غروبِ آفتاب کا منظَر، حرم کی پرسکوں فضا
ہر ایک سمت سے آئے 'یا ربّ' کی پکار و دعا
سیاہِ کسوہ کو چھو کر جو لوٹتی ہے ہوا
وہ دل کے زنگ مٹائے، بنے ہر دُکھ کی دوا
*کبھی اَللّٰہ ہَماری پَسندیدہ چیزوں کو ہَم سے دُور نَہیں کَرتا بَلکہ ہَمَارے دِل کو اَپنی طَرَف زِیادہ مَضبوطی سے جَوڑنا چاہتا ہے۔آزَمائشیں سَزا نَہیں ہوتیں، اَکثر وَہ رَب کی خَاص مَحَبّت اَوࢪ تَربِیَت کا حِصّہ ہوتی ہیں۔ 🤍
اس شخص کو کبھی نہ چھوڑیں جو آپ سے محبت، خیال، احترام اور اپنائیت رکھتا ہو، گوہر رشید
گوہر رشید نے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ، دونوں طرح کے لوگوں کے لیے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا ایک قول شیئر کیا: "اس شخص کو کبھی نہ چھوڑیں جو آپ سے محبت، خیال، احترام اور اپنائیت رکھتا ہو۔" یہ ایک سادہ سی یاد دہانی ہے کہ مخلص اور سچے لوگ آسانی سے نہیں ملتے۔
شائقین، کیا آپ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے ان الفاظ سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنے خیالات کا اظہار احترام کے ساتھ کریں۔
#GoharRasheed #HazratAli #LoveAndRespect
پاکولا کی ڈیڑھ لیٹر والی پانی کی بوتل لینے کے بعد جب میں نے 500 روپے دیے اور بقایا میں صرف سو سو کے نوٹوں کے ساتھ ایک 20 روپے کا نوٹ دیکھا تو میں تھوڑا سا چونک گیا۔
میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کیا ایک سرکاری ہسپتال میں عام طور پر 100 سے 120 روپے میں ملنے والی پانی کی بوتل 180 روپے میں دی جا رہی ہے؟
میں نے ذرا حیرت سے پوچھا تو دکاندار نے بتایا:
"نہیں جناب، 180 کی نہیں… صرف 80 روپے کی دی ہے۔"
اس بار حیرت کا جھٹکا پہلے سے کچھ زیادہ زور سے لگا۔
عام طور پر کسی سرکاری ہسپتال، ریلوے اسٹیشن یا تفریحی مقام پر 120 روپے کی چیز 180 میں مل جائے تو دکھ تو ہوتا ہے، لیکن حیرت نہیں ہوتی۔ موٹروے پر تو آدمی قیمت پوچھنے سے پہلے ہی اپنے دل کو سمجھا لیتا ہے کہ "چلو، مجبوری ہے!"
لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا۔
120 روپے کی ملنے والی پانی کی بوتل 80 روپے میں!
پانی لے کر میں تو آگے چلا گیا، مگر یہ حیرت میرے ساتھ چلتی رہی۔ آخرکار واپس پلٹا اور کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں واقع کراچی انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کے ہسپتال میں موجود اسی کینٹین پر دوبارہ پہنچ گیا۔
میں نے دکاندار سے پھر پوچھا:
"بھائی، واقعی آپ نے مجھے 120 روپے والی بوتل 80 روپے میں دی ہے؟"
اس نے بہت سادگی سے جواب دیا:
"جی، یہ ہمارے سیٹھ کی ہدایات ہیں کہ ہر چیز کی قیمت کم رکھنی ہے۔ اور اگر کوئی شخص بہت غریب محسوس ہو یا خود کہے کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اسے جو چیز چاہیے، فی سبیل اللہ بھی دے سکتے ہیں۔"
بس… اس جواب نے مجھے خاموش کر دیا۔
میں آج یہاں ایک مریض کی عیادت کے لیے آیا تھا۔ ہسپتال کی فضا، مریضوں کے چہرے، پریشانی، بیماری اور لوگوں کی بے بسی کے درمیان انسان کا دل ویسے ہی بوجھل ہوتا ہے، لیکن اس چھوٹی سی بات نے دل میں ایک عجیب سی خوشی اور اطمینان پیدا کر دیا۔
کینٹین میں چائے صرف 30 روپے کی تھی، چکن بریانی کا ایک پاؤ 80 اور سموسہ 20 روپے کا تھا اور باقی چیزیں بھی عام مارکیٹ کے مقابلے میں مناسب اور کم قیمت پر دستیاب تھیں۔
ہم اکثر سوشل میڈیا پر بڑے بڑے فلاحی کاموں کی تصاویر دیکھتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انسانیت کسی بڑے بینر، اشتہار یا اعلان کی صورت میں نہیں بلکہ 20 روپے کے سموسے، 30 روپے کی چائے اور 80 روپے کی پانی کی بوتل کی شکل میں سامنے آتی ہے۔
آج اس کینٹین سے صرف پانی کی بوتل نہیں خریدی، بلکہ ایک چھوٹا سا یقین بھی ساتھ لے کر نکلا ہوں:
انسانیت ابھی زندہ ہے۔ ❤️
اللہ اس سوچ کے مالک کو، اس کے کاروبار کو اور اس نیکی میں شریک ہر شخص کو برکت دے۔ آمین۔ 🤲
✍️ حافظ طاہر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جو لوگ (دنیا میں) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں، قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے۔ سوائے اُن کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور اُنہوں نے اسے دائیں بائیں، آگے پیچھے خرچ کیا ہو، اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔“
صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6443
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تین باتوں پر میں قسم کھا سکتا ہوں: صدقہ کرنے سے کسی کا مال کم نہیں ہوتا، جس بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے (معاف کر دے) تو اللہ لازماً اس کی عزت بڑھا دیتا ہے، اور جو شخص سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(جامع ترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: "آپ ﷺ نہ فحش گو تھے،نہ فحش باتیں پسند فرماتے تھے،نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے،اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے؛ بلکہ آپ ﷺ معاف فرما دیتے اور درگزر سے کام لیتے تھے(سنن ترمذی)