تحریک انصاف کو ایک بات سمجھنی ہو گی۔
تحریک انصاف نے پوری دنیا میں فوج کی طرف سے بلیو ایریا میں قتل وغارت پر احتجاج کیا۔ فوج نے کوئی جواب نہیں دیا۔
علی امین گنڈا پور نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو فوجی قاتلوں کو للکارا۔ فوج نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے فوج کے ناجائز کاروباروں کے خلاف آواز اٹھائی۔ فوج کی پراڈکٹس کی عوامی سطح پر بائیکاٹ کی مہم چلائی۔ فوراً جواب آیا کہ نہیں، نہیں، گولی ہم نے نہیں چلائی۔
تو آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے کرنا کیا ہے۔ اور کس طرح کرنا ہے۔ یقیناً صرف بائیکاٹ حل نہیں ہے۔
قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور کسی قانون کی خلاف ورزی کیے بغیر سیاسی جماعتوں کے شہروں اور قصبوں کے عہدیداران اور تنظیمی باڈیز کو ملک بھر میں تاجروں کی تنظیموں کو ملنا چاہیے، دوکانداروں اور بڑے اسٹورز اور کاروباروں کے مالکان کو ملنا چاہیے اور انہیں قائل کرنا چاہیے کہ وہ قاتلوں کی بنائی ہوئی پراڈکٹس رکھیں ہی نا۔ اور جو دوکاندار اور اسٹور ایسا نہ کرے اور فوجی مصنوعات نہ ہٹائے، اس کے کاروبار کا بھی بائیکاٹ کیا جائے۔ ان مصنوعات سے حاصل ہونے والے منافع سے یہ ظلم کے مزید پہاڑ ڈھاتے ہیں۔
بجائے خون خرابے کے اگر سیاسی جدوجہد قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری انداز میں کی جائے تو اسکے زیادہ مثبت نتائج آئیں گے۔
فوج کا بائیکاٹ کس کس سطح پر کیا جاسکتا ہے؟
سماجی بائیکاٹ ؛
یعنی اس ادارے سے وابستہ لوگوں سے ملنا جلنا ترک کردیا جائے۔ انہیں احساس ہو کہ عوام کے اندر جو غم و غصہ ہے اور جو نفرت ہے وہ انکے اور انکے اداروے کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے۔
مصنوعات کا بائیکاٹ ؛
اگرچہ ان مصنوعات کی فہرست بہت لمبی ہے کیونکہ کوئی ایسا سیکٹر بچا نہیں جہاں فوج نے اپنی بزنس ایمپائر کھڑی نہیں کی۔ لیکن فوجی فرٹیلائزر کی کھاد اور عسکری سیمنٹ دو ایسی مصنوعات ہیں جنکی کھپت بہت زیادہ ہے۔ آپ کو جس جس پراڈکٹ کے متبادل کا علم ہے متبادل ہی استعمال کریں۔
خدمات کا بائیکاٹ ؛
فوجی سکولوں میں سویلین کی فیس فوجی کے بچوں سے چار گنا زیادہ ہے۔ انہی فنڈز سے یہ اےپی ایس سکولز چلتے ہیں ۔ سی ایم ایچ میں فوجیوں کا علاج مفت ہے سویلین کے لیے ٹھیک ٹھاک مہنگا علاج اور تیسری اور سب سے بڑی سروس عسکری بنک۔ تعلیم ، صحت اور بینکنگ میں فوج کی ان تینوں شاخوں کا بائیکاٹ کیجیے۔
حدود کا بائیکاٹ ؛
کسی بھی چھاونی اور ڈیفینس میں اکثریتی کمرشل پراپرٹی فوج سے ریٹائرڈ افسران کی ہے۔ یہاں ہونے والے کاروباروں کا براہ راست اور بلواسطہ فائدہ فوج کے افسران کے افسران کو پہنچتا ہے یا فوج کے سب سے بڑے برانڈ ڈیفینس کو۔ ان کی حدود میں موجود کسی بھی کاروبار کا بائیکاٹ کریں۔ تاکہ ان جگہوں سےسرمایہ ویسے ہی نکلے جیسے فوج کی حرکتوں سے پاکستان سے نکلا ہے۔ ہر ہر شخص کو تکلیف پہنچے بھی اور انہیں خالی پڑے ڈیفینس اور کینٹ بھی دکھائی دیں۔
نوٹ ؛ آپ کا فرض صرف بائیکاٹ پر پوسٹ کرنے تک محدود نہیں ہے۔ آپ کو اس پیغام کو ایکس سے باہر واٹس ایپ پر بھی پہچانا ہے بالخصوص بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں تک۔کیونکہ ہر بڑے شہر میں چھاونی موجود ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح فوجی مصنوعات کے خریدار ہیں اور انہیں انکے کاروبار میں فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
منیب فاروق چیخ رہا ہے تو مطلب منیب کی جس کے ساتھ نشست ہوتی ہے وہ چیخ رہا ہے۔ اگر وہ چیخ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے پاگل کتا چیخ رہا ہے۔ ویسے پاگل کتے کی چیخوں کی آواز بہت دردناک ہوتی ہے۔
اسے مزید درد دیجیے۔ سانحہ اسلام آباد کی ویڈیوز اور تصاویر ایک بار پھرہر فوجی اور اسکے خاندان کو آخ تھو کے ساتھ لازمی ارسال کریں۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ بہادر مارے جاتے ہیں، ذہین پاگل ہو جاتے ہیں اور دنیا مطمئن بےوقوفوں سے بھری رہتی ہے۔ انگریز بالکل ٹھیک کہتے ہیں کہ جہالت بڑی نعمت ہے۔ شعور آپ کو تکلیف میں ڈال دیتا ہے۔ اور یہ وہ تکلیف ہے جو عوام کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے۔ جس تکلیف میں آپ اکیلے ہوتے ہیں۔
شعور دینا بغاوت نہیں، نظریہ سمجھانا اُکسانا نہیں، حقائق بتانا جرم نہیں، حق کا راستہ دکھانا سازش نہیں، خوف ختم کرنا غداری نہیں....
سانحہ ڈی چوک بمقابلہ سانحہ ساہیوال
بی بی سی اردو کی تحریک انصاف کی کوریج پر مختصر تھریڈ
چند سال پہلے تک بی بی سی اردو کی رپورٹنگ میں غیر جانبداری نمایاں نظر آتی تھی۔ پھر تحریک انصاف کے قومی منظر نامے پر ابھرنے کے بعد اس کی خبروں میں پی ٹی آئی مخالف فریمنگ اور اینگلنگ نظر آنا شروع ہو گئی۔ بات شروع کرتے ہیں بی بی سی کی سانحہ ساہیوال کی کوریج سے۔ اس افسوسناک سانحے کی کوریج کی اہم سٹوریز میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی تصویر نمایاں طور پر لگائی گئی۔ 1/9
میرا بس چلتا تو میں @alizaihere بھای کی یہ ویڈیو وڈے سپیکر پر چلا کر پنجاب کی مرکزی قیادت کے کانوں میں یہ الفاظ لازمی سنواتا اس کلپ میں ٹیگ کرتے جائیں ان راجوں مہاراجوں کو جنکو چوڑیوں کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔
اس کلپ کا ہر ہر لفظ سچا اور کھڑا ہے اج سے چند دن پہلے یہی سوال جب میں نے قیادت سے پوچھے تو انہوں نے بلاک کر دیا ۔۔
میں نے تو اس دن ہی پنجاب کی قیادت سے امید چھوڑ دی جس دن پنجاب اسمبلی کا پی ٹی ای کا اپوزیشن لیڈر ہاتھ باندھے مریم نواز کے اگے کھڑا تھا جب حافظ فرحت عباس ن لیگ کے ارکان کو گلے مل مل کر مبارکیں دے رہا تھا ۔۔
پنجابی مفاہمت پرست ہیں یہ فقرہ غلط ہے ہم پنجابی ڈرپوک ہیں بزدل ہیں پختون اے باپ بیٹے کی کاش لیکر جارہاہے بیٹہ باپ کھ لاش لیکر جارہا ہے پھر بھی قیادت پر تنقید کر رہا ہے گالیاں دے رئا ہے کہ خان نے کہا تھا اجتجاج ختم نہی کرنا تم لوگوں نے کیوں ختم کیا ۔۔
دکھ تو اس بات کا کسی کے منہ سے ابھی تک یہ نہی سنا کہ کارکنوں کا قاتل کون ہے ۔۔
#IslamabadMassacre
#اسلام_آباد_قتل_عام
علی امین گنڈا پور سے میرے چند سوالات:
1. آپ کے پاس مارچ کی تیاری کے لیے دو ہفتے تھے۔ کیا آپ نے اپنے کارکنوں کے لیے کھانے، پانی اور بستر کا انتظام کیا؟
2. میجر عادل راجہ نے دوپہر کے اوائل میں مجھ سے بات کی اور کنٹینر میں موجود پی ٹی آئی والوں کو آرمی پلان کے بارے میں آگاہ کیا۔
3. انہیں سنائپرز کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی، لائٹس بند کرنے کا پروگرام اور ڈی چوک میں بالکل نہ جانے کا مشورہ دیا گیا۔
4. آپ نے اپنے نوجوانوں کو وہاں کیوں جانے دیا؟
5. میں آپ کو بتاتا ہوں کیونکہ آپ ان کی قیادت نہیں کر رہے تھے۔ آپ ان کی پیچھے تھے اور آپ ان کو قربانی کے میمنے کے طور پر پیش کر رھے تھے۔
6. میں آپ کو معاف نہیں کروں گا، قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی۔
Merey Pakistaniyo, the time is NOW!
Freedom for all, a Pakistan for everyone – WE THE PEOPLE will rise for change! Join the march for #HaqiqiAzadi on #24thNovember24 and stand for justice, equality, and progress. Share the poster and join the movement for a truly independent Pakistan.
#FinalCall
#ReleaseKhanSavePakistan
#IK101
#واپسی_ہوگی_خان_کے_سنگ
“November 24th is the day to break free from slavery. The rule of law, constitution, and human rights are suspended in Pakistan, forcing the nation to come out to protest and make sacrifices. The nation must decide whether to wear the yoke of slavery like Bahadur Shah Zafar or to adorn the crown of freedom like Tipu Sultan.
I have excellent relations with Saudi Arabia. When I was attacked in Wazirabad, one of the first calls I received was, through the embassy, from HRH Crown Prince Mohammed bin Salman. Saudi Arabia has always stood by us in difficult times.
Only two weeks prior to our government being toppled, we held a very successful OIC foreign minister's conference in Islamabad, which would have been impossible to do had Saudia Arabia not supported and stood with us.
Bushra Bibi's statement was deliberately taken out of context to draw our brotherly country KSA into a needless controversy. She didn't mention Saudi Arabia at all.
My government was toppled through conspiracies, all orchestrated by General Bajwa. I tried to have these investigated through the Chief Justice and General Tariq Khan, but General Bajwa did not allow that to happen.
Bushra Bibi has no connection with politics; she only conveyed my message to the nation, as my wife, regarding the November 24th protest.
The nation should focus on the November 24th protest. God willing, you will emerge victorious.” - Message of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
میرے پاکستانیو!! میں نے جتنا ہو سکا ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی دی، اور انشاء اللہ خون کے آخری قطرے تک آپ کی حقیقی آزادی کے لیے لڑتا رہوں گا۔ لیکن یہ جنگ صرف عمران خان کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔ اگر ہم آج اس ظلم و ستم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو ہماری آئیندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی- جمہور کی طاقت سے ظلم کے نظام کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے، انشاء اللہ۔ آج میں احتجاج کی فائنل کال دے رہا ہوں۔ 24 نومبر کو آپ سب نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے 10 سال کیلئے غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ ملک میں بوگس پارلیمنٹ، بوگس وزیراعظم، بوگس صدر اور بوگس جمہوریت ہے۔ اس وقت جنرل مشرف سے زیادہ خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ قانون کی بالادستی جمہوریت ازادی اور ملک کے مستقبل کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اپنے سہولت کاروں کی مدد سے مینڈیٹ چوری کر کے ملک پر قابض مافیا کے زیر انتظام جاری فسطائیت کے نظام، آئین و قانون اور عدلیہ پر مسلسل حملوں، ہمارے بے گناہ لوگوں کو زندان میں میں ڈالنے والی جعلی حکومت کو بتانا ہو گا کہ قوم کو یہ سب نامنظور ہے۔
24 نومبر کے احتجاج کی قیادت تحریک انصاف لیڈرشپ کرے گی۔ میں نے پارٹی رہنماؤں کو جامع احتجاجی پلان دے دیا ہے۔ میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، احتجاج کو لیڈ کرنے اور ختم کرنے کا اختیار اس کمیٹی کے پاس ہوگا۔ مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری کمیٹی ان سے مذاکرات کرے گی-
میں اپنی پارٹی قیادت کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
جہاں یہ احتجاج پارٹی لیڈرز، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ناظمین، اور صوبائی و مقامی تنظیموں کا امتحان ہے، وہیں یہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کا بھی امتحان ہے۔ میں ہر طبقے بشمول اپنے کاروباری طبقے، سول سوسائٹی، قانونی برادری، کسانوں، ریڑھی بانوں، تنخواہ دار طبقے سے کہتا ہوں کہ اسلام آباد پہنچیں۔ میرے نوجوان اور طلباء، جن کا مستقبل بالخصوص داؤ پر ہے، ان کو یہ ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ اپنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی میرا یہ پیغام ہے کہ قوم کے مستقبل کی خاطر دنیا بھر میں احتجاج کا حصہ بنیں اور پارٹی کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-
مجھے اپنی قوم پر مکمل بھروسہ ہے اور میں یہ پیشنگوئی کر رہا ہوں کہ 24 نومبر کو پورا پاکستان اسلام آباد پہنچے گا اور عوام کا سمندر ہر رکاوٹ اور کنٹینر کو بہا لے جائے گا۔ اس دن یک زبان ہو کر پوری قوم کے یہی مطالبات ہوں گے:
- چھبیسویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دے کر آئین کو اپنی پرانی حالت میں بحال کیا جائے
- چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی
- بغیر ٹرائل گرفتار سیاسی قیدیوں کی رہائی
میرے پاکستانیو، اب کی بار ہم نے اپنے مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں لوٹنا”
Former Prime Minister Imran Khan's conversation with journalists in Adiala Jail – 11th November 2024:
Our action plan was announced during the Jalsa (political rally) at Swabi. This time, our protest will continue, and our people will not go back to their homes until the constitution, democracy, and judicial independence is restored, and our innocent workers and leaders are freed.
In the next few days, I will personally announce the date of the protest march, which we will be fully prepared for.
I am ready to make every sacrifice for genuine freedom for Pakistan. PTI officials, members of parliament, organizers, ticket-holders, workers, and supporters should finalize preparations and begin efforts for on- ground mobilization.
Former Prime Minister Imran Khan’s statement :
Pakistan today is passing through one of its darkest phases, where there is a complete collapse of law and order and brute force is being used unabated to destroy the very foundations of democracy, constitution, and rule of law.
Judiciary is being enslaved with the executive being given powers well beyond its constitutional entitlement, thus gravely impacting the structure of trichotomy of power.
Nobody is safe from the fascism prevalent today: legislators, their businesses, their properties, their families, even women and children are under assault. Azam Swati, Khawaja Shiraz, Intizar Panjotha have all been abducted and tortured. All established redlines have been fractured with total disregard for human rights.
In the wake of the 26th Constitutional Amendment, the silence of the legal fraternity is disturbing. Today, the situation is much worse than ever before in the past. Judiciary’s independence has been brutally assaulted, and judges turned into dispensable commodities. This must be resisted with the full vigour and faith by the legal community as, otherwise, they will forever remain buried under the unwieldy weight of oppression and tyranny.
The criminal mafias that have been illegally hoisted in positions of power have their properties, businesses and families abroad. They come back only to unleash a reign of plunder to fly off to their safe havens, waiting for their next turn.
They were defeated in the February 8 elections, but the results were stolen in the darkness of night. This blighted night has continued to get darker with the passage of time.
I have been subjected to solitary confinement and torture in a dark cell by those who control Adiala. My Lahore house was raided when my wife was alone. My sisters and other relatives have been mercilessly targeted. I have not been allowed to speak to my children and denied all rights that the constitution grants me.
With the establishment in command, the distance between the armed forces and the people is widening. Army being an indispensable public asset must be responsive to the will of the people. We can’t afford to sacrifice the reputation of the institution to satiate the lust for power of an individual or a coterie of a few. That would be tragic as it would cause irreparable damage to the reputation of the institution.
Our struggle is not against the institution of the military. We are fighting for democracy, independence of judiciary and restoration of the Constitution. The fight is for the rights of the people. We are fighting for confining institutional operations within the domain of the Constitution. We are fighting for restoring people their freedoms so that they could lead Pakistan to become a formidable country.
No outside force will help us. We must do it ourselves. We must regain our freedom, our dignity and self-respect. Loss of these values renders' human life meaningless. What we do now will determine the future of Pakistan and that of its coming generations.
This can be done only if the stolen mandate of February 8 is restored to the people of Pakistan and those whom they selected as their leaders. The governments installed on the basis of a stolen mandate are lack legitimacy and relevance. They cannot provide the country the leadership it desperately needs to tide over unprecedented difficult times.
It is time for people to step out to reclaim their mandate. PTI is the largest political party of the country. We have the people’s trust. We must not fail them. This is the time to launch a peaceful movement for the restoration of the Constitution, democracy and rule of law. I call upon all segments of the society to play their role. I especially urge my ticketholders to join the movement.