری طور پر بچے کو داخل نہیں کر سکتے، اور اگر تقریباً 10 گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھل جائے تو دوبارہ لے آئیں۔
صبح تقریباً 10:00 بجے ہم دوبارہ اپنے بیٹے کو سول ہسپتال مری کے ماہرِ اطفال کے پاس لے گئے اور ان سے التجا کی کہ ہمارے بچے کو داخل کر لیں کیونکہ اس کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ پانچوں انجیکشن صرف پانچ منٹ کے اندر لگا دیے گئے تھے۔
ان کا جواب تھا:
“بی بی، یہ گورنمنٹ ہسپتال ہے۔ یہاں یہی ہوتا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں ہم اسے ایڈمٹ کر لیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔”
بچے کو داخل کرنے کے بجائے انہوں نے ایک اور انجیکشن (Onset) لکھ دیا۔ نرس نے اس انجیکشن کا تقریباً آدھا حصہ لگایا۔ اس وقت تک ہمارے بیٹے کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ اور پاؤں نیلے پڑ چکے تھے، لیکن کسی نے بھی اس کی حالت پر توجہ نہ دی، اور ہمیں دوبارہ گھر بھیج دیا گیا۔
گھر جاتے ہوئے اس کا بخار 105°F تک پہنچ گیا۔ ہم فوراً اسے ایک دوسرے ہسپتال لے گئے، جہاں اسے فوری طور پر داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹرز کی ہر ممکن کوشش کے باوجود ہمارا 17 ماہ کا معصوم بیٹا اسی دن شام تقریباً 5:00 بجے انتقال کر گیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سول ہسپتال مری میں ہمارے بیٹے کو دیے گئے علاج کی منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ ہم جواب چاہتے ہیں، ذمہ داروں کا احتساب چاہتے ہیں، اور انصاف چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس ناقابلِ تصور سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایک معصوم کی جان سول ہسپتال مری میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث چلی گئی۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہو جانا ناقابلِ برداشت سانحہ ہے، اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا قانون کے مطابق احتساب انتہائی ضروری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور معصوم کی جان بھی اسی غفلت کی نذر ہو سکتی ہے۔
میں اپنے تمام میڈیا فیلوز، صحافی دوستوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور انصاف پسند لوگوں سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہوں کہ براہِ کرم اس معاملے پر آواز اٹھائیں، اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اور ہماری آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔
براہِ کرم ہماری آواز بنیں۔ ایک معصوم جان واپس نہیں آ سکتی، لیکن انصاف ضرور ہونا چاہیے۔
#JusticeForMuhammadSualehBinUmair #JusticeForSualeh #MedicalNegligence #CivilHospitalMurree #VoiceForJustice #THQHospitalMurree
Maryam Nawaz Sharif Raja Osama Sarwar Punjab Healthcare Commission - PHC PML-N Punjab
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
ایک شہری اپنی گاڑی میں سامان لیکر جا رہا تھا سامان بھی سارا اس کی کار کے اندر تھا اس کے باوجود ٹریفک وارڈن نے چالان کر دیاکہ گاڑی میں سامان نہیں لے جا سکتے
عجیب عذاب کی صورتحال ہے
آزاد کشمیر میں دلچسپ صورتحال ہے۔ وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور گورننس بالکل سندھ اور بلوچستان جیسی لیکن وہاں ایکشن کمیٹی کی بدمعاشی مسلم لیگ نون کی ذمے داری اور ناکامی ہے۔
اس سے اگلی صورتحال بھی اتنی ہی دلچسپ ہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پریذائیڈنگ افسران بھی پی پی آزاد کشمیر کے صدر کے گھر سے پولنگ سامان سمیت پکڑے جاتے ہیں مگر وہاں دھاندلی سے مسلم لیگ نون جیتی ہے۔
😂😂😂😂😂
کیسے کر لیتے ہو یار؟
Read this. What this Zio shill is saying is not wrong. But what he is not telling us is that this is exactly what Israel wanted. This is how they wanted to trap the Saudis and force it into making a choice between the bigger evil and lesser evil - get dragged into a war with Iran or shut up and get smashed. In both scenarios, the hope is that Saudi will eventually crack and then join the Abraham Accords. And stupid Iran is working overtime to make this happen. Now do you see why Araghchi saying that the Iranian state has Israeli plants at the highest level is no exaggeration?
مجھے پچھلے الیکشن کا یہ کلپ ملا ہےجب فیضی کمالات کےذریعے ن لیگ کو ہرایا گیا، جبکہ مریم نواز نے شاندار کمپین چلا کر پورےکشمیر کو ن لیگ بنا دیا تھا. اگر ن لیگ کودھاندلی سےہرایا نہ جاتا تو آج کشمیر کےیہ حالات بھی نہ ہوتے.
آپ سب یہ کلپ دیکھیں کہ کتنا چارجڈ کراؤڈ ہے.
@MaryamNSharif
@RShahzaddk جی زی ہو اور اس کا نالج مطالعہ اور حقائق پر مبنی ہو. ہو نہیں سکتا. سوشل میڈیا کی کسی 30 سیکنڈ کی وڈیو یا کسی محفل کی ماری بھنڈ ہی اسکا سورس ہوتی ہے. جلیانوالہ باغ، پٹھان اور پوسٹ مارٹم؟ او کون لوگ او تسی؟ حیرت ان دانشوروں پر ہے جو اس کو گلوریفائی کرتے ہیں.
کوا چلا ھنس کی چال
اپنی بھی بھول گیا
انڈیا میں یہ قانون صرف دلی میں ھے
جہاں بیس سال پرانی گاڑی اسکریپ ھوجاتی
اسکی وجہ دلی شہر میں لاکھوں گاڑیاں بیک وقت سڑک پر رواں دواں ھوتی
جس سے ٹریفک/ پالوشن کے بے پناہ مسائل کا سامنا ھوتا
انڈیا میں جو گاڑی دس لاکھ میں دستیاب یہاں وہ ستر لاکھ کی ملتی
اپ کسی بھی کار کمپنی افس میں ایویں شغل میں کال کرلیں دس برانڈز اپکے گھر اپکو اپکی شرائط پر کار دینے اپ کے گھر پہنچ جائینگے
جبکہ یہاں پچھلے سات سال سے گاڑی لینا جہاز لینے کے مترادف
اپنی عوام کو پہلے اتنا معاشی طور پر مضبوط تو کرلیں پھر ایسے شوق فرمائیں
گڑیا باجی سے گذارش ھے
جیسے ھر بڑا پراجیکٹ لاھور سے شروع کرتی ویسے ھی اس قانون کا اطلاق بھی پہلے لاھور سے کریں
پھر اسکے نتائج اور عوامی ردعمل دیکھنے کیبعد اگلا قدم اٹھائیں