احکامات خداوندی
Do’s and Don’ts
*لا تكفرون:* مت کفر کرو
*لا تسرفوا:* مت اسراف کرو
*لا تحزنوا:* مت غم کرو
*لا تتمنوا:* مت تمنا کرو
*لا تعتدوا:* حد سے آگے مت نکلو
*لا تھنوا:* تم نہ سستی کرو
*لا تنھر:* مت ڈانٹ ڈپٹ کرو
*لا تسبوا:* مت گالی دو
*لا تقھر:* سختی نہ کیا کر
*لا تخشوا الناس:* مت ڈرو لوگوں سے
*لا تقربوا الفواحش:* مت قریب ہو برائیوں کے
*لا تبتئس:* مت مایوس ہو
*لا تخف:* مت خوف کھا
*لا یسخر:* مت مذاق کر
*لا تغرنکم الحیاۃ الدنیا:* تمہیں زندگانی دنیا دھوکے میں نہ ڈالے
*لا تزکوا أنفسکم:* مت پاکیزہ جانو اپنے نفسوں کو
*لا یسرقن:* مت چوری کرو عورتوں
*لا یغتب:* مت غیبت کرو
*لا تفرقوا:* مت تفرقہ ڈالو
*لا یخافون لومة لايم:* اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواه بھی نہ کریں گے
*لا تقل لهما اف:* مت ان دونوں (والدین) کو اُف تک کہو
*لا تقتلوا النفس:* مت قتل کرو کسی جان کو
*لا تفسدوا فی الأرض:* مت فساد کرو زمین میں
*لا تأکلوا الربا:* مت سود کھاؤ
*لا ینقضون المیثاق:* مت پختہ عہدوں کو توڑو
جامع ترمذی؛ حدیث نمبر: 149
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی (جب سورج ڈھل گیا اور) سایہ جوتے کے تسمہ کے برا��ر ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا، پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کرلیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق غائب ہوگئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہوگئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوگیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی (جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہوگیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محم��! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۔
وضاحت:: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دن جبرائیل (علیہ السلام) نے ساری نمازیں اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ ہر نماز کا اول اور آخر وقت معلوم ہوجائے۔