مولانا کے بیان پر تبصرے پر جاوید ہاشمی کے گھر پولیس گھسی، گھر کر گھیراؤ ہوا، پرچہ ہوا
نورین نیازی کا بیان جو تین ماہ قبل ریکارڈ ہو کر نشر نہ ہونے کی شرط پر روک دیا گیا اس کے کچھ حصے لیک کرکے کارروائی جاری ہے
مولانا کی تقاریر بھی جاری، جلسے بھی جاری، کارروائی بھی نہیں
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے🤫
نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟
یہ ویڈیو دیکھیں اور افسر شاہی کا کمال پتا چلے گا !
جنوبی پنجاب میں گھر مٹی سے بنے یعنی لوگوں کی معاشی حالت کا اظہار مٹی کی دیواریں کررہی ہیں لیکن گھر کے سامنے ستھرا پنجاب کا ڈرم لگا ہوا ۔ کہنے کو صفائی کا پروجیکٹ ہے اب وہ غریب آدمی جو پکا گھر نہیں بنا پا رہا اسکی جیب سے " کوڑاکرکٹ " کا بِل نکالا جائے گا کہ دیکھو ہم صفائی کر رہے ہیں اور وہ کسی سیٹھ کی جیب میں جائے گا
کارگل میں کتنے شہداء کے جنازے وصول کیئے؟تم نے اپنے جنازوں کو ہندوؤں کے حوالے کیا،ہندوستان کے اصرار پر کرنل شیر جان کا جنازہ وصول کیا۔
مولانا فضل الرحمان
ہمیں کہا گیا کے پی میں PTI کی حکومت گرا کر آپ حکومت بنائیں، میں نے کہا: آپ ہمیں لوگ مہیا کر کے دیں گے میں اس گھوڑے پر سوار نہیں ہوں گا جس کے باگیں میرے ہاتھ میں نہ ہوں۔ مولانا فضل الرحمن
مولانا صاحب : اس بندے کا نام اور عہدہ بتائیں۔ آدھی ادھوری باتیں تو سب ہی بتاتے ہیں
کیا اب مولانا کے تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہو گا یا پھر کوئی مدرسہ کی زمیں کا کیس نیب میں فائل کیا جاے گا؟ NCCIA کا نوٹس نکلے گا یا پھر انکے کسی بھانجے کو فوجی عدالت سے سزا سنائی جاے گی؟
کیا انکی جماعت کو کسی قاضی سے بین کروایا جاے گا یا پھر پھر انکی کابینہ کے لوگوں کی قطار در قطار پریس کانفرنسز ہونگی جس میں وہ مولانا سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟؟
ویسے سوال سارے ہی غور طلب ہیں @OfficialDGISPR
ایک وضاحت ضروری ہے چونکہ یہ قرآن کا معاملہ ہے۔
سورہ النمل کی اس آیت نمبر 88 کا تعلق موجودہ دنیا سے نہیں، بلکہ قیامت کے دن کے ہولناک مناظر سے ہے۔ کیونکہ یہ پچھلی آیت 87 کا تسلسل ہے
"اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے..."
اس کے فوراً بعد اگلی آیت 88 میں پہاڑوں کے بادلوں کی طرح چلنے کا ذکر ہے۔
مفسرین کے مطابق، قیامت کے دن جب یہ عظیم الشان پہاڑ اپنی جگہوں سے اکھڑ کر روئی کے گالوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، تو اپنی وسعت کی وجہ سے دیکھنے والے کو لگے گا کہ ساکن ہیں، مگر وہ حقیقت میں تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ اسلئے اسے Tectonic Plates یا زمین کی حرکت یا گردشِ پر محمول کرنا درست نہیں ہو گا
"رواسی" اور "سحاب" میں زمانے کا فرق ہے
"رواسی" (مضبوطی سے گاڑے ہوئے) انکی زمین پر کیفیت کا نام ہے جو زمین کو ڈگمگانے سے روکنے والی کیلیں ہیں۔ لیکن قیامت کے دن یہی نظامِ کائنات بدل جائے گا اور یہ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔
ایک ہی وقت میں ایک چیز کا زمین کو ساکن رکھنا اور خود بادلوں کی طرح اڑنا سائنسی اور عقلی طور پر متصادم ہو جاتا ہے۔
لاہور کے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی(جی سی یو) میں کبھی بہت اونچی فرسٹ ڈویژن والوں کو ہی داخلہ ملتا تھا، اب بارہ شعبوں میں سیکنڈ ڈویژن والوں کو بھی بی ایس میں داخلہ ملا ہے اور ابھی اگلی لسٹ آنی ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سات شعبوں میں تو تھرڈ ڈویژنرز کو بھی داخلہ مل گیا ہے۔ بی ایس کی 6000 سیٹیں ہیں۔ پہلی میرٹ لسٹ لگنے کے بعد 4500 سیٹیں خالی رہیں۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بھی ساری نشستیں پر نہیں ہوئی تھیں ۔دوسری طرف سی ایس ایس کے امیدواروں کی تعداد چار سال میں آدھی ہوگئی ہے۔
یہ کس بات کے آثار ہیں ؟ سینیر صحافی.اسلم ملک
جیل کاٹنا بہت آسان ہے جیل مغرب سے لے کر فجر تک ہوتی ہے اس کے بعد آپ بیٹھے ہوئے ہیں لوگوں کے ساتھ گپیں مار رہے ہیں لوگوں کے ساتھ مل رہے ہیں ناشتہ کر رہے ہیں کھانا کھا رہے ہیں تو وقت گزر جاتا ہے ! روحیل اصغر ۔۔
انہوں نے جیلیں دیکھی ہی نہیں ان کی جیل بھی فائیو اسٹار ہوتی تھی ۔۔
لاہور کی جی سی یونیورسٹی میں داخلہ لینا طلباء کا خواب ہوتا تھا پاکستان کی تمام جامعات میں سب سے ہائی میرٹ جی سی کا ہوتا تھا، اس بار جی سی یونیورسٹی کے بارہ شعبوں میں سیکنڈ ڈویژن والوں کو بھی بی ایس میں داخلہ ملا ہے اور ابھی اگلی لسٹ آنی ہے۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سات شعبوں میں تو تھرڈ ڈویژنرز کو بھی داخلہ مل گیا ہے۔ بی ایس کی 6000 سیٹیں ہیں۔ پہلی میرٹ لسٹ لگنے کے بعد 4500 سیٹیں خالی رہیں۔ لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹیدکے پروفیسرز سوشل میڈیا پر داخلوں کے لیے ویڈیو پیغام دے رہے ہیں۔۔۔۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بھی ساری نشستیں پر نہیں ہوئی تھیں ۔
دوسری طرف سی ایس ایس کے امیدواروں کی تعداد چار سال میں آدھی ہوگئی ہے۔
یہ کس بات کے آثار ہیں ؟
کیا پاکستان کے نوجوان ملکی معاشی نظام سے مایوس ہوچکے؟؟
دیکھیں نا کمشنر بہاولپور کوئی عام آدمی تو ہیں نہیں جو انکی گاڑی بھی عوام الناس کی پارکنگ میں لگے ۔ نورمحل بہاولپور کے لائٹ شو کے لیے عوام پارکنگ میں گاڑی لگا کر آگے پیدل چل کر آئیں گے لیکن اشرافیہ کے لیے تو قانون نہیں ہوسکتا نا ۔ پھر کمشنر کاٹھیا صاحب نیچے لگی لرسیوں پر بھی بیٹھیں تو یہ مناسب تو نہیں نا اس لیے وہ سامنے موجود ریسٹورنٹ کی چھت پر بیٹھیں گے انکا اور عام آدمی کا فرق برقرار رہے
اللہ کے فضل سے ہمارے بابو خود کو انگریز کی مونچھ سے کم تو نہیں سمجھتے !