جی، یہ لوگ بلکل ویسے ہی اپنے حصٌے کی زمین ساتھ لاۓ تھے جیسے لُٹے پِٹے یہودی مہاجر یورپ سے فلسطین میں لاۓ تھے۔
یہ بے غیرت ھم اردو اسپیکنگ لوگوں کے نام پر کوئلہ ہیں!!!!
سرفراز بگٹی کو ہٹا کر صادق سنجرانی کو وزیر اعلی لگانے کے لیے نواز شریف اور زرداری صاحب کا ٹاکرا چل رہا ہے بلوچستان بڑا مال پانی آتا ہے تو شریف کہتے ہیں وہ مال پانی ہمیں بھی ملنا چاہیے
عاصم منیر کو شریفوں نے تو استعمال کیا ہی ہے محسن نقوی بھی اس کو استعمال ہی کر رہا ہے کیونکہ وہ وزیراعظم بننا چاہتا ہے
عادل راجہ
🚨🚨 بریکینگ نیوز : عاصم منیر کو ہٹانے کی تیاری؟ عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی آمنے سامنے, ۔ عادل راجہ کے تہلکہ خیز انکشافات ۔!!!!🔥🔥🛑
عاصم منیر کو ہٹانے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ یہ الزام لگایا جا رہا ہے, کہ عاصم منیر کو باہر سے پیسے نہیں مل رہے ۔ کوئی ملک پیسے دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ سرفراز بگٹی نے جو بیان دیا ۔ اس میں عاصم ملک کی مرضی شامل تھی ۔ عاصم منیر پر جرنیلوں کی طرف سے دباؤ ہے ۔ عادل راجہ 🚨🔥🔥
یہ میں کیا سن رہا ہوں؟
کو اردو بولنے والوں کا اردو بولنے والوں کے ہاتھوں قتل عام ہوا ہے ، وجییہ ثانی
کہاں ہو منفرد والو؟ شائن اسٹائن والو ، ٹوٹ پھوٹ والو ، ترجمان والو ، کاظمی والو ، واسع جلیل والو ؟؟
کراچی کی روشنیاں بحال ہوئی ہیں ۔
بوری بند لاشیں ، جلائو گھیرائو ، بھائی گیری ، چائینہ کٹنگ، بسیں املاک جلانا ، قربانی کھالوں پر خونریزی ، زبان و نسل کی بنیاد پر قتل و غارت ، ایک منٹ میں شہر کے اندر غنڈوں کا نکلنا بند ہو چکا ہے ، کراچی سندھ کی راجدھانی میں روشنیاں بحال ہورہی ہیں۔
وسعت اللہ خان نے انتہائی اہم نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے. سندھ کی تقسیم کا مقصد پورا کرنے کیلئے، کراچی سے کشمور تک لسانی فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے. سندھ کے عوام اس سازش کو سمجھتے ہوئے کسی بات پر اشتعال میں نہ آئیں.
لسانی تنظیم کی جانب سے انتہائی نفرت انگیز، متعصب مہم شروع کی ہوئی ہے تاکہ سندھ کے عوام اشتعال میں آکر باہم دست و گریباں ہوجائیں. یہ پاکستان کے استحکام کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے.
لسانی نفرتوں کو مزید تیز کرنے کیلئے کچھ نام نہاد "پڑھے لکھے" "باشعور" لوگ اور صحافیوں کے روپ میں جگادری متحرک ہیں اور مزید متحرک ہوں گے.
عوام ان سازشی بیانات،سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مہم پر توجہ نہ دیں، کراچی سے کشمور تک تمام لسانی اکائیاں صبر کا مظاہرہ کرتے ہو پرامن رہ کر تمام سازشوں کو ناکام بنائیں، سندھ، پاکستان ہم سب کا ہے، اس کے خلاف سازش کو پرامن رہ کر ناکام بنائیں.
سندھ کی تقسیم ناممکن ہے؛ لیکن اپنے ناجائز منصوبوں کے چکر میں پھر سے سندھ میں لسانی اور دہشتگرد سیاست کو ہوا دینا صرف سندھ کے ساتھ ہی نہیں ملک کو بھی ایک اور دلدل اور آگ میں دھکیلنے کے مترادف ہے! ایم کیو ایم کے مردے کو سیاسی قبر سے اُٹھا کے “آپ” منظر پر لائے ہیں!
بڑی بریکنگ نیوز:
🇮🇱 بنیامین نیتن یاہو اب دوبارہ کبھی اسرائیل کے وزیرِاعظم نہیں بن سکیں گے۔
عرب جماعتوں نے گادی آئزن کوٹ کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا ہے اور ان کی تمام شرائط بھی قبول کر لی ہیں۔
گادی آئزن کوٹ 10 نومبر کو اسرائیل کے وزیرِاعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
@grok اس خبر کی تصدیق کرو۔
کراچی کےتمام جعلی ڈومیسائیلزپنجابKPوالےبنواتے ہیں۔حمزہ عباسی کون تھا؟کراچی ڈومیسائیل پرCSSمیں سیٹ حاصل کی2سال قبلMDCATمیں جعلی ڈومیسائیل پر انٹری ٹیسٹ میں پکڑےگۓامیدوار پنجابی تھےجنکاتم نام نہی لیتےساراالزام سندھیوں پرڈال دیتےہواس بدنیتی کی وجہ سےمسئلہ لسانی بن جاتااورحل نہی ہوتا
ڈاکٹر معید پیرزادہ کا اپنے ویلاگ میں انتہائی دلچسپ تجزیہ؛🔥🔥
ایک معتبر ذریعے کریڈیبل سورس کے مطابق، جنرل عاصم منیر ایک ایسے وقت میں، جب انہوں نے تمام مزاحمت پر قابو پا لیا ہے، جب پاکستان میں نہ جانے سو سے زیادہ صوبے بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں، تو پھر وہ گزشتہ چند دنوں سے کیوں پریشان ہیں؟
معتبر ذریعے کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر یہ محسوس کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا رویہ اب جنرل عاصم منیر کے حوالے سے ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔
جنرل عاصم منیر نے جو چھ یا سات لابیز رکھی ہوئی ہیں، ان کا مینڈیٹ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی جائے کہ وہ ہر مہینے کم از کم ایک مرتبہ جنرل عاصم منیر کا نام لے کر یہ کہیں کہ فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اس قسم کا کوئی بیان یا تبصرہ سامنے آئے، لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے ان سے ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے اور جن سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں، وہ پوری نہیں ہو سکیں۔
حالانکہ جنرل عاصم منیر نے بہت کوششیں کی ہیں، بہت چھلانگیں لگائی ہیں۔ مکہ، ایکورڈ، ابراہام ایکورڈز اور اس طرح کے مختلف معاملات میں وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم جنرل عاصم منیر سے کافی حد تک مایوس ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جنرل عاصم منیر سے جو توقعات وابستہ تھیں، وہ پوری نہیں ہوئیں۔
اب آپ یاد کریں کہ چند دن پہلے، یعنی دو تین دن پہلے، جنرل عاصم منیر اچانک محسن نقوی کے ہمراہ ایران پہنچے، جہاں انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ جناب ڈاکٹر عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔
وہاں ان کی ایک ملاقات ایران کی نیشنل سپریم سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جناب جنرل محسن رضائی سے بھی ہوئی۔
اس ملاقات میں بہت سے لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ جنرل عاصم منیر کی باڈی لینگویج زیادہ پُراعتماد نہیں تھی۔ وہ دباؤ میں نظر آ رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جنرل محسن رضائی اور ایرانی حکام کو خوش کرنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہے ہیں۔
میں ابھی آپ کو جو بتا رہا ہوں کہ جنرل عاصم منیر پریشان نظر آتے ہیں، اس کا تعلق بھی اسی معاملے سے ہے کہ ایران کے حوالے سے ان سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ انہیں پورا نہیں کر پا رہے۔
جنرل عاصم منیر نے یہ بھی سوچا تھا کہ شاید وہ امریکیوں اور ایرانیوں کے درمیان ایک ملاقات کروا سکیں گے۔ ان کی کوشش تھی کہ یہ ملاقات پاکستان میں ہو جائے، لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا۔
قیامت (تباہی) کا پہلا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔
آسٹریلیا اب اپنے شہریوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ خوراک اور پانی کا ذخیرہ کر لیں۔
یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پیش آنے والا سب سے عجیب اتفاق ہے۔
آٹھ ممالک بیک وقت اپنے شہریوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ خوراک کی قلت کے لیے تیار رہیں۔
برطانیہ، جرمنی، سویڈن، ناروے، فرانس، جاپان، امریکہ اور اب آسٹریلیا۔
حکومتیں ایک ایسے خطرے کی وجہ سے شدید گھبراہٹ کا شکار ہیں جس سے عوام ابھی تک بے خبر ہیں۔
ایک تباہ کن سائبر حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ، بجلی، پانی، خوراک، بینک، سپر مارکیٹس اور اے ٹی ایم (ATMs)۔
یہ سب کچھ مہینوں تک درہم برہم ہو سکتا ہے۔
فرانس کی ایک سپر مارکیٹ کے ریفریجریشن (کولنگ) سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملے کے نتیجے میں 350 اسٹورز میں درجہ حرارت بڑھ گیا۔
اس کے باعث بڑی مقدار میں خوراک خراب ہو گئی۔
امریکی فوجی اڈوں کے اسٹورز (commissaries) میں فریزر کی خرابیوں کی وجوہات کے بارے میں پینٹاگون کے پاس ابھی تک کوئی جواب نہیں ہے۔
اس واقعے میں بھی بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو گئی۔
اگلی بڑی اور کئی سال تک جاری رہنے والی جنگ کا آغاز سائبر حملوں کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
یورپ کے کئی ممالک نے اہم بنیادی ڈھانچے (critical infrastructure) پر ہونے والے حالیہ سائبر حملوں کا تعلق روس سے منسلک عناصر سے جوڑا ہے۔
ان کا الزام ہے کہ روسی گروہوں نے پانی کی تنصیبات اور خوراک سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن سائبر حملے کیے ہیں۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ روس ان سائبر حملوں کا استعمال حکومتوں کی جاسوسی کے لیے کر رہا ہے۔
برطانیہ پہلے ہی روس کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی خاطر قربانیاں دینے کے لیے تیار رہیں۔
ان کا خیال ہے کہ جنگ شروع ہونے میں اب صرف 1000 دن باقی ہیں۔
نیٹو (NATO) کے رکن ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے اور جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نے اپنے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سائبر دہشت گرد بھارت کے بینکوں اور پورے مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتے ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی (یا جنگ) بھی جلد ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) 2029 کے بعد بھی طویل عرصے تک بند رہ سکتی ہے۔
'انصار اللہ' (حوثی) اب ریاض پر شدید بمباری کر رہے ہیں۔
'باب المندب' (آبنائے) بھی سعودی عرب کے لیے برسوں تک بند رہ سکتی ہے۔
روس اور یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ہر ہفتے تباہ کیا جا رہا ہے۔
مہنگائی اور ایندھن کے بحران کی وجہ سے کئی ممالک میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔
اگلے مرحلے میں ممکنہ طور پر کھاد کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
اور اس صورتحال سے لاکھوں لوگ بھوک اور قحط کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔ یوکرین جیسے ممالک نے پہلے ہی سپر مارکیٹوں میں پاستا، کوکنگ آئل، انڈوں اور چینی کی خریداری پر حدود عائد کر دی ہیں۔
جلد ہی، یہ صورتحال دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔
حکومتیں یہ طے کریں گی کہ لوگوں کو کتنا کھانے کو ملے گا۔
فرض کریں کہ سائبر حملوں میں شدت آ جاتی ہے اور یہ پہلے سے موجود بحرانوں میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔
نئی جنگیں، لاک ڈاؤن، بجلی کی بندش (بلیک آؤٹ) اور خوراک کی قلت۔
اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی ہولناک ہو سکتی ہے۔
اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل، نیتن یاہو 53 نشستوں کے ساتھ آگے، عرب اتحاد کی 18 نشستیں، حکومت سازی کے لیے 61 کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام
- لیکوڈ پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سرفہرست، نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کی مجموعی نشستیں 53 ہوگئیں۔
- گاڈی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کرلیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد کی مجموعی نشستیں 48 ہیں۔
- عرب اتحاد کی 18 نشستیں فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگئیں، حکومت سازی میں عرب پارلیمانی نمائندوں کا کردار اہم ہوگیا۔
تفصیلی خبر:
تل ابیب:
اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمنٹ میں سب سے بڑا سیاسی بلاک بن کر سامنے آیا ہے، تاہم وہ حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کے پورے اتحادی بلاک کی مجموعی نشستوں کی تعداد 53 ہے۔ حکومت بنانے کے لیے نیتن یاہو کو مزید 8 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔
دوسری جانب گاڈی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کے اپوزیشن اتحاد کی مجموعی نشستیں 48 ہیں۔
انتخابی نتائج میں عرب اتحاد کی 18 نشستیں بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ پارلیمنٹ میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث عرب پارلیمانی دھڑے کی حمایت حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔
نتائج کے اعلان کے بعد اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کا مرحلہ شروع ہوگا۔ نیتن یاہو کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے 53 نشستوں پر مشتمل اتحادی بلاک کو 61 کے مطلوبہ ہندسے تک کیسے پہنچاتے ہیں۔
اسی طرح اپوزیشن کو بھی حکومت بنانے کے لیے اپنی موجودہ 48 نشستوں سے آگے بڑھ کر مزید ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں چھوٹی جماعتوں اور عرب نمائندوں کی پارلیمانی حمایت آئندہ اسرائیلی حکومت کی تشکیل کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کرسکتی ہے۔
#Newsupdate
#IsraelElections
#Israel #Geopolitics
@netanyahu
جمائمہ خان کے ٹویٹ میں ایک بہت بڑا اشارہ ہے۔
وہ کہہ رہی ہیں کہ پاکستان رجیم نے ان کے بیٹے کو سوشل میڈیا اور سیاست میں آنے پر مجبور کر دیا۔
دوسری طرف سلیمان خان نے اپنے ٹوٹر ہینڈل میں آخر پر "نیازی" لکھا ہے۔
مطلب یہ کہ اگر خدانخواستہ ان کے والد کو کچھ ہوا تو عمران خان کے فرزند سیاست میں آنے پر مجبور ہوجائیں گے، اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے، اور غاصبوں کو انجام تک پہنچانے کے لئے جدوجہد کریں گے۔
آخر ان کا DNA نیازی ہے۔ نیازی کبھی اپنے دشمن کو معاف نہیں کرتے۔
انڈیا(🇮🇳) میں مسلمانوں کو سرعام سڑکوں پر مارا جا رہا ہے یہ مودی کا اصل چہرہ ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش کیوں ہیں؟ دنیا دیکھ رہی ہے مگر بول نہیں رہی