ملک خضر حیات ٹوانہ جو سر سکندر حیات کی1942 میں اچانک وفات کے بعد متحدہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے ،تادم مرگ تقسیم ہند کے مخالف رہے۔قیام پاکستان کی مخالفت کے باعث مسلم لیگ کے جلسوں میں خضر حیات ٹوانہ کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی اورانہیں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کہا جاتا۔ خشونت سنگھ سمیت کئی مصنفین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک جلسے کے دوران حسبِ معمول خضر حیات کے خلاف نعرے لگ رہے تھے ’’تازہ خبر،مرگیا خضر‘‘۔اس دوران معلوم ہوا کہ یونینسٹ حکمران خضر حیات ٹوانہ نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے اور ہوائوں کا رُخ دیکھتے ہوئے قیام پاکستان کی مخالفت ترک کردی ہے تو نعروں کا انداز بدل گیا او ر وہی جوشیلے کارکن جو خضر حیات ٹوانہ کے مرنے کی خبر دے رہے تھے، باآوازبلند نعرے لگوانے لگے’’تازہ خبر آئی ہے ،خضر ہمارا بھائی ہے‘‘۔یہ بھولی بسری داستان اور پرانی کہانی یوں یاد آئی کہ عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کی طرف سے دائر کی گئی توہین عدالت کی پٹیشن میں محسن نقوی کو فریق ہی نہیں بنایا گیا حالانکہ بطور وزیر داخلہ اگر عدالتی احکامات نہ ماننے کی ذمہ داری انہی پہ عائد ہوتی ہے ۔تو اب ��حریک انصاف کے کارکنوں کا نیا نعرہ یہ ہونا چاہئے “تازہ خبر آئی ہے ،محسن نقوی ہمارا بھائی ہے”
اور ناظرین فوت شدہ والد کے انگوٹھے لگوانے والا یہ حرامزادہ گزشتہ رات لڈیاں ڈال رہا تھا کہ پنڈی سلاماباد کی عوام باہر نکل آئی پھول نچھاور ہورہے ہیں وغیرہ وغیرہ اور آج یہی شخص قوم کو کھسی قرار دے ریا ہے
“مدر فکرو “ اک تھاں تے کھلو تے جاؤ
ہاہابھائ معاف کردے یار ، کل رات بارہ بجے تک تم پیشگوئیاں کررہے تھے کہ نواز شریف زرداری سب ملک سے فرار ہونے والے ہیں اور خان واپس آرہا ہے اور اب یہ زہر پھیلانا۔۔۔ بے غیرت اور بے شرم بھگوڑے کسی ایک بات پر تو قائم رہو
کوئ بھی ہو چاہے حسن ایوب، منیب فاروق ، نصر اللہ ملک یا ان جیسے دوسرے ان میں کم ازکم اتنی غیرت تو باقی ہے کہ بات ایک ہی کرتے ہیں چاہے ہوا کا رُخ کوئ بھی ہو ، دوسروں کی طرح نہیں کہ جو صبح چار بجے تک ڈیل کو حکومت کی شکست بتاتے رہے اور پھر جیسے ہی خبر آئ کے جیل واپس بھیج دیا ہے تو کہتے رہے دیکھو وہ ڈٹا ہوا ہے کبھی ڈیل نہیں کرے گا 😂
ایک نشئی قبرستان میں اپنی ڈوز مکمل کررہا تھا کہ جھاڑیوں سے سرسراہٹ کی آواز آئی پیچھے مُڑ کر دیکھا تو پولس سر پر پہنچ ائی تھی جس پر نشئی ایک قبر پر کھڑا ہوکر دعا مانگنے کی ایگٹنگ کرنے لگا جس پر کاکا شپاہی نے نشئی سے پوچھا کہ کیا کررہے ہو اس پر نشئی نے کہا اپنے والد کی قبر پر دعا مانگ رہا ہوں جس پر پولس والے ایک ریپٹ مارتے ہوئے کہا “ یہ تو کسی بچے کی قبر ہے “ اس پر نشئی شرمندہ ہونے بجائے کہنے لگا “ میرا ابا چھوٹا جیا ہی تھا تو مر گیا تھا “
ناظرین گزشتہ رات قوم یوتھ جس گاڑی پر پھول نچھاور کرتی رہی خان اس گاڑی میں تھا ہی نہیں
یار میں اس انسان کا فین ہوں
یہ جانتا ہے کہ اس کو سننے والے کیا سننا چاہتے ہیں
اس نے چماٹیں رسید کروائیں شکست فاش کروایا
اور خبر جھوٹی نکلنے پر سوکھی لینڈی شرمندہ نہیں
بلکہ کہانی بدل دی۔
بہنوں کے مطابق بھائی کو یہ یاد نہیں کہ مہینہ کونسا ہے جبکہ شہباز گِل مطابق اس نے سب سے پہلے باقی قیدیوں کو شفا منتقل کرنے کا حکم دیا
بہنوں کے مطابق بھائی خوشی خوشی ہسپتال روانہ ہوا اور عجلت اتنی تھی کہ جُتی پہننا بھول گیا جبکہ ذیشان موری مطابق فوج عدلیہ حکومت اور پنکی پیرنی نے پاؤں پکڑ کر ہسپتال پہنچایا
بہنوں مطابق بھائی بالکل صحت مند اور تندرست ہے جبکہ وجاہت خان مطابق وہ فوت ہو چکا ہے
عمران خان ایک ایسی پراڈکٹ بن چکا ہے جسے ویچ کر یوٹیومر اپنا دھندہ چلا رہے ہیں اور ان یوٹیومروں کی ایسی حمایت سے عمران خان کا قیامت تک باہر انا ممکن دکھائی نہیں دیتا
عمران خان کا بلیڈ پریشر چیک کرنے کے لیے خون تو اِن کا نکالا گیا مگر لیب میں اُس شخص کا خون بھیجا گیا جس کا بلیڈ پریشر 120 رہتا ہے تاکہ رپورٹ صحیح آئے اور خان کو واپس پھر جیل بھیج دیا جائے @ARYSabirShakir
اگر کوئی ہر دفعہ پروپیگنڈے کا شکار ہونے کی بجائے ڈرامے کی حالیہ قسط سے سیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہ ہے
۱- ضروری نہیں کہ ہر عدالتی فیصلہ کسی ڈیل کا ہی نتیجہ ہوتا ہے بعض اوقات اسٹبلشمنٹ کیلئے بھی سرپرائز آتے ہیں، (ہم نے یہ ��رض کیا ہوا ہے کہ پاکستان میں کوئی پتا بھی اسٹبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا، بحیثیت رپورٹر میں نے دیکھا کہ جب مختلف قسم کی پیش رفت کسی سوچے سمجھے منصوبے کی بجائے حادثاتی طور پر ہوئیں لیکن میڈیا اور عوام الناس میں تشریح اسکے برعکس ہوئی)
۲- ضروری نہیں کہ ہر فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے دیا جاتا ہے (عمران خان بارے ڈاکٹروں کی رپورٹ میں کوئی ایسی ہنگامی صورتحال بیان نہیں کی گئی تھی کہ جو اسکی فوری ہسپتال منتقلی کا تقاضا کرتی) عدالت سے پی ٹی آئی نے جو مانگا اس نے سب کچھ دے دیا
۳- آئینی عدالت بننے کے بعد سپریم کورٹ کو وہ اہمیت نہیں مل رہی تھی جسطرح وہ پہلے ہر وقت خبروں میں ہوتی تھی، بہت سی شخصیات کو شکوہ بھی ہے کہ اب پہلے جیسی توجہ نہیں دی جاتی
۴- اگر اسٹبشلمنٹ کی موجودہ حکومت سے کوئی شکوہ و شکایت بھی ہو تو متبادل پی ٹی آئی نہیں بن سکتی، اور مارشل لاء کیلئے ماحول ساز��ار نہیں
۵۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈیل وہاں ہوتی ہے جہاں ایک دوسرے پر اعتماد کی گنجائش ہوتی ہے اور اکٹھے کام کرنے کی نیت اور صلاحیت موجود ہو، پی ٹی آئی اور موجودہ اسٹبلشمنٹ اکٹھے نہیں چل سکتے
۶۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو عمران خان کی گارنٹی دے سکتا ہے (پی ٹی آئی والے اسے تعریف سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں) ایسی صورت میں تو آپ اکٹھے دکان نہیں چلا سکتے حکومت چلانا تو دور کی بات ہے، اور یہ معاملہ صرف اسٹبلشمنٹ کیساتھ نہیں عمران خان پر کسی سیاسی جماعت کو بھی بھروسہ نہیں
نوٹ: مندرجہ بالا نقاط میں کسی ایک فریق کو غلط یا درست قرار دینا مقصود نہیں بلکہ حالات کو ایسا س��جھنے کی ایک کوشش ہے جیسے وہ ہیں اگر آپ نہیں سمجھتے تو یوٹیوبرز آپکو مزید بیوقوف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
آپ نے دیکھا ہوگا یہ لوگ ساری رات کسی اور کے فائر ورکس کی ویڈیوز، کسی دوسرے کے پروٹوکولز کی ویڈیوز ، اے آئ سے بنی سڑکوں پر پڑے پھولوں کی ویڈیوز ، پرانے کسی رش کی ویڈیوز وغیرہ ڈال کر جھوٹا تاثر دیتے رہے کہ یہ سب خان کے لیے ہورہا ہے حالانکہ کسی کو نکیں پتہ تھا کہ خان کہاں ہے ۔۔ بس ایسے ہی یہ جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ یہ 2024 کا الیکش�� جیتے تھے ۔
یہ گینگ اپ ہوکر جھوٹ کی رٹ لگاتے ہیں اور یہ ہی ان کا طریقہ واردات ہے ۔۔۔
عادل راجہ شہباز گِل معید پیرزادہ وجاہت خان کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا بارلے یوتھیے
صدیق جان حسنین ر��یق ثمینہ سٹرابری اطہر کازبی کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا اندرون یوتھیے
عمران ہماری یوٹیومری یدویہد سے ہسپتال پہنچا ذیشان موری ٹائپ یوتھیے
عمران خان ہماری وجہ سے ہسپتال پہنچا ٹوئٹری یوتھیے
وکلاء کی ٹیم وجہ سے خان ہسپتال منتقل ہوا وکلاتی یوتھیے
��لفی بخاری کے وچولا پن کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا فیض حمیدی یوتھیے
سہیل اپھریدی کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا پشوری یوتھیے
بہنوں کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا اندرون خانہ یوتھیے
پنکی پیرنی کے پرویز مسیح کے ٹونے سے عمران ہسپتال پہنچا پاکپتنی لطیفی یوتھیے
اور ناظرین یہ بیانات سنتے ہی جسٹس شاہد وحید ہنستے ہنستے اپنی کرسی سے پشاں ڈگ پئے
جیسے مقدس فاروق اعوان جیسی منافق صحافن صحت پر گندی سیاست کر سکتی ہے جیسے مقدس کا پلید لیڈر گندی سیاست کر سکتا ہے ویسے ہی باقی سب بھی سیاست کر سکتے ہیں
باقی لوگوں نے بھی تمھیں اخلاقی چپیڑیں کروائی ہیں محسوس ضرور کرنا
نرگس اور دیدار نے پنجابی سٹیج ڈرامہ میں ڈانس کلچر کی ابتداء کی اور وہ نرگس جو تین پہیوں والے رکشہ پر بیٹھ کر تھیٹر تشریف لاتی تھی دیکھتے ہی دیکھتے عربوں میں کھیلنے لگ پڑی اور پھر سٹیج جیسی بہترین تفریح کنجر خانہ کا منظر پیش کرنے لگی اور تماش بینی نے اس ثقافت کو گٹر بنا دیا اور سہیل احمد خالد عباس ڈار جیسے لوگ سٹیج سے کوچ کر گئے اور پاکستانی صحافت کے ساتھ بھی یہ�� سلوک ہوا ہے جب عمران ریاض جیسے لوگ اس پیشہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے امپورٹڈ گاڑیوں محلات فارم ہاؤس بنائے اور پاکستانی صحافت کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو پنجاب کی ثقافت کے ساتھ ہوا ہے