تمہارے پاس اک پناہ گاہ ہونی چاہئیے..!!
تاکہ
جب تم جعلی مسکراہٹیں
اور
اداکاریاں کرتے تھک جاؤ
تو
وہاں پناہ لو.
وہ پناہ گاہ کوئی گوشہ تنہائی
کھلا ریستوران
کتب خانہ
املتاس
رات کی رانی
یا
کوئی دریا، نہر کا کنارہ بھی ہو سکتا.
پر یاد رہے
وہ پناہ گاہ کسی انسان کی صورت نہیں ہونی چاہئیے.
جب آنسو آئیں..!!
تو
انہیں باہر مت گرانا.
ورنہ وہ بے سود جائیں گے
جیسے دریا کا پانی سمندر میں گرے
تو
کھارا ہو کر ناقابلِ استعمال ہو جاتا.
انکو اپنے حلق سے اندر اتار لینا.
وہ میٹھے پانی کی جھیل بن جائیں گے
جو
تمہارے دل کی خشک زمین نم کر کے
اسے زرخیز بنا کر
اس میں گلاب اگا دیں گے.