جنم لیتی ہیں اور جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے یہ محاورہ ایسے ہی نہیں بنا۔ سیاست دان محض حکومت نہیں کرتے بلکہ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب وہ نمائندگی سے احتراز برتیں گے تو حق حکمرانی کھو جاتے ہیں۔
صوبوں کی تشکیل نو کے بجائے صوبوں کو فعال بلدیاتی نظام کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے۔ مسلط شدہ معاملات کبھی پروان نہیں چڑھ سکتے۔ مرکزیت ایک مسئلہ اس کا ادراک ضروری ہے۔ اس کا حل کیا ہو سکتا ہے یہ سیاستدانوں کو طے کرنا چاہیے۔ سیاسی عمل ہی دیر پا تبدیلی لا سکتا ہے۔ خواہشات عجلت میں
سیاسی جماعتیں ہمیشہ فوج کی چاکری کر سکتی ہیں لیکن فوج ہمیشہ ایک ہی جماعت کی چاکری نہیں کر سکتی کیونکہ ہم پاگل ہیں، فوج پاگل نہیں۔
مختلف قسم کے واہموں سے بچنے کے لیے اس کو لکھ کر دیوار پر لگا لیں۔
@Aadiiroy2 یہ سوال تو ان سے ہونا چاہیے جنہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے اسے کابینہ میں رکھا ہوا ہے۔ وزیراعظم شو کاز جاری کریں تب ہی خبر بنے گی اور صحافی بھی سوال اٹھائیں گے۔
خود احتسابی سیاست میں بہت ضروری ہے جن کی خوشنودی کے لیے عوام کا تیل نکالا گیا ہے وہ بھی خوش نہیں ہیں۔ عوامی حمایت/اعتماد کے بغیر سیاسی حکومت کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی۔ اب بھی وقت ہے عوام کو اپنی پالیسی کا مرکزی نقطہ بنائیں مسائل حل کی جانب بڑھیں گے
مسائل کو مستقل نظرانداز کرنے سے وہ اوجھل تو ہو سکتے ہیں حل نہیں ہو سکتے۔ مسائل کو حل کئے بغیر پائیدار ترقی کا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ وفاقی حکومت کے کسی پروجیکٹ کو دوراندیشی پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے متعلق ہے باقی آنیاں جانیاں ہی ہیں
پارلیمانی نظام کی بنیاد لوکل گورنمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیاں ہیں۔ ہمارا رویہ ان کی بابت کیسا رہا ہے۔ اب بھی اگر سیاسی جماعتیں خود سے کچھ نہ کریں تو کوئی تو آواز اٹھائے گا۔ یہ نظام لمبے عرصے تک بے آئین نہیں چل سکتا۔
محسن نقوی کی بات کو غیر ضروری قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس اعلان کو کسی کی خواہش قرار دے دیں لیکن کیا عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ 2008 سے پاکستان میں جمہوریت بحال کر دی گئی ہے۔ ابھی تک ان اٹھارہ سالوں میں بلدیاتی نظام کی تشکیل ناممکن تھی کس نے روکا ہوا تھا۔
جنہوں نے خود محض 80 نشستوں کے بل بوتے پر شیخ مجیب الرحمٰن کی 160 نشستوں کے عوامی مینڈیٹ کو روند ڈالا، اقتدار کی ہوس میں جمہوری فیصلہ تسلیم نہ کیا اور اپنی ضد و انا کے نتیجے میں پاکستان کو دو لخت ہونے تک پہنچا دیا، آج وہی لوگ اور انہی کے سیاسی وارث مسلم لیگ کی محض 9 نشستوں پر شور مچا رہے ہیں۔ تاریخ کا سب سے بڑا مینڈیٹ چور آج جمہوریت کا درس دے رہا ہے۔ یہ بدقسمت سیاست نسل در نسل دوسروں پر الزام تراشی کرتی رہے گی، مگر اپنے کردار کا احتساب کبھی نہیں کرے گی۔