The greatest son of soil, will always remain a part of Fabric of Pakistan until Paksitan remains.
The audacities being conducted by the current regime, trying to erase his name etc will not be fruitful. He will forever be a name synonyms with Pakistan- IMRAN KHAN
@ikstaaanacc Shafi Jan did do verbal diarrhoea. There was no need. It's like taking a flying arrow up your ass. However hateful is marrie, to call her a slut now in parliament will just provide deflection
When a nuclear armed state loses more than 1,053 officers and soldiers to terrorism in a single year while its focus remains elsewhere, that is not strength. It reflects deeper internal challenges. Their sacrifice should not be dismissed as simply the cost of freedom.
Don't let their sacrifice be overshadowed by failure.
اگر کسی پولیس والے کی اولاد کو یہ لگتا ہے کہ انکے ابا جی حرام نہیں کھاتے تو پھر اولاد اپنے ابا جی کو جانتی نہیں۔ اگر یوتھیوں کو لگتا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز سے کسی ایک بھی پولیس والے کو شرم آجائے گی تو پھر آپ اس سسٹم کو سمجھتے نہیں۔
There is little choice left for the people of Pakistan.
Either remain silent while their chosen leader is imprisoned. Whilst his family is detained, his party is suppressed and justice is denied - or come out peacefully and exercise their fundamental right to protest.
You can arrest families and threaten people with violence. But you cannot imprison 250 million Pakistanis or crush the will of a generation.
No regime is more powerful than its people. The world must watch as the people of Pakistan come together to demonstrate their plea for justice, even in the face of threats of violence.
Inshallah, Pakistan’s future will be decided by its people, not by criminals who rule through fear.
کیا فوج ملک کے لیے لڑتی ہے؟
کیا فوج اور ملک کے مفادات اس وقت ایک ہیں؟
کیا فوج عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے؟
کیا فوج نے اس ملک کے وسائل پر قبضہ نہیں کررکھا؟
کیا فوج بدترین اور گھناونے جرائم میں ملوث نہیں ہے؟
کیا ہمارے دیکھتے ہوئے فوج نے یہ ملک برباد نہیں کیا؟
پھر یہ فوج اس ملک کی فوج کیسے ہے؟
لیڈر ہو تو ایسا! فیلڈ مارشل ڈرامے کے اختتام پر خود اسٹیج پر آگئے اور"ہمیشہ زندہ باد" کا نعرہ لگا دیا - آئی ایس پی آر
فیلڈ مارشل کی 27 ستمبر کے احتجاج سے پھٹی پڑی ہے کہ کہیں نوجوان باہر نہ نکل آئیں، انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرح۔
ڈر تو لگا رہتا ہے نہ چاہے جنتی مرضی طاقت اور استثنی ہو۔
ڈر تو آخر ڈر ہے۔ دونوں جانب ہے۔ جس دن ایک کا ڈر ٹوٹ گیا اس دن۔۔۔۔۔
ہمارا سالا وزیر داخلہ نہیں ہے
ہم نے کوئی وزیر خزانہ نہیں بٹھا رکھا
جعلی حکومتیں ہم نے نہیں بٹھائیں
امارات سے تعلقات ہم نے خراب نہیں کیے
ملک سے سرمایہ کار اور سرمایہ کاری ہم نے نہیں بھگائی
بلوچستان میں حالات ہم نے خراب نہیں کیے
اکبر بگٹی کو ہم نے نہیں مارا کیپٹن حماد ہم نے نہیں چھڑایا
قبائلی علاقوں میں مدرسے ہم نے نہیں کھولے
نجی لشکر ، ملیشیاز ، گڈ طالبان ہم نے نہیں بنائے
امریکہ سے ڈالر لیکر افغانستان میں جنگ ہم نے نہیں لڑی
ستر فیصد بجٹ ہم نے نہیں کھایا
دو سو ارب ڈالرز کی بزنس ایمپائر ہم نے نہیں کھڑی کی
تحریک انصاف دو سال بعد احتجاج کررہی ہے۔ دو سال فوج کے لیے کھلا میدان تھا۔ چند مزید گرفتاریاں کچھ مزید مقدمات ایک اور کریک ڈاون صرف فوج کے لیے نفرت میں اضافہ کرے گا فوج کے مسائل میں سے ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
کچھ لوگوں کی حیرت ہی ختم نہیں ہوتی۔
“ یہ کیا پاگل ہوگئے ہیں ؟ یہ کیا گھبرا گئے ہیں ؟ یہ کیا خوفزدہ ہیں؟ “
جیسے سوالات شروع کردیتے ہیں فوج کچھ نیا نہیں کررہی۔ وہی کررہی ہے جو مریدکے میں کیا ، کشمیر میں کیا ، ڈی چوک میں کیا ، بلوچستان میں کیا ، سوات اور قبائلی علاقوں میں کیا ، مشرقی پاکستان میں کیا۔ اگر آپ حیرت زدہ ہیں تو منافق ہیں یا بیوقوف۔
Disgusting.
A peaceful protest is set to take place on the 27th. Yet the military plan to use it to make an example of anyone questioning their rule. They are planning a bloodbath.
I commend the brave souls who stand up for their country against this tyrannical regime.
Inshallah the rest of the world will speak up soon. I just pray it doesn’t take an atrocity to make them see how bad things are.
A very scary time to be a Pakistani.
کسی نے وردی نہیں پہنی ہوئی ہاتھ میں بندوقیں پکڑے غنڈوں بدمعاشوں کی طرح اغوا کاریاں کررہے ہیں کوئی آگے سے گولی مار دے گا تو پھر ٹاؤٹ کہینگے چار بہنوں کا اکلوتا بھائی مار دیا تحریک انصاف تشدد پسند جماعت ہے ۔۔ لعنت
مشورہ اچھا ہے۔ زرا سبھی لوگ اس پر اپنی رائے دیں۔ کیوں کے کچھ لوگوں نے اسے احتجاج فیل کرنے کی باریک کاروائی بھی قرار دے دینا ہے۔ اس لئے وہ بھی زرا اپنی رائے دے دیں۔
ایک دفعہ لانگ مارچ شروع ہو جائے تو لمبا کرنا آپکے لئے بھی مشکل ہوتا ہے۔ کہنا آسان ہے لیکن کھانا۔ باتھ روم دوسرے مسائل معاملات کو مشکل بناتے ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے یہ آپکے لئے زیادہ آسان اور حکومت کے لئے زیادہ مشکل ہو گی۔ شروع ہوگیا تو پھر حکومت اور آپ برابر۔ بلکہ حکومت نے کون سے پیسے پلے سے لگانے ہیں۔ وہ کئی دن لگا سکتے ہے۔
آج کا موازنہ چھبیس نومبر 2024 سے کریں۔ پھر 8 فروری 2024 سے کریں۔ پھر 9 مئی 2023 سے کریں۔ پھر 10 اپریل 2022 سے کریں۔ ہر گزرتا دن فوج کے لیے بدترین ثابت ہورہا ہے۔ فارمولہ اور مسالا دونوں یکساں ہیں۔ نتائج بھی اسی سمت میں جائیں گے۔ ہر گزرتا دن بدتر۔
I have never heard of a government prepping like this for a “mass casualty incident” against its own citizens. No doubt it has happened before, but this is incredible.
Pakistan has told Islamabad hospitals to cancel elective surgeries and prepare bed space because a non-violent march is planned for 9/27.
اگر سیاسی حکمت عملی کے تحت لانگ مارچ کی تاریخ ہفتہ یا دو ہفتے آگے کردی جائے تو فوج پر ہزاروں اہلکار اسلام آباد رکھنے ، چھٹیاں بڑھانے ، کنٹینر کھڑے رکھنے کی مصیبت بڑھے گی۔ آپ لڑائی میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تھکا سکتے ہیں۔ تھکا دیں۔
آج محسن نقوی کہہ رہا تھا کہ:
“خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے یا وزراء فوج کے جنازوں میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔”
محسن نقوی بتائے بلوچستان میں ایک ٹرک میں 18 FC اہلکار جانوروں کی طرح ذبح کر دئیے گئے پھر انکی لاشوں کو جلا دیا گیا ۔ کیا ان اہلکاروں کی نماز جنازہ میں آرمی چیف نے شرکت کی ؟
کیا نماز جنازہ صرف کیپٹن لیول تک کی ہوتی ہے، باقی اہلکار خاموشی سے دس گنا دیے جاتے ہیں۔ بلکہ کیپٹین کے رینک سے نیچے اہلکاروں کی تو خبر بھی ٹی وی پر نہیں چلتی ۔
جب فوج کا سربراہ خود نہ اپنے فوجیوں کی جان کی حفاظت یقینی بناتا ہے، نہ انکے نماز جنازہ میں شرکت کرتاہے ۔ جسکا جو کام ہے وہ ، وہ نہیں کرتا تو پھر سویلنز کو کس بات کا طعنہ دیتا ہے ؟ اپنے لیے اور جنرل رانی کے لیے 32 ارب کے لگژری جہاز۔ اپنے لیے اور مریم نواز کے لیےبلٹ پروف/آرمرڈ ورژن گاڑیاں خریدی جاتی ہیں لیکن بلوچستان جیسے علاقے میں فوجی اہلکاروں کو ایسی کھٹارا گاڑیوں پر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے ۔
تب عاصم منیر اور محسن نقوی کو یہ یاد نہیں رہتا کہ یہ فوجی اہلکار مارے جائیں گے۔ انکی نماز جنازہ پڑھنے سے پہلے انھیں محفوظ بنایا جائے جیسے اسلام آباد کو مارچ سے پہلے محفوظ بنایا جا رہا ہے؟!