میں نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو ہوٹل میں برتن دھونے کے کام پہ لگایا تو۔۔
سب نے کہا: ڈآکٹر صاحب بہت سخت باپ ہیں۔۔۔ لیکن
میرا نام حارث ہے, ڈاکٹر حارث۔۔
عمر بیالیس سال۔
راولپنڈی میں ایک چھوٹا سا کلینک چلاتا ہوں۔ لوگ مجھے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں۔ بعض عزت سے، بعض عادت سے، اور بعض اس لیے کہ میرے نام کے ساتھ ڈگری لگی ہوئی ہے۔
مگر میرے ہاتھوں کی لکیروں میں صرف نسخے نہیں لکھے۔
ان میں گرم پانی کی جلن بھی ہے۔
باسی سالن کی بو بھی ہے۔
اور وہ شرمندگی بھی، جو پہلی کمائی کے ساتھ آدمی کے اندر کہیں خاموشی سے پگھلتی ہے۔
میرا ایک بیٹا ہے۔
عمر۔
پندرہ سال کا۔
دبلا پتلا، لمبا، اچھے اسکول میں پڑھنے والا۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کے بڑے بڑے مسئلوں پر ویڈیوز دیکھتا ہے، مگر گھر کا پنکھا بند کرنا بھول جاتا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے پلیٹ میں روٹی کا ٹکڑا چھوڑ دیتا ہے، جیسے روٹی بھی کوئی عام چیز ہو۔ جوتے کبھی کبھی آج بھی اس کی ماں صاف کر دیتی ہے، اور وہ شکریہ کہنے کے بجائے موبائل دیکھتے ہوئے صرف “ہاں امی” کہہ دیتا ہے۔
میری بیوی ثنا بہت خیال رکھنے والی عورت ہے۔
ماں کا دل شاید اسی مٹی سے بنا ہوتا ہے جس میں دعا زیادہ اور ڈر کم نہیں ہوتا۔ وہ عمر کو دیکھتی ہے تو اسے اب بھی وہی بچہ دکھائی دیتا ہے جو بخار میں اس کی انگلی پکڑ کر سوتا تھا۔ میں عمر کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس کے اندر ایک ایسا لڑکا دکھائی دیتا ہے جو چند سال بعد دنیا کے سامنے اکیلا کھڑا ہو گا، اور دنیا ماں کی طرح اس کے ماتھے پر ہاتھ نہیں رکھے گی۔
گزشتہ شام میں کلینک سے واپس آیا تو ثنا کچن میں کھڑی روٹی اتار رہی تھی۔ عمر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا موبائل میں گم تھا۔ پلیٹ میں آدھی روٹی پڑی تھی، سالن کا چمچ کنارے پر سوکھ رہا تھا۔
میں نے ہاتھ دھوتے ہوئے کہا:
“ثنا، نوید کا فون آیا تھا۔ اس کے ریستوران میں گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے ایک لڑکا چاہیے۔ دن کے تین چار گھنٹے۔ برتن ترتیب دینا، میزوں سے پلیٹیں اٹھانا، کچن میں ہلکی مدد۔ میں سوچ رہا تھا عمر کو بھیج دوں۔”
ثنا کا ہاتھ رک گیا۔
توا گرم تھا، روٹی پھول رہی تھی، مگر اس کی آنکھیں میری طرف اٹھ گئیں۔
“عمر کو؟”
“ہاں، صرف چند گھنٹے۔ نوید اپنا آدمی ہے۔ دستانے ہوں گے، ایپرن ہو گا، کوئی خطرناک کام نہیں۔”
ثنا نے روٹی پلیٹ میں رکھی، آنچ دھیمی کی اور آہستہ سے بولی:
“حارث، ریستوران کا کام آسان نہیں ہوتا۔ کچن میں گرمی ہوتی ہے، بدبو ہوتی ہے، کام کا دباؤ ہوتا ہے۔ برتن دھونا بہت سخت کام ہے۔ عموماً وہی لڑکا سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ عمر ابھی بچہ ہے۔”
میں نے عمر کی طرف دیکھا۔
وہ شاید سن رہا تھا، مگر موبائل کی اسکرین پر انگلی پھر بھی چل رہی تھی۔
ثنا کا جملہ میرے اندر اتر گیا۔
“سب سے آخر میں نکلتا ہے۔”
جیسے کسی نے پرانی الماری کھول دی ہو، جس میں برسوں سے بند کپڑوں کے ساتھ کچھ بھولی ہوئی بوئیں بھی رکھی رہ گئی ہوں۔
میں ثنا پر غصہ کر سکتا تھا، مگر غصہ آیا نہیں۔
صرف ایک عجیب سی اداسی آئی۔
ثنا کا خوف غلط نہیں تھا۔ ماں بچے کے ہاتھ دیکھتی ہے کہ کہیں کٹ نہ جائیں۔ باپ کبھی کبھی ان ہاتھوں کے اندر چھپا ہوا آدمی دیکھتا ہے کہ کہیں وہ بننے سے پہلے نرم ہی نہ رہ جائے۔
ثنا چاہتی تھی عمر کے ہاتھ محفوظ رہیں۔
میں چاہتا تھا ان ہاتھوں کو کسی دوسرے کے پسینے کی قیمت معلوم ہو۔
رات کو کھانے کے بعد عمر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ثنا برتن سمیٹنے لگی۔ میں نے دیکھا، عمر اپنی پلیٹ وہیں چھوڑ گیا تھا۔
ثنا نے بغیر کچھ کہے وہ پلیٹ اٹھائی۔
اس پلیٹ میں روٹی کا آدھا ٹکڑا پڑا تھا۔
مجھے اچانک صدر کا وہ چھوٹا سا ریستوران یاد آ گیا۔
میں شاید بارہ تیرہ سال کا تھا۔
ابو کی نوکری چھوٹ گئی تھی۔ گھر میں پیسوں کی تنگی اتنی خاموش تھی کہ امی آٹا گوندتے ہوئے بھی حساب لگاتی رہتیں۔ میں نے چھٹیوں میں کام ڈھونڈنا شروع کیا۔ پہلے محلے میں اخبار ڈالے۔ فجر سے پہلے سائیکل نکالتا۔ سردیوں میں ہاتھ جم جاتے۔ گرمیوں میں پسینہ قمیض کے اندر نمک بن جاتا۔
پھر ایک دن ایک جاننے والے نے مجھے صدر کے ایک ریستوران میں لگا دیا۔
سامنے ہال میں روشنی تھی۔
پیچھے کچن میں بھاپ تھی۔
سامنے لوگ پلیٹیں سجا کر کھاتے تھے۔
پیچھے ہم ان پلیٹوں سے بچا ہوا سالن، مچھلی کی بو، چاول کے دانے اور چکنی ہڈیاں الگ کرتے تھے۔
برتن دھونا کوئی کام نہیں تھا۔
ایک چھوٹی سی جنگ تھی۔
گرم پانی، صابن، چکنائی، شور، جلدی، ڈانٹ، اور آخر میں وہ بدبو جو کپڑوں میں نہیں، آدمی کے غرور میں بس جاتی ہے۔
ایک شام گھر آیا تو امی نے دروازے پر ہی کہا:
“حارث، پہلے نہا لو، بہت بو آ رہی ہے۔”
میں نے جھنجھلا کر کہا:
“امی، یہ کام انسانوں والا نہیں ہے۔”
ابو چارپائی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اخبار نیچے کیا۔ میری طرف دیکھا۔ آواز بہت دھیمی تھی۔
“کام انسانوں والا ہی ہوتا ہے بیٹا۔ بس کبھی کبھی انسان کام کے قابل نہیں رہتا۔”
میں اس وقت سمجھا نہیں۔
بارہ سال کا لڑکا نصیحت نہیں سمجھتا۔ اسے صرف اپنی تکلیف سچ لگتی ہے۔
مگر آج، اتنے برس بعد، وہ جملہ میرے اندر پھر سے زندہ ہو گیا۔
رات کو میں عمر کے کمرے کے دروازے پر گیا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔ وہ بیڈ پر لیٹا موبائل دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں ائیر فریشنر کی خوشبو تھی، میز پر کتابیں بکھری تھیں، اور ایک خالی جوس کا ڈبہ فرش پر پڑا تھا۔
میں نے کہا:
“بات کرنی ہے۔”
اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا۔
“جی ابا۔”
میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“عمر، ایک بات یاد رکھنا۔ کبھی یہ نہ سوچنا کہ تم کسی کام کے لیے بہت بڑے ہو۔ آدمی کام سے چھوٹا نہیں ہوتا، کام سے بھاگ کر چھوٹا ہو جاتا ہے۔”
وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
میں نے کہا:
“اگر کوئی کہے کہ تم برتن دھونے کے لیے نہیں بنے، تو اس سے پوچھنا کہ پھر برتن دھونے والے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں؟”
اس نے نظریں جھکا لیں۔
میں نے اس کی میز پر پڑا جوس کا خالی ڈبہ اٹھایا اور ڈسٹ بن میں ڈالتے ہوئے کہا:
“مشکل کام آدمی کو جلدی بڑا کرتا ہے۔ آسان کام صرف وقت گزارتا ہے، مشکل کام آنکھ کھولتا ہے۔ اگر تم کچن میں کھڑے ہو کر لوگوں کی چھوڑی ہوئی پلیٹیں صاف کرو گے تو شاید پہلی بار سمجھو گے کہ کھانا ضائع کرنا صرف بری عادت نہیں، کسی اور کی محنت کی بے عزتی بھی ہے۔”
عمر نے آہستہ سے کہا:
“امی کہہ رہی تھیں کام بہت سخت ہے۔”
“امی ٹھیک کہہ رہی ہیں،” میں نے فوراً کہا۔
وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا۔
“کام سخت ہے۔ اسی لیے ضروری ہے۔ بس اتنا خیال رہے گا کہ تم سے کوئی غیر محفوظ یا حد سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔ تم مزدور بننے نہیں جا رہے، مزدور کی عزت سیکھنے جا رہے ہو۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
میں نے اسے اپنے پہلے کاموں کے بارے میں بتایا۔ اخبار بانٹنے کے بارے میں۔ ریستوران کے سنک کے بارے میں۔ گرم پانی سے سکڑتی انگلیوں کے بارے میں۔ کلب کے گراؤنڈ میں نالیاں صاف کرنے کے بارے میں۔ اس ریٹائرڈ حوالدار کے بارے میں جس نے مجھے کہا تھا:
“آسان کرسی پر بیٹھنے سے پہلے مشکل زمین پر کھڑا ہونا سیکھو۔”
عمر نے پہلی بار پوری توجہ سے میری طرف دیکھا۔
شاید بچوں کو اپنے والدین کی کہانیاں تب سمجھ آتی ہیں جب وہ ان میں نصیحت کم اور پسینہ زیادہ محسوس کریں۔
میں نے آخر میں کہا:
“کل نوید انکل کے پاس چلے جانا۔ صرف تین گھنٹے۔ دستانے پہننا۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو فوراً مجھے فون کرنا۔ اور اگر مشکل لگے تو فوراً چھوڑنے کا فیصلہ نہ کرنا۔ پہلے سمجھنا کہ مشکل کس چیز کا نام ہے۔”
وہ دیر تک چپ رہا۔
پھر بولا:
“ٹھیک ہے ابا۔ میں کوشش کر لوں گا۔”
دروازے کے باہر ثنا کھڑی تھی۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
صرف اتنا کیا کہ صبح عمر کے لیے صاف قمیض استری کر کے رکھ دی۔
یہی عورت کا اختلاف ہوتا ہے۔ زبان سے “نہیں” کہتی ہے، مگر بچے کے بیگ میں احتیاط سے پانی کی بوتل رکھ دیتی ہے۔
اگلی صبح نوید کا فون آیا۔
“ڈاکٹر صاحب، آپ کا شہزادہ آ گیا ہے۔”
اس کے لہجے میں ہنسی تھی، مگر ہنسی کے نیچے شفقت بھی تھی۔
میں نے پوچھا:
“گھبرا تو نہیں رہا؟”
نوید بولا:
“گھبرا رہا ہے۔ مگر کھڑا ہے۔”
کلینک جانے سے پہلے میں ریستوران کی طرف نکل گیا۔
ریستوران کا پچھلا دروازہ کھلا تھا۔ اندر سے بھاپ نکل رہی تھی۔ کچن میں برتنوں کی کھنک، چولہے کی سانس، مصالحے کی خوشبو، پیاز کے تڑکے اور گرم پانی کی بھاپ ملی ہوئی تھی۔
میں دروازے کے پاس رک گیا۔
عمر سنک کے سامنے کھڑا تھا۔
اس کے بال ماتھے سے چپکے ہوئے تھے۔ آستینیں کہنیوں تک مڑی ہوئی تھیں۔ ہاتھوں میں پیلے دستانے تھے جو اس کے ہاتھوں سے بڑے لگ رہے تھے۔
وہ ایک پلیٹ کو بہت احتیاط سے رگڑ رہا تھا۔
جیسے پلیٹ پر سالن نہیں، کوئی سوال چپکا ہوا ہو۔
ایک ویٹر نے جلدی سے کہا:
“بھائی، پلیٹیں ختم ہو رہی ہیں، ذرا تیز ہاتھ چلاؤ۔”
عمر گھبرا گیا۔
اس نے ہاتھ تیز کیے۔ ایک پلیٹ اس کے ہاتھ سے پھسلی، سنک کے کنارے سے ٹکرائی، مگر ٹوٹی نہیں۔
وہ ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
پھر اس نے گہری سانس لی اور دوبارہ پلیٹ دھونے لگا۔
میں باہر کھڑا رہا۔
اس نے مجھے نہیں دیکھا۔
اور شاید اچھا ہی ہوا۔
بچوں کو بعض سبق باپ کی موجودگی میں نہیں، اس کی غیر موجودگی میں سمجھ آتے ہیں۔
سامنے ہال میں لوگ آرام سے بیٹھے تھے۔
ایک بچہ فرائز پلیٹ میں چھوڑ کر موبائل پر لگ گیا۔
ایک آدمی نے آدھا کھانا چھوڑا اور ویٹر کو اشارہ کیا۔
ایک عورت نے گلاس اٹھا کر کہا:
“یہ صاف نہیں ہے۔”
اور پیچھے عمر کھڑا تھا۔
مجھے اچانک دنیا کی ترتیب بہت صاف دکھائی دینے لگی۔
کچھ لوگ گندگی کرتے ہیں۔
کچھ لوگ صاف کرتے ہیں۔
کچھ لوگ حکم دیتے ہیں۔
کچھ لوگ “جی صاحب” کہتے ہیں۔
اور جو بچہ یہ فرق ایک بار اپنی آنکھ سے دیکھ لے، شاید پھر کسی “جی صاحب” کو حقیر نہیں سمجھتا۔
دوپہر کو عمر باہر آیا۔
اس کے چہرے پر شکست نہیں تھی۔
فخر بھی نہیں تھا۔
صرف تھکن تھی۔
سچی، نمکین، خاموش تھکن۔
اس نے مجھے دیکھا تو چونک گیا۔
“آپ کب آئے؟”
میں نے کہا:
“ابھی۔”
یہ جھوٹ بہت چھوٹا تھا، مگر اس کے پیچھے ایک باپ کی پوری کمزوری چھپی ہوئی تھی۔
اس نے دستانے اتارے۔
انگلیاں سفید اور سکڑی ہوئی تھیں۔
وہ کچھ دیر اپنے ہاتھ دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے بولا:
“اندر بہت بدبو ہے، ابا۔”
میں نے پوچھا:
“چھوڑنا ہے؟”
وہ خاموش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد بولا:
“نہیں۔ کل آؤں گا۔ آج میں بہت سست تھا۔”
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
میرے حلق میں ایک تقریر اٹک گئی۔
مگر میں نے کچھ نہیں کہا۔
بعض لمحوں کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ الفاظ انہیں چھوٹا کر دیتے ہیں۔
شام کو عمر گھر آیا تو ثنا دروازے پر ہی کھڑی تھی۔
اس نے فوراً پوچھا:
“ہاتھ دکھاؤ۔”
عمر نے ہاتھ آگے کیے۔ انگلیاں دھلی ہوئی تھیں، مگر تھکن ان پر لکھی ہوئی تھی۔
ثنا نے اس کے ہاتھ دیکھے، پھر اسے پانی دیا۔
“کھانا لگا دوں؟”
عمر نے سر ہلایا۔
کھانے کی میز پر اس دن عجیب خاموشی تھی۔ ثنا بار بار عمر کو دیکھ رہی تھی۔ میں اخبار کھول کر بیٹھا تھا، مگر پڑھ کچھ نہیں رہا تھا۔
عمر نے پلیٹ میں سالن لیا، روٹی کا چھوٹا ٹکڑا توڑا، اور بہت آہستہ آہستہ کھانے لگا۔
پہلی بار اس نے پلیٹ میں کچھ نہیں چھوڑا۔
روٹی کا آخری نوالہ بھی کھایا۔
پھر پلیٹ اٹھائی اور کچن کی طرف چل دیا۔
ثنا نے فوراً کہا:
“رہنے دو، میں رکھ دیتی ہوں۔”
عمر نے پلٹ کر ماں کو دیکھا۔
“نہیں امی۔ آج سے اپنی پلیٹ میں خود دھویا کروں گا۔”
ثنا کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔
شاید فکر۔
شاید فخر۔
شاید دونوں۔
رات کو میں کمرے میں بیٹھا تھا۔ میز پر صبح والا چائے کا کپ پڑا تھا۔ میں جلدی میں اسے سنک تک لے جانا بھول گیا تھا۔
عمر اندر آیا۔
کپ اٹھایا۔
کچن میں لے گیا۔
دھو کر واپس میز پر رکھ دیا۔
میں اسے دیکھتا رہا۔
وہ دروازے کے پاس کھڑا ہوا اور بولا:
“ابا، گھر کے برتن روز کون دھوتا ہے؟”
میں نے کہا:
“کبھی تمہاری امی، کبھی ماسی، کبھی دادی۔”
وہ کپ کو دیکھتا رہا۔
“کل اتوار ہے۔ ناشتہ کے بعد برتن میں دھو دوں گا۔ بس آپ لوگ زیادہ گندے نہ کرنا۔”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
میں دیر تک اس صاف کپ کو دیکھتا رہا۔
وہ کوئی بڑا منظر نہیں تھا۔
نہ کوئی انقلاب۔
نہ کوئی تقریر۔
نہ کسی فلم جیسا انجام۔
بس ایک معمولی سا کپ تھا۔
جس پر چائے کی پپڑی باقی نہیں رہی تھی۔
مگر مجھے لگا، میرے بیٹے نے آج پہلی پلیٹ نہیں دھوئی۔
اس نے اپنے اندر کا پہلا غرور دھویا تھا۔
"I have been a bit short of runs this season, and it could have been quite easy for me to get into a bit of a pit, so I am glad I cashed in." 💬
https://t.co/23lX8CpH0p
@IdreesSatti6 How come u combine
CRICKET n quality education????
I played for DIAMOND during Shakil Sheikh captaincy.
Was their any thought of combining studies with Cricket?????
back in 1992---1994
دنیا و آخرت کے 99 بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کریں!!!
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
لاحول ولا قوۃ الا باللہ ننانوے (دنیاوی اور اخروی) بیماریوں کی دوا ہے جس میں سے ادنیٰ بیماری (دنیاوی و اخروی) غم ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر 2349)
یہ ہے قیامت کی ٹیکنالوجی !!
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو
کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
@Cricket_Cabin BATTER OF THE TOURNAMENT.
IN MY HUMBLE OPINION,
BABAR MUST NOW GO
ALL OUT FOR TEST/ODI FORMAT.
STOP PLAYING FORCING SHOTS, IT WILL HURT U IN TESTS....
@MariaBalochPK DIVINE POWERS OF NATURE,
WHICH WE MUSLIMS CALL THE MIGHT OF ALLAH SUBHANAHU TAALA...
DONALD TRUMP HAS MOCKED HIM A FEW DAYS BEFORE//BE REST ASSURED, ALLAH NEVER FORGETS. HE WILL GIVE DUE SHARE TO MR. DONALD J. TRUMP---(ONLY TIME TELLING---)
@Zohaib1981 Dear Zohaib, what a wonderful effort from your side.
Congratulations.
Dear plz share some old ones here. I do really enjoy BLAST FROM THE PAST.....