ربّا سچیّا تُوں تے آکھیا سی
جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ھیــں تُوں
ایس لارے تے ٹور کد پُچھیا ای
کِیہ ایس نمانے تےبِتیاں نیں
کدی سار وی لئی او رب سائیاں
تیرے شاہ نال جگ کی کِیتیاں نیں
چنگا شاہ بنایا ای رب سائیاں
پولے کھاندیاں وار نہ آوندی اے
(فیض احمد فیض)
کیا آپ کے دل میں احساس ہے۔۔۔؟؟!
اگر ہے تو اپنی اس اماں کی فریاد سنیں
انکا نام بشیراں ہے اور والد کانام فتح محمد ہے۔والدہ نور بانو، بھائیوں کے ارشد، امجد، اکثر(یہی بتایا تھا)، انصر ۔ بہنوں کے نام: حلیماں، حکیماں(چار بہنیں تھیں ایک کا انتقال ہو گیا تھا اس کا نام یاد نہیں ہے)،دو چچا تھے ایک کا نام احمد یاد ہے۔جب یہ آئی تھی اس وقت ارشد ھوٹل پر کام کرتا تھا باپ کھیتی باڑی کرتا تھا۔ گاوں کا نام" چکوری شریف"، قریبی شہر لالہ موسی ضلع گجرات ہے۔
بشیراں کہتی ہے کہ میری عمر 12 سال تھی۔۔۔ میں ایک دن ماں سے ناراض ہو کر اپنی پوپھی کے گھر کےلئے نکلی تو ایک بندہ جو جاننے والا تھا اس نے روکا اور پوچھا کہاں جارہی ہو؟ میں نے۔ تایا پھوپھی کے ہاں۔
تو اس نے کہا میں آپ کو پھوپھی کے پاس چھوڑ آتا ہوں۔مجھے اپنے ساتھ روانہ کیا اور بس میں بٹھایا۔۔۔ سفر بہت لمبا ہوا میں بار بار پوچھتی کہ کب گھر پہنچےگا تو اس نے مجھے ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کا کہا۔ مجھے سندھ کے ایک علاقے میں لاکر آیا 13000 روپے میں بیچ دیا۔ خریدنے والے سے نکاح کروا دیا۔
بیٹا میں نے جس طرح کی زندگی گزاری ہے میں بیان نہیں کرسکتی۔۔ایک ایک دن سال کی طرح گزارا ہے۔
ابھی میرا شوہر فوت ہوچکا ہے۔۔ ایک بیٹی ہے اس کی شادی ہو چکی ہے وہ بھی ایک گونگے لڑکے کے ساتھ جو دیور کا بیٹا ہے اب میں بلکل تنہا رہ گئی ہوں۔ مجھے مرنے سے پہلے میرے پیاروں سے ملائیں۔ جو میری مدد کرےگا میں مرتے دم تک اللہ سے اس کے لئے دعا کرونگی۔"
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
30 Aug 2026
#waliullahmaroof
اس ویڈیو کو نظر انداز نا کریں۔۔۔!!
سال 1991 میں موسی/لالہ ولد مظہر جان (شاید نام میں کوئی غلطی بھی ہو) قلات کے علاقے منگوچر میں کسی پولیس کاروائی میں بازیاب ہوا تھا۔ یا تو کسی نے اغواء کیا تھا یا اسکے خاندان میں کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔
برائے مہربانی دنیا بھر میں اس ویڈیو کو پھیلائیں۔ انکے خاندان کو کوئی بھی شخص یہ ویڈیو دیکھے اور ہم سے رابطہ کرے۔
وٹس ایپ:
03162529829
30 Aug 2026
#waliullahmaroof #balochistan #qallat #quetta #Missingperson
تلاش ورثاء۔۔۔تھانہ گوجرہ
یہ بچی تھانہ گوجرہ منڈی بہاءالدین کے قریب سے روتی ہوئی ملی ہے۔ اور ابھی تھانہ گوجرہ میں موجود ہے۔ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ بچی کے خاندان تک پہنچ سکے۔۔۔جزاک اللہ
ایک بھائی نے رابطہ کرکے اپنا درد دل کچھ اس طرح سے بیان کیا۔۔۔
"میرا نام زیشان حسین ہے۔ میں لاہور کا رہنے والا ہوں۔ پرانا ایڈریس گلی نمبر 3 مکان نمبر 8 سلطان پورہ لاہور ہے اور نیا ایڈریس کرول وار صادق ٹاؤن لاہور ہے۔
میرے والد صاحب کو گھر سے گئے 3 سے 4 سال ہو گئے ہیں جو گھر کا پتہ پوری طرح بھول جاتے تھے۔۔ گھر سے نکلے پھر واپس نہیں آئے، اکثر پرانے ایڈریس پر جاتے تھے ہم وہاں سے لے آتے تھے پر اس بار 4 سال ہو گئے واپس نہیں آئے۔
والد صاحب کا نام فضل حسین ولد محمد بخش ہے۔ عمر 60 سال کے قریب ہے۔
ولی بھائی! ہم نے بہت کوشش کی ہے، اب آپ سے جڑے دوستوں سے امید ہے، میرے والد صاحب کی تلاش میں میری مدد کریں۔ہم بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ہمارا گھر والد کے بنا ویران ہے"
برائے مہربانی تمام دوست زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
29 Aug 2026
#waliullahmaroof
اس ننھی کلی کو اپنے گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ معصوم بچی، جس کی عمر تقریباً 1 سے ڈیڑھ سال ہے، 26 اگست 2026 کو لاری اڈا بس اسٹاپ، لاہور میں لاوارث حالت میں ملی ہے۔
ممکن ہے یہ بچی اپنے خاندان سے بچھڑ گئی ہو، یا (اللہ نہ کرے)کسی نے اسے اغوا کرنے کے بعد بس اسٹاپ پر چھوڑ دیا ہو۔
اگر کوئی شخص اس بچی کے والدین یا اہلِ خانہ کو جانتا ہے تو براہِ کرم فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ معصوم بچی جلد از جلد اپنے والدین تک پہنچ سکے۔
جزاک اللہ خیراً
Contact: 03090000015
اس لڑکے کا نام خالد سیف درخواستی ہے۔
انکی رہائش خانپور،دینپور کالونی میں ہے۔مہندی کلر کا سوٹ پہنا ہوا ہے۔دماغی طور پر قدرے کمزور ہے۔
آخری مرتبہ آج مورخہ 25-08-26 ہزارہ ٹرین پر صبح 20 :11 پر خان پور اسٹیشن سے کراچی کی طرف جاتے ہوئے پایا گیا ہے ۔
ہم سب کو تشویش ہے خدانخواستہ کسی غلط ہاتھوں میں نا لگ جائے۔کیونکہ ذہنی طور پر مکمل ٹھیک نہیں ہے۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
کسی کو بھی نظر آئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
03162529829
26 aug 2026
#waliullahmaroof
ایک نیک دل اور درد رل رکھنے والے انسان نے یہ کیس بھیجا ہے۔
"السلام علیکم!
بھائی جان، میں *** بات کر رہا ہوں ، تحصیل و ضلع لیہ سے۔ ہمارے ہاں لیہ، کوٹ ادو، مظفرگڑھ میں 2010ء میں سیلاب آیا تھا۔ اس سیلاب میں ایک بچہ ملا تھا، جس کی عمر اُس وقت تقریباً 8 سے 10 سال تھی۔ اب اُس کی عمر تقریباً 26 سے 27 سال ہو گی۔
وہ بچہ بول نہیں سکتا تھا، گونگا ٹائپ تھا۔ جو الفاظ بولتا تھا، اُن کی سمجھ نہیں آتی تھی، البتہ کچھ الفاظ سمجھ آ جاتے تھے، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اُس کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ وہ سُنتا اور ہر بات سمجھتا ہے۔
وہ اپنا اور والد صاحب کا نام لکھ سکتا ہے۔ اپنا نام ارشد لکھتا ہے اور والد کا نام عاشق لکھتا ہے۔
یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم پانچ بہن بھائی تھے۔ ایک بھائی، یعنی میں اکیلا، دو بہنیں مجھ سے بڑی تھیں اور دو مجھ سے چھوٹی تھیں۔ اشاروں سے بتاتا ہے کہ ابو ٹریکٹر چلاتے تھے۔
یہ کافی سمجھدار بچہ ہے۔ اگر کوئی بندہ اسے پیسے دے تو یہ اکٹھے کر کے کوئی بکری یا بکری کا بچہ خرید لیتا ہے۔
جب یہ ملا تھا تو اُس وقت بالکل ٹھیک تھا، لیکن جہاں رہتا تھا وہاں اُن کے کام جانوروں کو چارہ ڈالنا کرتا رہتا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ ٹوکا مشین میں آ گیا اور آدھا ہاتھ کٹ گیا۔
اگر ہو سکے تو اس بچے کے والدین کو ڈھونڈنے کے لیے یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ شاید کسی ماں باپ کو اُن کا بچھڑا ہوا بیٹا واپس مل جائے۔
اللہ رب العزت آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 🤲"
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ا
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
23 Aug 2026
#waliullahmaroof
بہت افسوس ہوا پڑھ کے
مرحوم اور عالمی شہرت یافتہ شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی، طاہرہ، سڑک کنارے ایک اسٹال پر گھر کا بنا ہوا کھانا فروخت کر رہی تھیں؛
تاہم، مقامی انتظامیہ کی جانب سے ان کے اور ان کے والد کی شاعری کے خلاف روا رکھے جانے والے مخاصمانہ رویے کے باعث، طاہرہ حبیب جالب کو لاہور میں اس مقام پر اسٹال لگانے سے روک دیا گیا ہے۔
حکومت سے اپیل ہے کہ حبیب جالب جیسے نامور اور حق گو شاعر کی بیٹی کے ساتھ یہ ناروا سلوک بند کیا جائے۔
معصوم بچی کے سامنے ایک باپ پر ڈنڈوں سے حملہ، ویگو ڈالے میں سوار افراد کی مبینہ غنڈہ گردی دیکھ سکتے ہیں!
موٹرسائیکل سوار جو اپنی چھوٹی معصوم بچی کے ساتھ سفر کرتے دیکھا جا سکتا ہیں، ویگو ڈالے میں سوار 2 افراد نے اس بچی کے باپ پر صرف اس بات پر تشدد کا نشانہ بنایا کہ تم میرے سامنے سےکراس کیوں ہوئے،اس بہس پر ویگو ڈالے والے نے ڈنڈوں کے ساتھ مصوم بچی کے باپ پرپرحملہ کر دیا، اپکی نظر میں ایسے درندے نما انسان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اور اسکی نشاندہی میں مدد کریں؟
اس نوجوان کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں ۔ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
خیبرپختونخواہ کے دوست خاص طور پر توجہ دیں ۔
کسی بھی اطلاع کے لئے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
#waliullahmaroof#Missingperson#pakistan
بھائی بات سنیں۔۔۔۔
جی بہن۔۔۔؟!
مجھے بھی میرے گھر والوں سے ملائیں میں زندگی بھر آپ سب کی احسان مند رہونگی اور ہمیشہ دعا کرونگی۔۔۔
جی بہن کیا سٹوری ہے آپکی۔۔؟؟!
جی بھائی۔۔۔ وہ ناں۔۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی۔۔ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ سال 2005 تھا۔۔۔ہم کراچی میں رہتے تھے۔ بس اتنا یاد ہے کہ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ میں اپنی امی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے میں بازار گئی تھی۔۔ بازار میں گم ہوئی۔۔۔ مجھے ایک شیلٹر میں پہنچایا گیا۔۔۔
پہلے تو یہ سن لیں کہ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ جی بہن نام "تھا" یا ہے؟ جی وہ شیلٹر میں پھر نام بدل کر زینب رکھ دیا گیا تھا اس لئے "تھا" کہہ رہی ہوں۔ والد کا نام اسلم قریشی ہے اور میری والدہ کا نام بانو ہے ۔ میرے چار بھائی تھے۔۔۔ محمد عامر ،محمد عادل،محمد عاصم،اور محمد حمزہ۔
(آج بھی بھائیوں سے اتنی محبت دل میں بسی ہے کہ مکمل مکمل نام لے رہی ہے)۔ میری بہن ایک تھی غزل نام تھا۔ ہم قریشی ہیں۔ کورنگی میں شاید کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔
جی بہن ٹھیک ہے! پھر شیلٹر سے کیسے نکلی؟
جی جی میں وہی بتارہی ہوں۔۔۔
ہم بہت مشکل میں تھے۔بچپن سے شیلٹر میں بڑی ہوئی۔ ہمارے ساتھ جو لڑکیاں موجود تھیں ان سب میں ہم پانچ لڑکیاں آپس میں بہت اچھی دوست بنی تھیں۔
ہمارے گروپ میں ایک لڑکی صوبیہ کو پنجاب میں اپنے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔ اور حیدرآباد سندھ میں ایک رشتےدار کا گھر بھی پتہ تھا۔ ہم سب نے پلان بنایا تھاکہ کسی بھی طرح شیلٹر سے نکلنا ہے۔ صوبیہ نےہمیں کہا کہ تم لوگ بےفکر رہو ۔ یہاں سے نکلیں گے تو میں تم لوگوں کو اپنے گھر لےچلونگی۔ میرے گھر والے ضرور تم چاروں کا خیال رکھیں گے۔ہم پہلے کراچی سے حیدرآباد رشتےدار کے گھر پہنچیں گے پھر وہ میرے امی ابو کو بلائیں گے وہ لینے آجائیں گے۔حیدرآباد قریب ہے ہمارے لئے جانے میں پریشانی نہیں ہوگی۔
ہم پانچوں نے شیلٹر کی دیوار پھلانگ کر بھاگنے کی تیاری مکمل کی۔ موقع ملتے ہی ہم دیوار پھلانگ کر باہر آگئے۔ دیوار سے کودنے کے دوران ہماری ایک سہیلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہم چاروں نے اسے اٹھاکر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اسپتال میں داخل کیا۔ پیسے نہیں تھے اور پکڑے جانے کے ڈر بھی تھا۔۔ اس لئے ہم نے اسپتال والوں کو کہا کہ ہم کچھ دیر میں پیسے لیکر آتے ہیں۔۔۔ اور یوں ہم نے حیدرآباد کی گاڑی پکڑ لی۔
اپنی زخمی ساتھی کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ تو بہت تکلیف دہ تھا۔۔ لیکن ہم عورت ذات ہونے کی وجہ سے اسکو زخمی حالت میں سنبھال نہیں سکتی تھیں۔
حیدرآباد میں صوبیہ کے رشتے دار کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے صوبیہ کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ صوبیہ کے گھر میں کھلبلی سی مچ گئی ۔ اور عید کا سماں بندھ گیا ۔ وہ پنجاب سے بھاگتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے۔۔۔ ہم چاروں کو اپنے ساتھ لیکر گئے۔
صوبیہ کے گھر والوں نے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا۔۔۔ہم تین ان کے لئے غیر لڑکیاں تھیں۔۔۔لیکن اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھا۔ انہوں نے چن چن کر اپنے خاندان کے ایسے تین لڑکے بلائے جو کاروبار میں اخلاق میں ہر طرح سے اچھے تھے۔ ہم تینوں کا نکاح کروایا۔۔ابھی میں تین بچوں کی ماں ہوں۔
بس مجھے میرے گھر والوں کی یاد چین سے جینے نہیں دیتی۔
میرے بچے پوچھتے ہیں کہ امی نانا نانی کہاں ہیں؟ تو میں سوائے آنسوؤں کے کوئی جواب نہیں دے پاتی۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں میرے گھر والوں سے ملائیں۔ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ سب کے نام موجود ہیں۔ وہ مل جائیں گے۔ آپکی ویڈیوز دیکھ کر امید کی کرن نظر آئی ہے۔
اگر آپ کے سینے میں دل ہے اور وہ دل پتھر کا نہیں ہے تو ضرور شئیر کرکے کرن کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں گے۔
نوٹ: کرن کی حالیہ تصویر کو ہم نے اے آئی کی مدد سے کم عمری کی تصویر بنائی ہے۔ پرانی تصویر موجود نہیں تھی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
20 اگست 2026
#waliullahmaroof #karachi #korangi
آج ہمارا بہت مشکل کیس کامیاب ہوا ۔ اس کیس کے لئے چند ماہ قبل بھی ویڈیو لگائی تھی کوئی سراغ نہیں ملا تھا ۔ بہت خواہش تھی اماں کو خوشی مل جائے۔ الحمدللہ آج بہت سارے عزیز رشتے مل گئے ۔ ویسے جس دن کیس کامیاب ہوتا ہے دل بہت خوش ہوتا ہے۔ ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی۔
لیکن آج اس طرح نہیں تھا۔ کیونکہ اس کیس سے قبل ہم حب بلوچستان گئے وہاں دو بچیوں کے لئے کال آئی تھی۔ ان بچیوں کالو کسی نے مبینہ طور پر اغواء کیا تھا ۔ شاید پولیس نے بچیوں کو ریسکیو کیا ملزمان فرار ہوگئے ہیں۔
ایک بچی گونگی بہری ہے اور ایک بچی بول سکتی ہے لیکن بہت کم عمر ہے صرف اپنا نام بتاسکتی ہے ۔ دعا نام بولتی ہے۔ سندھی زبان میں بات کرتی ہے۔ ممکن ہے انکو اندرون سندھ سے اغواء کیا گیا ہو۔
چھوٹی والی بچی کی ٹانگ دو جگہوں سے توڑی گئی ہے۔ دوسری جو گونگی ہے اسکی گردن پر داغ کے نشان ہیں۔ شاید جسم پر بھی ہو ۔ سر کے بال بہت چھوٹے ہیں بچی نے اشاروں میں بتایا کہ اسکے بال پہلے بڑے تھے پھر کاٹے گئے ہیں۔ اس بچی پر مبینہ طور پر جسمانی تشدد بھی کی گئی ہے۔
ان بچیوں کے بارے میں لیڈی کانسٹیبل نے بتایا کہ بہت روتی ہیں۔ گھر کو یاد کرتی ہیں۔ حب سے پھر ہم کراچی فشری گئے وہاں عامر کے کیس کی خوشخبری دی اور انٹرویو کیا ۔ پھر بہادر آباد گئے ایک اور کیس کے سلسلے میں۔
سارا دن گزر گیا لیکن وہ دو سہمی ہوئی بچیاں ذہن سے نہیں نکل رہیں۔
آپ تمام دوستوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا انکی ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ سندھ بھر کے دوست خاص طور پر دلچسپی لیں۔ انکے خاندان کی تلاش میں مدد کریں۔
03162529829
#waliullahmaroof
الحمدللہ الحمدللہ
سال 1998 میں بچھڑنے والے ماں بیٹے کا خاندان مل گیا۔
عامر کا والد کراچی میں باورچی کا کام کرتا تھا۔ماں بیٹا ان سے ملنے گئے تھے۔ واپسی میں اللہ بہتر جانے کیسے شیلٹر تک پہنچ گئے۔
سارا خاندان پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا لیکن وہ نہیں ملے۔
باپ وفات پاگیا۔ گھر میں رہ جانے والا عامر کا بھائی تنہائی کا شکار ہوکر وہ بھی جوانی میں وفات پاگیا۔
انکا خاندان سکھر میں ہے ۔ سید گھرانے سے تعلق ہے۔بہت بڑا خاندان ہے۔ مسلسل کالز کا سلسلہ جاری ہے۔
بہت خوشی کا سماں ہے۔
جب اماں کی ویڈیو بنانے گئے تھے اماں مرجھائے ہوئی اور مایوس مایوس تھی آج جب خاندان ملنے کی خبر ملی اور خاندان کی طرف سے موصول پیاروں کی تصاویر دکھائیں تو بہت زیادہ خوش ہوئی ۔ جولی اٹھا اٹھا کر دعائیں دینے لگی۔
ان شاءاللہ جلد انکو سکھر لیجاکر خاندان سے ملائیں گے
آپ سب کے تعاون کا بے حد شکریہ
آج والی ویڈیو ان شاءاللہ کل یوٹیوب پر اپلوڈ ہوگی
برائے مہربانی ہماری ویڈیوز یوٹیوب پر ضرور دیکھا کریں ہماری سپورٹ کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہماری ویڈیوز دیکھیں ۔
#waliullahmaroof
16 سال سے اپنوں کی منتظر ایک بیٹی۔۔۔!!
یہ بچی، جس کا نام مریم اور والد کا نام عثمان بتایا جاتا ہے، سال 2009 میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ اس وقت وہ بہت کم عمر تھی۔ بعد ازاں اسے ایک شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ آج بھی موجود ہے۔
زندگی کے کئی سال گزر گئے، لیکن مریم کے اہلِ خانہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ نہ جانے اس کی ماں کس حال میں ہوگی، اس کے بہن بھائی کہاں ہوں گے، اور آج بھی گھر والے اس کی واپسی کا منتظر ہونگے۔
اگر آپ اس بچی کو پہچانتے ہیں یا اس کے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم رابطہ کریں۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کی ایک شیئر برسوں سے بچھڑی ہوئی اس بیٹی کو اس کے اپنے خاندان سے ملا دے۔ (شہر شاید کراچی ہو لیکن کنفرم نہیں ہے)۔
اپنی بیٹی یا بہن سمجھ کر شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
17 Aug 2026
#waliullahmaroof
یہ دو شخصیات پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں ہوتی تو حکومت ان کی خدمات کے عوض ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ دیتی ۔
کیونکہ یہ لوگ خاموشی سے اپنا سماجی کام کر رہے ہیں متوسط طبقے کے ہیں حکومت کی شان میں قصیدے نہی لکھتے اس لیے یہ تمغہ کے مستحق ہیں ۔
ولی اللہ معروف نے پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کا عظیم کام کیا ہے ۔ بغیر کسی ریسورسز حکومت کی سپورٹ کے بغیر کے وہ کام کر رہا ہے جو ریاستی ادارے بھی نہی کر پاے ۔۔
یہ وہ شخص ہے جو برسوں سے گمشدہ اور بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کئی ایسے خاندان جنہوں نے اپنے پیاروں کی واپسی کی امید تقریباً چھوڑ دی تھی، سوشل میڈیا، تحقیق اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دوبارہ ایک دوسرے سے ملے۔
کسی کا بیٹا کئی دہائیوں بعد ماں باپ سے ملا، کسی ماں کو برسوں بعد اپنی اولاد کا پتا چلا اور ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں پاکستان سے باہر موجود خاندانوں کو بھی اپنے بچھڑوں تک پہنچانے میں مدد ملی۔
یہ کام صرف ایک پوسٹ لگانے کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے دن رات کی محنت، لوگوں سے رابطے، معلومات کی تصدیق، مختلف شہروں اور ملکوں تک رسائی اور سب سے بڑھ کر ایک بے لوث جذبہ چاہیے۔
جبکہ دوسری طرف ٹیچر عثمان ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔جہاں اسلام اباد کا زمینی پانی ختم ہو گیا ہے یہ شخص انڈر واٹر کنوئیں بنا کر بارش کے پانی کو واپس زمین کے حوالے کر رہا ہے ۔ بلوچستان پنجاب ازاد کشمیر جہاں جس نے بولایا یہ شخص پہنچا ۔
اس کے اس اقدام سے پاکستان میں میں ایسی ایسی جگہوں پر جہاں پانی نہی تھا سالوں سے بور خشک ہو گئے تھے لوگ روزانہ ٹینکر سے پانی خریدنے پر مجبور تھے اج وہاں زمینی پانی ا رہا ہے ۔
اس شخص نے لوگوں کو اگاہی دی پانی کی اک اک بوند قیمتی ہے جو بارش کے بعد اپکے پکی سڑکوں کی وجہ زمین میں واپس نہی جارہی ہے ۔۔
یقیناً یہ دونوں شخصیات تمغوں کے محتاج نہیں، مگر اگر یہ تمغے ان کے سینوں پر سجتے تو شاید تمغوں کی قدر و منزلت ہی دوگنی ہو جاتی ۔
دنیا کا بیوقوف ترین وکیل ، جو ملزموں کو پیسے دیکر انکا مقدمہ لڑتا ہے !
بے بسوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔
ایڈووکیٹ ملک فہیم کھوکھر وہ انسان دوست وکیل ہیں جو ایسے غریب قیدیوں کا مقدمہ بالکل مفت لڑتے ہیں جن کی کوئی ضمانت دینے والا نہیں ہوتا یا جو وکلاء کی بھاری فیسیں برداشت نہیں کر سکتے۔
یہی نہیں یہ فرشتہ اپنے جیب سے انہیں خرچہ وغیرہ بھی دیتا ہے۔ بلکہ جب تک ملزم قید رہتا ہے تو فہیم کھوکھر ان کی فیملیز کے دکھ سکھ میں بھی کھڑے ہوتے ہیں۔
باقی لوگوں کے نزدیک وہ چاہے بیوقوف ہو لیکن اللہ کے ہاں اسکا مقام بہت بلند ہوگا۔
گوجرانوالہ کی ایک خاتون، جن کے شوہر کسی جرم میں جیل میں بند ہیں، اور وکیل صاحب ہی ان کا کیس بالکل مفت لڑ رہے ہیں۔گھر میں کھیلتے ہوئے اچانک دیوار کی ایک اینٹ معصوم بچے کے سر میں جا لگی۔
مقامی ہسپتال لے جایا گیا، لیکن حالت تشویشناک ہونے پر ڈاکٹروں نے فوراً لاہور ریفر کر دیا۔
رات 11 بجے، ممتا کی تڑپ اور بے بسی کے عالم میں بچے کی ماں نے ملک فہیم کھوکھر صاحب کو فون کیا اور روتے ہوئے کہا: "ہمارا اللہ کے سوا کوئی نہیں، میں بچے کو اس کی دادی کے ساتھ لے کر لاہور آ رہی ہوں..."
وکیل صاحب نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔ اپنے گارڈ کو ساتھ لیا اور ہسپتال روانہ ہو گئے۔
اللہ پاک نے کرم کر دیا، تمام ٹیسٹ اور ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد بچے کا آپریشن کامیابی سے ہو گیا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں یہ غریب خاندان ملک فہیم کھوکھر صاحب کی صورت میں خدا کی رحمت کا گواہ بن گیا۔
اللہ کی قسم، انہی بے وقوفوں کے دم سے دنیا قائم ہے۔
مرد بنو اور خود کما کر کھاؤ بھیک نہ مانگو ۔۔۔۔!!! ببو برال مرحوم کے بیٹے نبیل برال کو سوشل میڈیا سپورٹ مانگنے پر طعنہ دے دیا گیا ۔۔۔ اپنی ایک تازہ ترین ویڈیو میں لیجنڈ پاکستانی کامیڈین ببو برال مرحوم کے صاحبزادے نبیل برال نے واضح کیا کہ میں نے کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگی ، سوشل میڈیا پر سپورٹ مانگنے کا مقصد یہ تھا کہ میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ریکوائرمنٹ پوری ہو جائے اور مجھے یہاں سے کچھ آمدن ہو سکے ، میں ایک اداکار باپ کا بیٹا ہوں ، والد کے انتقال کے بعد خواہش تھی اسی فیلڈ میں اپنا کیرئیر بناؤں لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا میرے ساتھ حادثہ پیش آیا اور کرنٹ لگنے سے میرا ایک بازو جسم سے جدا ہو گیا جبکہ ایک ٹانگ کو بھی شدید زخم آیا جو آج 2 سال بعد بھی بھرنے میں نہیں آرہا ، اس حالت میں بھی ایک ہاتھ کے ساتھ اوبر پر بائیک چلا رہا ہوں اور اپنا رزق روٹی کمانے کی کوشش کررہا ہوں ، اللہ وہ دن نہ دکھائے کہ میں کسی سے پیسوں کی بھیک مانگوں ، میرے اندر جب تک آخری سانس باقی ہے رزق حلال کمانے کی جدوجہد کرتا رہوں گا ، میرا فیس بک اکاؤنٹ مانیٹائز ہو گیا لیکن ویوز اور فالورز کی کمی کی وجہ سے ابھی مجھے پہلی انکم بھی نہیں آئی ۔ آپ سے پھر التجا کرتا ہوں مجھے صرف لائکس شیئر اور فالوررز کی صورت میں سپورٹ چاہیے یہ بھی آپ سب کا احسان ہو گا ۔۔۔۔۔
ایک بےزبان بہن اپنے گھر والوں کی تلاش میں...
یہ معصوم بچی بول اور سن نہیں سکتی۔ تقریباً ایک سال قبل یہ کوہاٹ میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے یا لکھنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے اس کے اہلِ خانہ تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
اس وقت یہ بچی کسی کی حفاظتی تحویل حویل میں ہے،
اس کی آنکھوں میں اپنے گھر والوں سے بچھڑنے کا درد صاف نظر آتا ہے۔ دن رات روتی ہے، اپنے پیاروں کو یاد کرتی ہے، اپنی بےبسی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اس کے آنسو ہی اس کے دکھ کی داستان سناتے ہیں۔
بظاہر یہ کسی خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس بےزبان بچی کی آواز بنیں۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کا ایک شیئر اسے اس کے ماں باپ اور خاندان تک پہنچا دے۔
اگر آپ اس بچی کو پہچانتے ہیں یا اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم درج ذیل نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کریں۔
واٹس ایپ: 03162529829
13 اگست 2026
#WaliullahMaroof
#MissingChild
#FamilyReunion
یہ اسپیشل بچہ ہے۔
آج سے تقریبا 20 سال قبل اپنے گھر سے بچھڑا ہوا ہے۔ ایک بھائی نے رابطہ کرکے بتایا کہ:
"اسلام و علیکم پیارے بھائ امید ہے آپ خیریت سے ہو گے!
یہ شخص تقریبا بیس سال قبل فیصل گجر کوچ میں بیٹھ کر آیا حسن ابدال اترا یہ بول نہیں سکتا سن سکتا ہے۔
ابھی ادھر ایک دو بندوں کے ہاں رہتا ہے اس کو میں نے کہا تماری تصویر لگاؤں تمہیں گھر والے مل جائے کہتا ہے ہاں۔
یہ ممکن ہے لاہور گجرانوالہ گجرات جو روٹ بنتا ہے لاہور سے مانسہرہ تک اس جگہ کا ہو گا ممکن ہے اس کے گھر والے بھی اسکی تلاش میں ہو پلیز پلیز اب اسکی پوسٹ لگا دیں جزاک اللہ"
اس جوان کی پرانی تصویر موجود نہیں ہے۔ چند سال قبل اور حالیہ تصویر موجود ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ کیا پتہ آپکے ایک شئیر کرنے سے اسکو اپنا گھر مل جائے اور یہ اللہ والا دن رات آپکو دعائیں دے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
12 Aug 2026
#waliullahmaroof