“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
8 فروری 2024 کو پاکستانی قوم نے مینڈیٹ امت مسلمہ کے لیڈر عمران خان کو دیا۔ قوم نے پاکستان کے فیصلے کرنے کا اختیار عمران خان کو دیا کیونکہ قوم کو یقین تھا اور ہے کہ وہ لیڈر پاکستان اور پاکستانیوں کا سودا نہیں کرے گا۔ پاکستان کی عزت، وقار، بقا،سلامتی، غیرت اور خودداری پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گا لیکن 25 کروڑ غیرت مند پاکستانیوں کا مینڈیٹ چوری کرکے ان کو مسلط کر دیا گیا جن کو پاکستانی قوم نے یکسر مسترد کردیا تھا۔
عمران خان کو جیل میں ناحق قید رکھ کر ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جو کہ کسی صورت پاکستان یا پاکستانیوں کے فائدے میں نہیں ہیں
اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب محب وطن پاکستانی بند کمروں میں بنائی گئی داخلہ یا خارجہ پالیسیز پر تنقید کرتے ہیں تو کسی کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانستان چلے جاو اور کسی کو کہا جاتا ہے کہ اگر مظلوموں کا اتنا ہی تمہیں درد ہے تو ایران کیوں نہیں چلے جاتے؟ پاکستان کو صرف چاند تاروں ستاروں تک محدود کرنا ہے؟ یا بغیر اس کے بھی کوئی پاکستانی یہاں رہ سکتا ہے؟
نقصان پر نقصان ہورہا ہے لیکن انہوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنی ناکام پالیسیز پر نظرثانی نہیں کرنی۔ اختلاف رائے کی قدر نہیں کرنی۔ قومی یکجہتی کی طرف نہیں جانا۔ حقیقی جمہوریت کی طرف نہیں جانا۔ انصاف کا جنازہ نکالتے رہنا ہے۔ آئین و قانون کو گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے فیصلے وہ کررہے ہیں جن کے اثاثے، جائیدادیں، کاروبار اور مفاد ملک سے باہر ہیں۔انہوں نے قسم کھا لی ہے کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف نہیں لے کر جانا۔ یہ چند لوگ خود کو عقل کل اور 25 کروڑ پاکستانیوں کو جاہل اور بیوقوف سمجھتے ہیں۔ عقلمندوں!!! جس طرف آپ ملک کو لے کر جا رہے ہو وہاں سے واپسی پھر نہیں ہوگی اور نا ہی کوئی آپشن باقی رہے گا۔ رُک جاؤ اور ہوش کے ناخُن لو۔
اگر غلط پالیسیز پر تنقید کرنے والوں کو ملک سے نکل جانے کا کہا جائے گا تو پھر 25 کروڑ میں سے صرف چند بوٹ پالیشیے ہی بچ جائیں گے، جن کو ملک چلانا نہیں ،صرف بوٹ چمکانا آتا ہے۔
پاکستان اس وقت جس کرائسز میں پھنس چکا ہے اس صورتحال سے ملک کو صرف عمران خان ہی نکال سکتے ہیں۔ ہوش اور عقل سے کام لو اور مینڈیٹ اس لیڈر کے حوالے کرو جس کو پاکستانیوں نے پاکستان کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔
پاکستانی قوم تیاری کرے، اب عمران خان کا مزید جیل میں رہنا پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگا، اب عمران خان صاحب کی رہائی ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ پاکستان، پاکستانیوں اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0