One of the most harrowing scenes ever captured on camera 💔💔💔
the moment occupying forces turned a Palestinian child into bait for anyone trying to rescue him.
The child was killed, and so was everyone who tried to save him.
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ایک ہفتہ قبل اغوا کی گئی 12 سالہ بچی کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گزشتہ رات اسے قتل کر دیا گیا!
کیا صرف اس لیے خاموش ہو کیونکہ وہ تمہارا اپنا بچہ نہیں؟ خاموش مت رہو!
ایک باپ اپنےشہید بیٹےکا شان، وقاراور بلند حوصلے کے ساتھ پاکستان زندہ باد❤️🇵🇰 کے فلک شگاف نعروں میں استقبال کر رہا ہے
جس دھرتی کےباپ اپنےشہید بیٹوں کو جھکی نگاہوں سےنہیں
بلکہ اٹھےہوئے سر کےساتھ رخصت کریں، اُس قوم کو وقت کبھی مٹا نہیں سکتاوہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے،سربلند رہتی ہے
بہت اچھا نظام کر دیا ہے خانہ کعبہ میں
ہر کوئی حطیم میں نوافل ادا کرنا چاہتا ہے
عورتوں کے لئے صبح ساڑھے سات
سے دوپہر گیارہ بجے تک
اور مردوں کے لئے رات دس سے دو بجے تک کے اوقات ہیں
یاد رہے حطیم خانہ کعبہ کا حصہ ہے
یہاں نوافل ادا کرنا اور خانہ کعبہ کے اندر نوافل ادا کرنا ایک برابر ہیں
اللہ پاک سب کو یہ سعادت نصیب فرمائے آمین
🚨 🚨 🚨
یہ باپ مزید راستہ طے کرنے کے قابل نہیں رہا اور رو پڑا اور ماں بھی اس کے ساتھ رونے لگی۔ یہ منظر غزہ میں روزانہ دہرایا جاتا ہے ظلم اور ستم بہت زیادہ ہے۔
"ہماری امی جنت گئی ہیں ہمارے لیئے کھانا لینے ، وہ وآپس نہیں آئیں اور ہم انکے لیئے پریشان ہیں "
پتہ نہیں یہ کون سی دنیا کے لوگ ہیں جن کا درد جن کی تکلیف کسی کے دل کی کیفیت نہیں بدل سکی 💔
شهيدة مجهولة الهوية، خرجت تبحث عن لقمة عيش لأطفالها في غزة، وما إن وصلت إلى نقطة توزيع المساعدات حتى اغتالها جندي صهيوني برصاصة غادرة .
استُشهدت جائعة، صابرة…
رصاصة قتلت جسدها، لكن وجهها يروي الحكاية.
اس بچے کانام محمد ہے۔۔۔
یہ ظلم عالم اسلام کے مالدار ترین ممالک کے پڑوس میں ان کے سرحدات سے پیوستہ ہورہاہے۔
غزہ میں جاری یہ ظلم،سفاکیت، درندگی دیکھی نہیں جاسکتی،آج روزنامہ ڈان کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ایک ہزار بھوکے پیاسے افراد کو امداد تقسیم کے مراکز پر قتل کردیاگیا ہے جبکہ کل 21 افراد بھوک سے انتقال کر گئے۔
اے دنیا کے انسانوں، اس ظلم کو بند کرو۔