ایک نہتی بلوچ لڑکی نے پوری ریاست کو بے بس کر دیا ۔ جھوٹ اور مکّاری سے بننے والی پاکستانی ریاست ماہ رَنگ سے ہار گئی ۔ عمر بھر قید کی سزا ماہ رنگ کی جیت ہے ۔
آئینی ترامیم کا شاخسانہ
عدلیہ کے مضحکہ خیز فیصلے
جرم کے ثابت نہ ہونے کے باوجود دس دس سال کی سزائیں دی جا سکتی ہیں تو پھر مقدمات شواہد سے نہیں، احکامات سے چل رہے ہیں۔
#ShameOnJudges
“عمران خان سے وفا کے جرم” میں آج لاہور کے آٹھویں جھوٹے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید صاحب کو مزید 23-23 سال کی سزائیں سنا دی گئیں۔
اب تک دی گئی جھوٹی سزائیں:
ڈاکٹر یاسمین راشد: 286 سال
سینیٹر اعجاز چوہدری: 286 سال
عمر سرفراز چیمہ: 286 سال
میاں محمود الرشید: 274 سال
انکے علاوہ بھی 4 اور ورکرز کو بھی آج سزائیں سنائی گئیں جو وقوعہ کے دن تھے جیل میں تھے۔
اس کیس میں مدعی نے خود بتایا کہ نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی یہ چاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں۔
#PakistanUnderFascism
سی سی ڈی نے ایک خاندان کے 3 بیٹے اور 2 داماد سیلف ڈیفنس میں پار لگائے۔۔مقتولین کے والدین در در زلیل ہوئے کہیں شنوائی نہ ہوئی ۔۔۔ کیونکہ ان کے پاس صرف کسی اور ملک کی نےشنیلٹی نہیں تھی
پٹواریوں کے " کھرب پتی " دادا جان میاں شریف کے نیشنلائزیشن سے قبل ٹوٹل اثاثے 10 لاکھ روپے کے تھے جبکہ اس زمانے میں داؤد گروپ کے اثاثے 550 ملین سے زیادہ کے تھے ! شہزاد اقبال ۔۔۔
ویسے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں 96 میں اس ارب پتہ خاندان 477 روپے کا ٹیکس دیا تھا اور وہ بھی یکمشت ۔۔
شرمناک سرینڈر کرتے پاکستانی فوجیوں کے پاس اس قدر بھاری مقدار میں اسلحہ موجود تھا کہ اگر وہ چاہتے تو کئی ماہ تک جنگ لڑ سکتے تھے
مگر بدکار فوجی اپنی عیاشیوں اور بدفعلیوں کے سبب لڑنا بھول چکے تھے، انہیں جان بچا کر پاکستان آنا تھا جہاں کے وہ نواب تھے اور پاکستانی عوام ان کی رعایا ۔
شزہ فاطمہ خوابہ فیڈرل منسٹر IT اینڈ ٹیلی کام ہیں جو کہ خواجہ آصف کی بتیجھی یا بھانجی ہیں
یہ ایک سفارشی عہدے پر بیٹھی ہوئی ہیں اس خاتون نے ٹیلی کام کمپنیوں سے نہ جانے کتنے پیسے یا مراعات لے کر ایک بیہودہ بل اسمبلی میں پیش کروایا جس بل کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی شہری کو نوٹس بیجھ سکتی ہیں کہ آپ کے گھر ٹاور لگایا جاۓ گا اس لیے آپ کو اپنا گھر خالی کرنا ہو گا نہ کرنے کی صورت میں پانچ کروڑ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے
فارم 47 کی قومی اسمبلی نے یہ بِل بغیر پڑھے منظور کر لیا لیکن جب یہ بل سینٹ میں گیا تو اس بیہودہ بل کے اندر موجود بیہودگی پر سب سے پہلے سینٹر علی ظفر نے سوال اٹھایا پھر سینٹر پلوشہ خان نے بھی اس گھٹیا بل کے خلاف اپنی آواز اٹھائی جس کے بعد یہ بل سینٹ میں آ کر رک گیا
لیکن اس بل نے شزہ فاطمہ جیسے سفارشی عہدوں پر بیٹھے نااہل لوگ اور فارم 47 کی نیشنل اسمبلی کو ایک بار پھر ایکسپوز کیا ہے
یہ سلمان فیاض غنی لاہور کور کمانڈر تھے ان کی وردی اتنی مقدس تھی کہ اس کو لہرانے والے کو دس سال قید کی سزا ہو گئی لیکن ان کی اپنی قیمت اتنی تھوڑی ہے کہ کسی کو خبر نہیں یہ کدھر کہاں کس حال میں ہیں
اس کی جان کی قیمت اتنی سستی ہے کہ جب نو مئی کو لوگ کورکمانڈر کے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے یہ مزید سیکورٹی کا مطالبہ کرتا رہا لیکن جو سیکورٹی اس کی حفاظت پر مامور تھی اسے بھی ہٹا دیا گیا تھا