تو ڈاکٹر شازیہ نے ہراسمنٹ کے مسائل اٹھائے ، بجائے کہ تمام اداروں میں قانون کے مطابق ہراسمنٹ کمیٹی بناتے، الٹا ڈاکٹر صاحبہ کا ڈیٹا پبلک کر دیا۔۔ در فٹے منہ۔۔ اس نظام سے ہم توقع رکھیں کہ وہ مسائل حل کریں گے۔۔
@PIRSANIA@ShahNaw59347296 ھاڻي ميمڻ صاحب کي گهرجي ته ان ڌوڪيباز شخص جو ڏس پتو انهن کي ڏي ۽ اهي هن کان اچي حساب ڪتاب وٺن ۽ راڄوڻي ڪرڻ لاء ان ڌاريي شخص تي سنڌ سرڪار ۽ ميمڻ صاحب جا مٽ مائٽ دٻاء وجهن۔
کشمیر کے لوگوں کا دیگرصوبوں میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ بلکل جائز اور درست ہے ماضی میں ہم نے دیکھا کیسے کشمیریوں کی نشستوں پرMQMنےکراچی میں بیٹھ کر مشرف کے زور پر دھاندلی کرکے دونوں نشستیں جیتیں اسطرح کی نشستیں کشمیر کے معاملات میں غیرلوگوں کی مداخلت ہے
Kashmir
کشمیر کمیٹی احتجاج اور مسلط لوگ
کشمیری اپنا جائز حق مانگ رہےہیں مہاجر کے سیٹیں ختم کردو تو ختم کردو لیکن مسلط ٹولے کو تکلیف یہ ہے اگر یہ سیٹیں ختم کرلی تو ہمارا کنٹرول ختم ہو جائےگا لیکن یہ کشمیری لوگ ہیں یہ اپنا حق بازوں کی زور پر لیتے ہیں بہتر ہوگا انکے مطالبات مان کر انکے حق کو تسلیم کرلیے جائیں پچھلی بار وعدہ کیا لیکن پھر مکر گئے اب وفاقی حکومت نے طاقت سے حل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے بھاری نفری پہنچادی ہے اور کل سے انٹرنیٹ بند ہوگا لیکن یہ یاد رکھیں یہ کشمیری ہیں یہ اپکو چنے چبوادیں گے اور یہ پیچھے ہٹنے والے نہیں نہ یہ مفادپرست ہیں
سوشل میڈیا والوں سے گزارش ہے ان بہن بھائیوں کی آواز ضرور بنیں کیونکہ غلام میڈیا تو دکھانے کی جرات نہیں کرسکتا
هاڻي ته ڪراچي ۾PPجا تنظيمي عهديدار به افغانين ۽ ڌارين هٿان محفوظ ناهن۔هڪ نياڻي جي تي پٺاڻن حملو ڪيو پوء به انکي سوشل ميڊيا تي فرياد رکڻي پوي ٿي۔ ڪراچي ۾ رهندڙ سنڌي پيپلن جي ڪيس تي به قومپرستن کي اواز ٿو اٿارڻو پوي
ڌاريو چاهي ضيا جو پيروڪار هجي پوء به هي انجوساٿ ڏينداپرسنڌي جونه
@aasia_ishaque بس پھینکتے جائو لوگوں کو بیان بازی سے مطمئن کرو
کوئی فرق نہیں پڑا شہر میں ابھی بھی وہی عذاب جاری ہے
کراچی کو بس شاہ فیصل ماڈل کالونی تک محدود سمجھا ہوا ہے
اي سنڌ واسين
هي ظلم ۽ بربريت ڏسندا هلو
جيئي سنڌ محاذ چيئرمين رياض علي چانڊيو جو جي بدين مٺي روڊ تي قائم پيٽرول پمپ ڊاهڻ لاءِ پوليس اٽالا ۽ ڪرين مشينون پهچي ويون آهن
رياض علي چانڊيو جو ڏوهه اهو آهي ته هو سنڌ جي وسيلن جي وارثي لاءِ ڳالهائي ٿو سنڌو درياھ تي پنجاب جي قبضي غيرقانوني طور ٺھندڙ ڪئنالن مذهبي انتهاپسندي منشيات فروشي ۽ حڪمرانن جي ڦرلٽ خلاف ڳالهائي ٿو سنڌين جي حقن لاءِ آواز بلند ڪري ٿو
یہ کام کسی سندھی قومپرست نے تو نہیں کیا پھر بھی انکو لاپتہ کرکے برسوں تک ازیت اور عقوبت خانے میں رکھا جاتا ہے بلکہ مورو میں تو صرف پرامن احتجاج کرنے پر عورت سمیت چار انسانوں کو پیپلزپارٹی حکومت نے مار دیا کئی گرفتار ہیں اور کچھ تاحیات اپاہج ہوگئے
Kashmir
نمک حرامی افغانی ہو یا کشمیری حل صرف ماتھے پر سوراخ ہے
جھنڈا جلانا یا جھنڈا پھاڑنا یا پاکستان کے نام کو ایسے مٹانا غداری کے زمرے میں آتا ہے
ان کے لیے گمنام انجیکشن ہونے چاہیے
جب لاہور سے بیٹھ کر ایک مخصوص لسانی ٹولے کو استعمال کرکے سندھ کو توڑنے کی باتیں کروگے محکوم صوبوں کو وفاق میں انکا جائز حق نہیں ملے گا تو پھر مختلف ریجنز سے یہی اواز ہی اٹھے گی
Slogans for the 'liberation' of various regions across Pakistan, India, and China are hollow, baseless slogans devoid of strategic substance. None of these states can afford the creation of lawless, 'no-man's lands' along their borders. These areas would immediately transform into epicenters of lawlessness and permanent conflict. Such fragmented territories would only serve as permanent conduits for instability, ultimately harming the very populations these slogans claim to support.
نسل پرست معصب پناہگیر اردومیڈیا نے اس واقعےکو اچھالنے کے بجائے چھپادیا کیونکہ یہ لسانیت میں اپنی قومیت کے ہرجرم کوچھپاتے اورقاتل کوہیروبناتےہیں
کراچی میں جرائم کو چھپانے کا سستا طریقہ بس جئے مہاجر کہو
@wajih_sani@nadia_a_mirza@ZahidMansori@amberdanishh
مہاجروں کا لیڈر جئے مہاجر کا نعرہ لگاکر کراچی کے پےسوں پر اپنی بیٹی کو جم ٹریننگ بھی امریکا میں دلا رہا ہے جنکہ پیچھے نسل پرست لسانی غلامی کا شکار برباد مہاجروں کا مہاجر لسانیت دیکر دوسرے اشوز پر لگادیا
لسانیت کے نام پر کرپشن چوری کرنا اسان ہے
Sindh is once again facing a severe water crisis, with shortages of 29% at Guddu, 36% at Sukkur, and 57% at Kotri Barrage. Meanwhile, Punjab’s reservoirs are full and its flood canals continue to receive water.
This injustice against Sindh has persisted for decades.
سنڌ جي سڄي پوليس سسٽم کي نچائيندڙ هي معمولي ڪلرڪ وڏي ڌام ڌوم سان وري واپس ايندي ۽ وڏي شان ۽ ڌوم سان ساڳيا پوليس افيسر کيس سليوٽ ڪندا ڇو ته پيپلزپارٽي جي گورننس انهن واسينگ نما وارن تي ئي ته هلي ٿي جٿي نه ڪا ميرٽ آهي نه ڪو ايمانداري جو نظام آھي۔۔
@SumoRizvi@Current_Issues_ اور کراچی جہاں پناہگیر جنکو کراچی کے اصل باسیوں نے پناہ دی تھی انکو غیرمقامی کہتے اور نمک حرامی پن لسانی تفریق نفرت جھوٹ کو اپنا اخلاق تہذیب اور حق کہتے ہیں
کراچی میں ایک شخص نےجنسی تعلق کی بات پربیوی قتل کردی مگر زیادہ تر لوگ محض اس لیے قاتل کو بزرگ چاچا بڑامیاں زہنی مریض کہہ کر ہمدردی جتارہےمعصوم ہیرو بنارہےکیونکہ قاتل انکی قومیت کاہے
متعصب اردو میڈیا نےاس پررپورٹ نہی چلائی
کسطرح لسانی انا میں یہ اپنے قاتلوں کرمنلز کوہیروبناتےہیں😱
پیپلزپارٹی اورضمیر عباسی کی کرپشن نالائقی کی تو کوئی حد ہی مقرر نہی مگر اس کھوسہ کی اپنی معلومات کا لیول بھی تکوں پرہے زیادہ ترسنی سنائی باتوں کوبغیرثبوت لکھ دیتا ہےحیرت ہےانویسٹیگیٹو صحافی بھی دھوکہ کھاجاتےہیں اب اس سےاندازہ ہوتا ہےپاکستان میں انویسٹیگیٹو رپورٹنگ کامعیار کیاہوگا
سندھ کے ایک 19 گریڈ کے طاقتور افسر کی کرپشن کی کہانی
جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او (FWO) کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔
طاقتور افسرکو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔
بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے 17 ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کرپٹ افسر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔
ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔
مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔
جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔
سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ...
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔جاری ہے 👇
ہر بندر اور بڑے مونچھوں والے گدھوں کی سندھ کی دل کراچی پر میلی آنکھ ہے
یہ پاکستان کے نیتن یاہو اور مودی ہیں
#PakMediatingPeace#PakistanPeaceBroker
PNS Aslat
جب مسجد میں مولوی بچے سے زنا کرتے پکڑا جاتا ہے تو کسی دیندار کو نہ مساجد کے تقدس کا خیال اتا نہ دین مذہب اور گستاخی لگتی مگر ایک شوٹنگ سے تقدس کا خیال اجاگر ہوتا ہے
کیا منافقت پائی ہے
کراچی کی عثمان غنی مسجد میں ڈرامے کی شوٹنگ ہوئی ہے یہ عمل مسجد کے تقدس کے سراسر منافی ہے یہ عبادت کی جگہ ہے اور اسکے اپنے احکام و آداب ہیں افسوس ھیکہ مسجد انتظامیہ نے اسکی اجازت دی