Pakistan's batting has once more suffered a dramatic collapse in the first Test against the West Indies. After getting into a reasonable position, the lower order folded quickly, continuing a worrying trend that has appeared repeatedly over the last year
#WIvPAK
صلوا علی النبي محمد ﷺ🤍
اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد،
اللهم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد،
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
"بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔" (سورۃ الاحزاب: 56)
نبی ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔"
#ليلة_الجمعة#درودو_سلام
السّلَامُ عَلیکمُ وَرَحــَـــــمةُاللّهِ وَبَرَكَآتُهُ🍂
#صباح_الخيـر#درودو_سلام#خاتم_النبیین_محمدﷺ
اے پروردگار اُمتِ مسلمہ پر رحم فرما اور پوری دنیا میں ہدایت کی ہوائیں چلا دے
آمیــــن یاربّ العالمیـــن
جیو پھر بھی باز نہ آیا ۔ عوام اور علماء اگلی جنگ کے لیئے تیار رہیں!
جیو نیوز نے اگرچہ معذرت جاری کر دی ہے اور پیمرا نے بھی اس کا لائسنس 15 دن کے لیے معطل کر دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی اپنی غلطی کا احساس ہے تو پھر اس کی نشریات یوٹیوب پر کیوں جاری ہیں؟
اگر یہ صرف اس بنیاد پر جاری ہیں کہ یوٹیوب پیمرا کے براہِ راست دائرۂ اختیار میں نہیں آتا، تو یہ معافی کی روح کے مطابق نہیں۔
ہم اس معاملے پر متعلقہ اداروں سے قانونی اور آئینی طریقے سے رابطے میں ہیں، اور ہمارا واحد رستہ یہی ہے کہ مسئلہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل ہو۔
اگر ضرورت پیش آئی تو ہم علماء کی قیادت میں عوام کو PTA اور دیگر مجاز فورمز، تک اپنی شکایات مہذب، پُرامن اور قانونی طریقے سے پہنچانے کا طریقۂ کار بھی فراہم کریں گے۔
بہ الفاظِ دیگر، پیمرا کے پاس ہزاروں درخواستیں پہنچانے کے لیئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔
جاگیرِ مصطفیٰ میں عزتِ مصطفیٰ پر کوئی سمجھوتہ نہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
ہم آپ کو ہر پیش رفت سے بروقت آگاہ کرتے رہیں گے۔
معذرت وزیراعظم صاحب!
پیٹرول کی قیمت بڑھاتے وقت آپ کی گفتگو ایسے تھی جیسے عوام کے دکھ میں بےہوش ہی نہ ہو جائیں۔
آج کم کرنے کا وقت تھا تو پیٹرولیم کمپنیاں اور FBR وغیرہ آپ کے چہیتے نکلے۔عوامی مفاد سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں۔ آپ صرف اشرافیہ کے مفاد کے نگران ہیں
@CMShehbaz@PakPMO
عجیب بات یہ ہے کہ محرم صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ہوتا ہے لیکن گستاخیاں صرف پاکستان میں ہوتی ہیں، جہاں باقاعدہ قانون موجود ہے اس کے خلاف لیکن انتشار اور فساد برپا کرنے کیلئے ہر سال صحابہ کی شان میں گستاخیاں کھلے عام ہوتی ہیں، اگر ان کے خلاف کوئ بولے تو FIR ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے ان گستاخوں کی بدمعاشی بڑھ رہی ہے، آئے روز ملک میں فسادی ٹولہ ان کو سپورٹ کرتا ہے، قانونی ادارے ہوش کے ناخن لے اس ڈوبتے سسکتے ملک میں اور انتشار نہ پھیلا جائے۔۔
ہت دفعہ لکھا کہ نون لیگ کی موجودہ حکومت مکمل عوام دشمن ہے ان سے جو مرضی کروا لیں یہ شوق اقتدار میں کر لیں گے اب نون کی وزیر شزا فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی سے قانون منظور کروا لیا کہ کسی کے گھر ذاتی جائداد سے فائبر تاریں گزار سکتے اگر کوئی کھمبا جرنیٹر لگانا تو تیس دن میں گھر خالی کرنا ہو گا اگر نا کیا تو پانچ کروڑ جرمانہ اس فون کمپنی کو دیں گے
یہ آپ سب کے گھروں کا سودا ہے اور قومی اسمبلی کے انگوٹھا چھاپوں نے بغیر پڑھے یہ بل پاس بھی کر دیا تھا
اب کیا اس کام پر نون کی حکومت کی تعریفیں کریں ؟
”امی! ہمیں بھی ایسا کھانا بنا دیں“
لاہور کی ایک مجبور اور باہمت ماں جو سموسے اور پکوڑوں کی ریڑھی لگا کر اپنی چار ننھی بیٹیوں کا پیٹ پال رہی تھیں آج شدید مشکلات کا شکار ہیں
دو ماہ قبل کارپوریشن اہلکار اس کی ریڑھی اور تمام سامان اٹھا کر لے گئے، جس کے بعد وہ روزگار سے محروم ہو گئی اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اس کی سب سے چھوٹی تین ماہ کی بیٹی کے دودھ کے لیے بھی رقم موجود نہیں دل کو چیر دینے والا منظر یہ ہے کہ جب ہمسایوں کے گھر سالن پکنے کی خوشبو آتی ہے تو معصوم بیٹیاں حسرت بھری نظروں سے اپنی ماں سے کہتی ہیں ”امی! ہمیں بھی ایسا کھانا بنا دیں“مگر بے بس ماں کے پاس آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں آیااس غریب اور خوددار خاتون کا سہارا بنیں اور اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیں۔ ریڑھی اور سامان کی بحالی کے لیے تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے کی فوری ضرورت ہےآپ کی تھوڑی سی مدد ایک ماں کی امید اور چار بچیوں کے چہروں کی مسکراہٹ واپس لا سکتی ہے۔