مجھے گزشتہ روز گاؤں سے چچا نے اس بچی آیت نور سے متعلق فیس بک پوسٹ بھیجی کہ اس کیلئے آواز اٹھاؤ ۔ میں نے پھر ریسرچ کی ۔ معلومات حاصل کیں ۔ تو میرا دماغ ماؤف ہوگیا ۔ 5 سال کی معصوم بچی ہے ۔ پولیس نے جو تی�� ملزمان پکڑے ہیں انہوں نے جو اعتراف کیا ہے میں وہ یہاں نہیں لکھ سکتا ۔ سوچتے ہوئے بھی خوف آتا ہے ۔
گزشتہ روز سے میں نے کوئی کام نہیں کیا ۔ میں جب بھی اس طرح کے واقعات دیکھتا ہوں کچھ روز کیلئے میرا دماغ ماؤف رہتا ہے سارے کام رہ جاتے ہیں اس لئے سوات کشمیر یا بلوچستان میں کوئی سانحہ ہو تو میں اس پر کوئی پوسٹ نہیں کرتا کیوں کہ پھر وہ میری آنکھوں کے آگے بار بار آتا ہے ۔
حالیہ پے درپے واقعات کے بعد تو پڑوسیوں سے بھی خوف آتا ہے ۔
ہم کیا سے کیا ہوگئے ہیں کہ معصوم بچے بھی محفوظ نہیں رہے ۔ ہری پور میں تو آج بھی خواتین برقعے نہیں پہنتیں ۔ صرف چادر میں بازار جاتی ہیں ۔ وہاں تو لوگ ایسے نہیں تھے ۔ کراچی میں لی مارکیٹ میں پہلے ایک معصوم بچے کیساتھ ظلم ہوا پھر قیوم آباد میں ڈیڑھ سال کی ایزل کیساتھ ظلم کی انتہا کردی گئی ۔ ہم بطور معاشرہ کس طرف جارہے ہیں ۔ یہ حیوان کہاں سے آرہے ہیں ۔ ان کے والدین ان کی کیا تربیت کررہے ہیں ۔
حکومت کیوں 18 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا چلانے پر پابندی نہیں عائد کررہی ۔ والدین کیوں چھوٹے بچوں کو موبائیل لیکر دیتے ہیں ۔ ہم کہاں کولیپس کررہے ہیں ۔ ارباب اختیار کو اسٹیبلشمنٹ کو سیاستدانوں کو اس پر سوچنا ہوگا ۔ بچے تو سب کے ہیں اور یہ جو حیوان کھلے اور آزاد گھوم رہے ہیں ان سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔ یہ کسی بھی شہر کسی بھی قوم کوئی بھی زبان بولنے والوں میں سے ہوسکتے ہیں ۔ ان معاملات کا کوئی ٹھوس حل نکالنا ہوگا ۔
#JusticeForAyatNoor
🚨اسرائیلی خاتون کا حماس کی حراست میں رہنے کے بعد بیان👇
"مجھے ڈر تھا کہ میرے ساتھ زیادتی کی جائے گی، لیکن اس کے برعکس انہوں نے مجھے جسم ڈھانپنے کے لیے حجاب دیا۔ ان کے نزدیک عورتیں مقدس ہوتی ہیں، عورتیں ملکہ کی طرح ہوتی ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے ہمیں بتایا کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔"
Donald Trump threatened to bomb the nuclear power plant city of Busheher tonight.
Look at all the Iranis gathered in the same city, Busheher, that Trump threatened to bomb.
This is what the west cannot swallow. This courage is not digestible to the west.
بڑا انکشاف👉🇺🇲🚨
ایران نے جنیوا میں امن مذاکرات کے دوران اپنی تمام افزودہ یورینیم دینے کی پیشکش کی۔ برطانوی حکام نے اسے ایک قابلِ اعتبار پیشکش سمجھا۔ چند گھنٹوں بعد، ٹرمپ نے ایران پر بمباری شروع کر دی۔ امریکہ امن نہیں چاہتا تھا، وہ جنگ چاہتے تھے
🚨"ایک سویڈش شخص نے اینٹیک کی دکان سے 1926 میں شائع ہونے والا ایک اٹلس خریدا۔
اس اٹلس میں اس نے فلسطین کے نام کو دیکھا لیکن وہاں "اسرائیل" نہیں تھا۔
کیونکہ اسرائیل نام کی کوئی جگہ نہیں ہے صرف فلسطینی زمین پر قابض علاقے ہیں۔"
🚨FIRED 3️⃣5️⃣3️⃣ BULLETS
Story of a little girl, 6 years old - Hind Rajab...
Pretty Ironical, that Film got released in Israel but India banned it.
Too much crawling for FATHERLAND.🤡🤡🤡
🚨غزہ میں کام کرنے والی آسٹریلوی خاتون ڈاکٹروں نے یہ بیانات دیے ہیں👇
"ہم یہ ویڈیو اس لیے بنا رہی ہیں کیونکہ ہم کسی بھی لمحے مر سکتی ہیں۔ ہمارے 70٪ سے 80٪ مریض بچے اور حاملہ خواتین ہیں۔ میں نے ایک ایسی خاتون کے ہاں بچے کی ولادت کروائی جو نویں مہینے میں تھی اور اس کا سر نہیں تھا۔"
"براہِ کرم، اس ہولناک صورتحال اور دہشت کو روکیں۔"
🚨 ایک امریکی خاتون کا کہنا ہے کہ 👇
"میں نے غزہ کی ایک چھوٹی بچی کو دیکھا، جو میری بیٹی کی عمر کی تھی، جس نے ایک گندے اسپتال کے فرش پر اپنی آخری سانس لی۔
اس نے اپنا چھوٹا سا سر اٹھانے کی کوشش کی تاکہ اپنی ماں کو ایک آخری بوسہ بھیج سکے۔
میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ فلسطین کی آزادی کے لیے وقف کرنے کے لیے تیار ہوں۔"
“They put me on a metal table, pressed my chest and head against it, cuffed my hands to end of the bed and pulled my legs apart forcefully.
I felt a penis penetrating my anus and a man raping me. I started screaming, and they beat me on my back and head.
While I was blindfolded, I felt a man who was raping me ejaculate inside my anus. I kept screaming and being beaten, and I could hear a camera, so I believe they were filming me.
I cannot describe what I felt. I wished for death. Every moment."
— UN Special Rapporteur Francesca Albanese reads Palestinian survivor accounts of rape, torture, and killings in Israeli detention.
18,500+ have been detained since October 7. At least around a hundred, including a child, have died in custody. And some 4,000 are forcibly disappeared.
“What is lost in Palestine will be lost to us all.” — @FranceskAlbs told the Human Rights Council in Geneva.
Israeli soldiers torture a one-year-old child in Gaza, including burning his leg with a cigarette and inserting a nail into his leg, according to a report, to pressure his father to make confessions
https://t.co/v0be37LwpV
عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اعلامیے میں ایران کی مذمت تو ہے لیکن عالمی دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کی غنڈہ گردی کا نام تک نہیں
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
قنوت میں بھی میں نے ایران کے بھائیوں کے لیے دعا مانگی ہے، اللہ ایران کی مدد فرمائے۔ ایسے بے وقوف اور عقل کے اندھے ہیں جو پوسٹیں لگا رہے ہیں کہ شیعہ شہید ہے یا ہلاک ہے، اللہ انکو ہلاک کرے جو ایسی بکواس کرتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل
شہید علی لاریجانی کی والدہ اپنے بیٹے کے جنازے کو الوداع کہہ رہی ہیں۔
علی لاریجانی کے گھر کی حالت دیکھیں،سادگی پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ان غیرت مندسپاہیوں نےزندگی اللہ کے بتائے ہوئےاصولوں پر بسر کی اور موت کو ہنستے ہوئے بہادری سےگَلے لگایا۔
“ رمضان میں شہید ہونے والے یہ دونوں علی ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یاد دلاتے ہیں جو 21 رمضان کو شہید ہوئے ۔ کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے نمرود ، فرعون اور یزید کے زوال کا باعث بنتی ہے۔” حامد ��یر کا کالم
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
فیصل آباد ایئرپورٹ پر گزشتہ رات عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فرشتے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک بائیس سالہ طالب علم اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہا تھا۔
نوجوان طالب علم جب امیگریشن کاؤنٹر پہنچا تو سب کچھ ٹھیک ��ھا۔ کاغذات دیکھے گئے، کمپیوٹر میں انٹری ہوئی اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر ثبت کر دی گئی۔ یہ مہر اس بات کی سند تھی کہ ریاست کو اس نوجوان کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ابھی یہ سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایئرپورٹ کے ایک ارسطو اہلکار کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے طالب علم کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
اس طالب علم کی سب سے بڑی خطا یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے ملک کا نام لے لیا جس کا نقشہ شاید ہمارے ان جاہلِ اعظم اہلکار صاحب نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ "لیتھوینیا!" نام سنتے ہی اہلکار صاحب کے ماتھے پر یوں بل پڑے جیسے کسی نے ان سے کوانٹم فزکس کا فارمولا پوچھ لیا ہو۔ ان کے نزدیک دنیا صرف دبئی، سعودی عرب اور لندن تک ختم ہو جاتی ہے، یہ "لیتھوینیا" بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا؟
اہلکار صاحب کی منطق کا عالم دیکھیے، انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر لیتھوینیا کوئی ملک ہے، تو اس کا سفارت خانہ فیصل آباد کی کچہری یا کم از کم اسلام آباد کی کسی گلی میں کیوں نہیں؟ طالب علم نے بیچارگی سے دہائی دی کہ "جناب! یہ ملک براعظم یورپ میں ہے، اور چونکہ پاکستان میں ان کا دفتر نہیں، اس لیے مجھے ویزے کے لیے پہلے باکو (آذربائیجان) جانا پڑے گا"۔
مگر صاحب! وردی کی اکڑ اور معلومات کی کمی جب آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں تو منطق خودکشی کر لیتی ہے۔ اہلکار کے دل میں شک کا وہ ناگ بیٹھا کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ چونکہ اہلکار صاحب نے خود تو کبھی میٹرک سے آگے تعلیم حاصل ��رنا ضروری نہیں سمجھا تھا، اس کی نظر میں وہ یونیورسٹی کا ایڈمیشن لیٹر اور 30 لاکھ روپے کی فیس کی رسیدیں محض ردی کے ٹکڑے تھے۔ اسے لگا شاید یہ لڑکا لیتھوینیا کے بہانے مریخ پر جا کر وہاں کی شہریت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
طالب علم نے ایڑیاں رگڑیں، فیس کی رسیدیں لہرائیں، واسطے دیے، مگر اہلکار صاحب اپنی دانشورانہ ضد پر قائم رہے۔ نتیجہ؟ ڈھائی لاکھ کا ٹکٹ آف لوڈ کی نذر ہو گیا اور 30 لاکھ کی فیس اب لیتھوینیا کی یونیورسٹی میں پڑی ہے۔
واہ رے نظام! جہاں پہلے مہر لگائی جاتی ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ "میاں، تم ہو کون؟" ایئرپورٹ پر بیٹھے شخص کو یہ تو پتہ ہے کہ رشوت کیسے لینی ہے یا رعب کیسے جھاڑنا ہے، مگر یہ نہیں پتہ کہ دنیا کے نقشے پر کون سا ملک کہاں واقع ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) کو چاہیے کہ ایسے ارسطوؤں کو ایئرپورٹ کے بجائے کسی پرائمری سکول کے جغرافیے کی ��لاس میں بٹھائیں، تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کا مستقبل اس جہالت کی بھینٹ نہ چڑھے۔
#فیصل_آباد #انصاف
#FaisalabadNews #offload #JusticeForStudent #LithuaniaVisa