#افغانستان کے صوبہ قندھار، سپین جامی کی رہائشی بختوری بہن کے شوہر کے دونوں گردے فیل ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت کوئٹہ کڈنی سینٹر ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
بختوری بہن اپنے شوہر کے علاج کے لیے مالی مدد اور تعاون کی اپیل کرتی ہیں۔
آئیں، اپنی استطاعت کے مطابق ان کے علاج میں حصہ ڈالیں اور اس مشکل وقت میں ان کا سہارا بنیں۔
ایزی پیسہ: 03358253887
اللہ پاک آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
جب محدث و حافظ احمد بن منصور شیرازی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا تو ایک شخص اُن کے بیٹے کے پاس آیا اور کہا:
میں نے آپ کے والد کو خواب میں دیکھا۔ وہ جامعِ شیراز کے محراب میں کھڑے تھے۔ اُن کے جسم پر ایک خوبصورت خلعت تھا اور سر پر جواہرات سے جڑا ہوا تاج رکھا تھا۔
میں نے پوچھا:
اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟
انہوں نے جواب دیا:
اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا، مجھے عزت و اکرام عطا فرمایا اور جنت میں داخل فرما دیا۔
میں نے پوچھا:
یہ مقام آپ کو کس عمل کے سبب ملا؟
انہوں نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے کی وجہ سے۔
📚 حوالہ: سیر أعلام النبلاء
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں، تو انہیں اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔۔القران
انسان کی زبان اور خاندان ہی بتا دیتا ہے کہ وہ کس بد نسل کی پیدائش سے تعلق رکھتا ہے میری پاکستان مسلم لیگ ن والوں سے گزارش ہے اس کراے کے وکیل کو جوابی وار دیا جاۓ اور داؤد صاحب اگر میاں نواز شریف نے اپ کو عہدہ نہیں دیا تو اب اپ اس نیچ حرکت تک اے گے ویسے آج اپ نے اپنی گندی بتا دی
میکس بلومینٹل 🚨"اسرائیلی انٹیلی جنس نے غزہ میں چھوٹی بچیوں کے فون ہیک کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے والد کب گھر واپس آئیں گے۔ پھر وہ ان کے گھروں پر فضائی حملے کا حکم دیتے اور بچیوں کو زندہ جلتے ہوئے سنتے۔"اگر یہ بات آپ کو بیمار نہیں کرتی تو پھر دنیا کی کوئی چیز آپ کو متاثر نہیں کر سکتی۔انہوں نے قتل کو تفریح بنا دیا ہے۔یہ ہے وہ چیز جو ایک شیطانی معاشرہ پیدا کرتا ہے
کچھ دوستوں نے کہا کہ میں نے میاں داؤد کی ویڈیو کے بارے میں کیوں نہیں لکھا تو انکے لیے عرض ہے کہ
میاں داؤد صاحب اگر میاں نواز شریف صاحب کو لیڈر مانتے ہیں تو انھیں لیڈر کے داماد یعنی بہنوئی کے بارے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیئے تھے کیونکہ لیڈر باپ کیطرح ہوتا ہے
سیاسی +
تین سال سے ایک بات کہہ رہا ہوں اور آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں
ہی ٹی آئی والے یاد رکھیں کوئی فیلڈ مارشل کوئی جرنیل کوئی جج وزیر کوئی تمہیں رعائت نہیں دے سکتا جب تک عمران نیازی اور ساری پارٹی سرعام کھلے دل سے مسجد نبوی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وٰآلہ وَسَلَّم کی توہین پر معافی 1/2
ایک شخص اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔
اس کے پاس چار گواہ نہیں تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘
وہ شخص حیران ہوا اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا وہ چار گواہ تلاش کرنے چلا جائے؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا:
’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘
یہ شخص حضرت ہلال بن اُمیہؓ تھے، اور انہوں نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا تھا۔
پھر ہلالؓ نے کہا:
’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اللہ ضرور ایسی وحی نازل فرمائے گا جو مجھے اس سزا سے بچا دے گی۔‘‘
چنانچہ حضرت جبرئیلؑ وحی لے کر آئے اور سورۂ نور کی آیات 6 تا 9 نازل ہوئیں۔
یہی وہ آیات ہیں جن میں لعان کا طریقہ بیان کیا گیا:
شوہر چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ وہ سچا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
اور بیوی کو بھی اپنا دفاع کرنے کا حق دیا گیا:
وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر شوہر سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔
ذرا رک کر اس واقعے کو دیکھیں۔
شوہر تھا، مگر اس کا دعویٰ خود بخود ثبوت نہیں بن گیا۔
غصہ ثبوت نہیں۔
شک ثبوت نہیں۔
بدگمانی ثبوت نہیں۔
اور محض الزام کسی عورت کو مجرم نہیں بنا دیتا۔
اسلام نے یہاں ایک انتہائی سخت راستہ رکھا۔
لعان۔
یعنی معاملہ لوگوں کی افواہوں کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فریقوں کو اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھانے کے مرحلے تک پہنچایا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘
پانچویں قسم کے وقت عورت کچھ دیر جھجکی۔
لوگوں نے اسے متنبہ کیا کہ یہ بہت سنگین قسم ہے۔
پھر اس نے اپنی قسم پوری کی۔
اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ صحیح بخاری میں اس جدائی کا واضح ذکر موجود ہے۔
یہاں اسلام کا ایک انتہائی گہرا اصول سامنے آتا ہے:
ازدواجی تعلق کسی انسان کو دوسرے کی عزت پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
اگر الزام ہے تو ثبوت چاہیے۔
اگر چار گواہ نہیں تو شوہر کے لیے بھی معاملہ محض دعوے پر ختم نہیں ہوتا۔
اور عورت کو بھی صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جاتا۔
آج کے زمانے میں اس سبق کی اہمیت شاید پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک جھوٹا میسج،
ایک ایڈٹ شدہ تصویر،
ایک بے بنیاد پوسٹ،
ایک افواہ،
اور کسی انسان کی برسوں کی عزت چند گھنٹوں میں تباہ ہو سکتی ہے۔
اس لیے کسی کی پاک دامنی، کردار یا عزت کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے رک جائیں۔
کیا آپ کے پاس حقیقت ہے، یا صرف گمان؟
کیونکہ دنیا کے سامنے انسان اپنی بات منوا سکتا ہے۔
اپنے خاندان کو دھوکا دے سکتا ہے۔
لوگوں کو قائل کر سکتا ہے۔
مگر اللہ کو نہیں۔
لعان کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے:
کسی انسان کی عزت کے بارے میں ایسا لفظ نہ کہو جس کا جواب تمہیں ایک دن اللہ کے سامنے دینا پڑے۔
ماخذ: سورۂ نور، 24:6–9؛ صحیح بخاری، 4747، 5313، 5314۔
इस्लाम को मिटाने वाले मिट गये इस्लाम से दुनिया शुरू हुई थी इस्लाम पर दुनिया खत्म हो जाएगी।
एक हिंदू युवक जिसने बाबरी मस्जिद को तोड़ा और बाद में दिल में खुदा की मोहब्बत पैदा हो गई मुसलमान हो गया अपना नाम मुहम्मद आमिर रख लिया और 100 मस्जिद बनाने का ऐलान कर दिया।
Being a Muslim has also become a major crime in India.
In Surat, Gujarat, more than 100 homes belonging to Muslims were demolished.
The court also reprimanded the authorities, but the cruel and authoritarian government did not seem to care.
HINDUTVA TERROR IN KOLKATA 🚨
136-year-old Ghouri Jama Masjid 🕌near airport bulldozed by RSS to build Ram Mandir 🛕Muslims were crying, begging but these saffron goons showed zero mercy and martyred the mosque 🇮🇳
پاکستانی نوجوان ویزا لینے کے لیے خود کو ہم جنس پرست پرست (Gay) شو کرتے ہیں..
پاکستانی نوجوان یورپ اور امریکہ کا ویزہ لینے کے لیے خود کو ہم جنس پرست گو Gay شو کرتے ہیں اور باقاعدہ طورGay گیم میرجز کرتے ہیں جس کے بعد ان کو ویزا مل جاتا ہے یہ افسوس کا مقام ہے لیکن ہمارے نوجوانوں کو اخر کار یہ کرنا ہی کیوں پڑ رہا ہے ظاہر ہے اس ملک میں نوجوانوں کے لیے کوئی کاروبار کے مواقع نہیں نوکریاں نہیں کوئی روشن مستقبل نہیں اور سب سے بڑی بات اب اس ملک میں کوئی محفوظ نہیں ریاست کا جس کو ریاست کا دل کرتا ہے گھر سے اٹھا لیتے ہیں اس پہ ظلم و جبر کرتے ہیں ہر سال سات سے اٹھ لاکھ پاکستانی ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جس میں پڑھے لکھے ڈاکٹرز انجینیئرز ارکیٹیکٹس پی ایچ ڈیز شامل ہوتے ہیں ہمارے لیے افسوس کا مقام تو ہے کیونکہ اس ملک میں کوئی جمہوری حکومت نہیں ایک نکمی کرپٹ حکومت کو لا کر ہمارے سر پر بٹھایا ہوا ہے
#اليوم_الوطني_السعودي_٩٦
#LGBT #Trump #saudiaarabia