مریم نواز اینڈ سہیل ظفر چٹھہ کی سی سی ڈی نے سرگودھا واقعہ کا ملزم مبینہ مقابلے میں قتل کر دیا۔
کوئی تفتیش ہوتی ہے،کوئی عدالت ہوتی ہے، گواہ ہوتے ہیں، ڈین این اے اور دیگر شواہد پیش کیے جاتے ہیں۔
یہ سب نہ ہوں تو پھر ملزم کی ماں کو یقین نہیں آتا اور کسی بھی باشعور قانون پسند شہری کو نہیں آنا چاہیے۔
ملزم کی ماں نے کہا کہ جس طرح معصوم منتہا کے ساتھ، اُس کے ماں کے ساتھ ظُلم ہوا، میرے بیٹے اور میرے ساتھ بھی ظُلم کیا کیا۔
مقامی لوگوں نے ملزم کی میت دفنانے کی اجازت نہ دی اور قریبی دیہاتیوں نے احتجاج کیا۔
اگر عدالتی کارروائی کے نتیجے میں پھانسی دی گئی ہوتی تو کیا ایسا ہوتا؟
قصور کی زینب کے کیس میں تیز تر (سپیڈی ٹراٹل) طریقے سے مقدمہ چلا کر ملزم کو مجرم ثابت کر کے پھانسی دی جا سکتی تھی تو آج برسوں بعد ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
پنڈی اسلام آباد انٹری پر بدترین ٹریفک المیہ جنم لے چکا ہے۔ہزاروں لوگ گاڑیوں میں پھنس گئے ہیں۔بچے، عورتیں بزرگ بھوکے پیاسے بلک رہے ہیں۔
ظل الہی شہباز شریف @CMShehbaz اور سیکورٹی زار @MohsinnaqviC42 کو پرواہ ہے کچھ؟اسلام آباد پولیس شہر کو بند & لوگوں کو گاڑیوں میں قید کر کے غائب ہے
@SaboohSyed چیف میٹروپولیٹن افیسر کا چارج گریڈ 20 کا ہے 18 گریڈ کے افیسر کے اندر ایسی کون سی خصوصیت ہے کہ اس کو گریڈ بھی اس کا چارج دے دیا گیا ہے_خصوصیت شاید صرف یہ ہے کہ وہ ایک تگڑے وفاقی وزیر کی قریبی رشتہ دار ہیں
چھ برس سے بقایا جات کے لیے عدالتوں میں پھرنے والے محکمہ اوقاف کے حافظ عبیداللہ کو کینسر تشخیص
محکمہ اوقاف کے ملازم حافظ عبیداللہ سنہ 2015 میں ریٹائر ہوئے مگر محکمے نے ان سے کہا کہ آپ 2015 میں ریٹائر نہیں ہوئے بلکہ 2020 میں ریٹائر ہوں گے کیونکہ ابھی آپ کی عمر 55 سال ہے، لہذا اپنی سروس جاری رکھیں۔
چنانچہ انہوں نے جنوری 2015 سے دسمبر 2020 تک اپنی سروس جاری رکھی۔ اس دوران کیس چلتا رہا اور AGPR (اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریوینیوز) نے ان کی تنخواہ روک دی۔ جب تنخواہ رک گئی تو وہ ہائیکورٹ چلے گئے۔ اور اصل تنازع سروس بُک کے پہلے صفحے کا پھٹ جانا تھا اور چونکہ سروس بک AGPR کے پاس ہوتی ہے، اس لیے ہائیکورٹ نے اے جی پی آر کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ آپ 2015 میں ہی ریٹائر ہو چکے تھے۔
عدالت نے مزید کہا کہ محکمہ اوقاف، جس کا انچارج ڈپٹی کمشنر ہے، ان کا موقف درست نہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ آپ 2015 سے اپنی پنشن وصول کریں اور جو پانچ سال آپ نے کام کیا ہے، اس کی ریکوری کے لیے سول کورٹ سے رجوع کریں۔ اس کے بعد حافظ عبیداللہ نے سول سوٹ فائل کیا، جس پر ٹرائل ہوا۔
محکمہ اوقاف نے اس کیس میں دفاع پیش کیا لیکن فیصلہ ریٹائرڈ ملازم کے حق میں ہوا۔
عدالت نے حکم دیا کہ لیبر کی کم از کم اجرت (Minimum Wage) کے مطابق ان پانچ سالوں کی تنخواہ، جو کہ تقریباً 16 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے، ادا کی جائے۔
محکمہ اوقاف نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جو کہ خارج (Dismiss) کر دی گئی۔
اس وقت محکمے کے پاس کوئی حکمِ امتناعی (Stay Order) نہیں اور کیس کی ایگزیکیوشن (تعمیل) کا معاملہ زیرِ التوا ہے۔ عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے پر مقامی عدالت نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی آخری سماعت پر جاری کیے۔
ریٹائرڈ حافظ عبید اللہ اس وقت بسترِ مرگ پر ہیں، انہیں کینسر تشخیص ہوا ہے۔ ان کی پانچ سال کی جائز مزدوری/تنخواہ انہیں تاحال نہیں ملی، حالانکہ اس کے بعد بھی اب چھ سال گزر چکے ہیں۔
یہ جی 15 کا نالہ ہے اپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ سیکٹورل ایریا کے نالوں کا یہ حال ہے تو دہی علاقوں کی کیا صورتحال ہوگی جو اس وقت گندگی اور غلاظت کا ڈھیر بن چکے ہیں اسلام اباد کے اکثر نالوں کی یہی صورتحال ہے
@CDAthecapital
اسلام آباد کی اتاترک ایونیو پر درختوں کی کٹائی فوری طور پر روکنے کا حکم
ہائیکورٹ کے جسٹس خادم سومرو کی عدالت نے حکمِ امتناع جاری کر دیا
اتاترک ایونیو کی رہائشی عائشہ مظفر کی جانب سے مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ نے کیس میں دلائل دیے۔
جسٹس خادم سومرو نے کہا ہے کہ جب شہر میں درخت کاٹنے پر پہلے ہی حکمِ امتناع جاری کیا جا چکا ہے تو پھر اس منصوبے پر کام کیوں شروع کیا گیا؟
The petitioner, through his counsel Mudassir Latif Abbasi Advocate, maintained that development had raised serious concerns among environmental advocates and citizens regarding adherence to judicial orders and the protection of Islamabad.
https://t.co/cfR9MYWpHJ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سی ڈی اے نے درختوں کا جو دوبارہ قتل عام شروع کیا ہے اس پر ہائی کورٹ میں نئے چیرمین سہیل اشرف کے خلاف توہین عدالت کی پیٹشن فائل کر دی گئی۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے مبینہ توہین عدالت کا مرتکب تو محمد علی رندھاوا ہوا ہے جس نے پوسٹ سے ہٹائے جانے سے پہلے اتاترک ایونیو منصوبے کی منظوری دی تھی جہاں اب درختوں کا قتل عام جاری ہے،اس کا نام کیوں اس پیٹشن سے مسنگ ہے؟
وکیل مدثر صاحب کا تفصیلی لیکن اہم جواب سنیں۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/GorzSOH5hn via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@PalwashaKhan18@ShaziaAttaMarri@HinaRKhar@NasrullahMalik1@AyazSadiq122
نئے چیرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کو چارج سنبھالنے سے پہلے ہی توہین عدالت کا سامنا۔اگرچہ میرے خیال میں یہ توہین عدالت کیس محمد علی رندھاوا پر بنتا ہے لیکن قانونی زبانی میں شاید ادارے/ عہدے کے خلاف پیٹنش ہوتی ہے۔اس لیے نئے چیرمین سہیل اشرف کو پارٹی بنایا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ
نئے تعینات ہونے والے چیئرمین سی ڈی اے لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف کے خلاف پہلے روز ہی توہین عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر
درخواست سینٹر فار جسٹس کی جانب سے دائر کی گئی ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 جنوری 2026 کو ایک عبوری حکم جاری کیا تھا جس کے تحت شہر کے ماحولیاتی طور پر حساس زونز، بالخصوص شکر پڑیاں میں درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کی گئی تھی، درخواست
سی ڈی اے نے اس عدالتی حکم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ڈی چوک سے ایوب چوک تک اتاترک ایونیو کی توسیع کا منصوبہ شروع کر دیا ہے، درخواست
منصوبہ کے لیے بڑی تعداد میں پرانے اور سایہ دار درختوں کو کاٹا اور اکھاڑا جا رہا ہے،درخواست
سی ڈی اے کا یہ موقف کہ وہ درختوں کو کاٹنے کے بجائے 'ٹرانسپلانٹ کر رہے ہیں محض ایک بہانہ ہے، درخواست
شہری علاقوں میں بڑے اور پرانے درختوں کی منتقلی کے دوران ان کے خشک ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، درخواست
عدالت چیئرمین سی ڈی اے اور دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرے، درخواست میں استدعا
👇
چیئرمین سی ڈی اے کو ذاتی طور پر طلب کر کے حکمِ عدولی کی وضاحت لی جائے، استدعا
اتاترک ایونیو کی توسیع کے منصوبے پر جاری تمام کام، بشمول درختوں کو اکھاڑنا، فوری طور پر روکا جائے، استدعا
ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کر کے ان پر قانون کے مطابق جرمانے عائد کیے جائیں ، درخواست میں استدعا
@RandhawaAli@SohailAshrafGor@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@CDAthecapital@betterpakistan@DrMusadikMalik@PalwashaKhan18@sherryrehman@ShaziaAttaMarri@HinaRKhar@ninoqazi@PakEPAIslamabad@sharmilafaruqi
ڈھائی کروڑ بچہ سکول سے باہر ہے اور آپ نے کبھی بھول کر ذکر نہیں کیا کہ اتنی بڑی تعداد ان پڑھ جوان ہورہی ہے اور وہ کل کو بڑے ہو کر کیا کریں گے، ڈاکے ماریں گے یا دہشت گردوں کے ہاتھوں استمعال ہوں گے۔۔ کیونکہ نہ تعلیم ہوگی نہ کوئی ہنر۔۔
کبھی نہیں سنا آپ نے کچھ اس پر بولا ہو۔ وہ ملک کیسے خوشحال ہوسکتا ہے جہاں ڈھائی کروڑ بچہ سکول ہی نہ جاتا ہو۔
الٹا اللے تللے اور یاروں دوستوں کو مشیر وزیر اور عہدے بانٹ رہے ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کریں۔۔ اب جنگ کا ذکر اگلے تین سال چلے گا ورنہ ہم تو بس دنیا کو قرض دینے والا ملک بننا ہی چاہتے تھے۔
جنگ سے پہلے بھی آپ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارت سے ادھار پر لیے گئے اربوں ڈالرز رول اور کرار رہے تھے، اب بھی وہی کرا رہے ہیں۔۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دوسرے ٹیکسوں میں ہونے والے مسلسل اضافوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
ایک ہی فیصلے سے اتنا بڑا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے کہ لوگوں کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے فیصلے معاشرے میں شدید ہیجان اور بے چینی کو جنم دے سکتے ہیں۔
پاکستان میں مڈل کلاس رفتہ رفتہ ختم ہو کر نچلے طبقے میں ضم ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کا یہ طوفان جو تباہی لانے والا ہے، اس کے اثرات کسی ایک طبقے یا ایک سمت تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ ہر طرف زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اپنے اردگرد جو مناظر دکھائی دے رہے ہیں، وہ دل کو چیر دینے والے ہیں۔
لوگوں کے چہروں پر پھیلی بے بسی، گھروں کے اندر بڑھتی خاموشی، اور روزمرہ زندگی کی اذیت اب محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ایک اجتماعی کرب بن چکی ہے۔ کہنے کو واقعی الفاظ نہیں بچے، صرف ایک گہری اداسی، مسلسل دکھ، اور ناقابل بیان تکلیف باقی رہ گئی ہے۔
ڈی سی صاحب تین ماہ پہلے درخواست کی تھی یہ نالہ غلاظت کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اب تو اگے مون سون کی بارشیں بھی انے لگی ہیں برائے مہربانی اس پر توجہ دیں @dcislamabad@CDAthecapital
چیئرمین سی ڈی اے صاحب گزارش ہے کہ نئے سال کے اغاز میں نالوں پر خصوصی توجہ دیں ذرا سی کوشش اور توجہ سے ان نالوں کو انتہائی خوبصورت بنایا جا سکتا ہے اور رولر ایریا میں جہاں پر صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے ان پر بھی توجہ دیں یہ نالہ 26 نمبر اور جی 15 کے درمیان ہے @CDAthecapital