🚨 سائفر کی اوریجنل کاپی سامنے آ گئی
ڈونلڈ لوُ نے پاکستانی سفیر کو کہا کہ “اگر تحریک عدم اعتماد سے وزیراعظم (عمران خان) کو ہٹا دیا گیا تو “سب معاف کر دیا جائے گا” کیونکہ روس کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا-
ورنہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مزید سختی سے isolate/اکیلا کر دیا جائے گا”
ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ #سائفر_ایک_حقیقت تھا اور عمران خان سچا تھا اور سچا ہے!!
*صرف عمران خان ہی کیوں*
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید کی تحریر
"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔
"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟
یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔
مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے۔۔۔
جنید صفدر اگر پنجاب حکومت کا جہاز ہنی مون کے لیے واقعی ہی لے کر گئے ہیں تو یہ پاکستان کی تاریخ کا ہی سب سے بڑا کرپشن اور عوامی پیسے کا خاندان پر استعمال کرنے کا سکینڈل ہی نہیں ہوگا بلکہ مغلوں کی ہندوستان میں 400سالہ حکومتی خرافات اور عوامی وسائل پر کی جانے والی عیاشی کو بھی پیچھے چھوڑ دیگا۔تصور کیجیئے 13کروڑ بلکتے،سسکتے بھوک سے خودکشیاں کرتے نفوس اور ہنی مون پر پدھارتے ولی عہد۔۔ظلم ہے ظلم۔۔
کوئی نارمل ملک ہوتا تو اب تک مریم نواز سے استعفیٰ بھی لیا جاچکا ہوتا۔
اقرار بھائی آپ بالکل درست فرما رہے ہیں ڈاکٹر اسرار نے جو کچھ کہا تھا وہ آج عملاً جلوہ گر ہوتا دکھائی دے رہا ہے
دراصل یہ بیان عمران خان اور جمائما کی شادی کے 3 دن بعد کا ہے
ڈاکٹر اسرار صاحب نے یہ گفتگو اسی زمانے میں کی تھی اور یہ ویڈیو بھی مستند ہے
تاہم اگر ہم تحقیق و تدبر کا راستہ اختیار کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اسرار نے اپنی اس تقریر کے تقریباً 7 سے 8 مہینے بعد ایک رسالہ شائع کیا جسے انہوں نے عمران خان کے نام سے موسوم کیا
اس دور میں ڈاکٹر اسرار آرڈر آف الیومناٹی اور یہود کی جانب سے عالمی شخصیات کو جال میں پھنسانے کے موضوع پر تحقیق کر رہے تھے چنانچہ عمران خان کی شادی بظاہر ان کے نظریے سے ہم آہنگ محسوس ہوئی
لیکن بعد ازاں جب عمران خان کی فکری جہت اور عملی رویہ ان پر واضح ہوا
تو انہوں نے اپنی سابقہ رائے سے رجوع کیا!!!
اور ایک مفصل رسالے میں انہیں عالمِ اسلام کا ابھرتا ہوا ستارہ قرار دیا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصد کے لیے منتخب فرمایا ہے
انہوں نے عمران خان کے حق میں یہ شعر بھی نقل کیا
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا بدن زیر کفن کانپ رہا ہے
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت عمران خان عملی سیاست میں وارد نہیں ہوئے تھے
مزید یہ کہ ایپسٹین فائل ایک بدنام زمانہ شخص اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کی ایک ای میل کا شائع ہوئی جس میں عمران خان کو مغرب کے لیے آیت اللہ خامنہ ای چین کے صدر اور روس کے پیوٹن سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا
جو ڈاکٹر اسرار کی بات کو صحیح ثابت کرتا ہے
عمران خان ان قوتوں کے لیے چیلنج ہیں جو اسلام کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں اور ان کے مخالفین خواہ بیرون ملک ہوں یا اندرون ملک ان میں بے چینی پائی جاتی ہے
عمران خان سے خوف واضح نظر اتا ہے
تو ڈاکٹر اسرار احمد کی بات بالکل صحیح ہے
تعصب کی انتہاء
گریٹر پنجاب کے خواب دیکھنے والے کی بیٹی نے شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹا دیا کہ غیر پنجابی ہیں
یہ ملک کو کس طرف لے کر جارہے ہیں
نوجوان نے پردہ چاک کردیا
A heartfelt song by Turkish poet Turgay Evren (@turgayEvren1), calling for the freedom of a leader whose voice matters on Gaza, Kashmir, and every struggle for justice.
#ReleaseImranKhan
میرے دوست انجینر محمد علی مرزا صاحب پکڑے گئے
کتنا بدل گیا انسان
مرزا صاحب کو ہی نہیں ہم سب کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سوشل میڈیا کے بغیر فلٹر والے بچوں کا دور ہے وہ نہیں چھوڑتے۔