تین سال سے ایک بات کہہ رہا ہوں اور آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں
ہی ٹی آئی وال�� یاد رکھیں کوئی فیلڈ مارشل کوئی جرنیل کوئی جج وزیر کوئی تمہیں رعائت نہیں دے سکتا جب تک عمران نیازی اور ساری پارٹی سرعام کھلے دل سے مسجد نبوی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وٰآلہ وَسَلَّم کی توہین پر معافی 1/2
ایک شخص اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔
اس کے پاس چار گواہ نہیں تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘
وہ شخص حیران ہوا اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا وہ چار گواہ تلاش کرنے چلا جائے؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا:
’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘
یہ شخص حضرت ہلال بن اُمیہؓ تھے، اور انہوں نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا تھا۔
پھر ہلالؓ نے کہا:
’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اللہ ضرور ایسی وحی نازل فرمائے گا جو مجھے اس سزا سے بچا دے گی۔‘‘
چنانچہ حضرت جبرئیلؑ وحی لے کر آئے اور سورۂ نور کی آیات 6 تا 9 نازل ہوئیں۔
یہی وہ آیات ہیں جن میں لعان کا طریقہ بیان کیا گیا:
شوہر چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ وہ سچا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ ج��وٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
اور بیوی کو بھی اپنا دفاع کرنے کا حق دیا گیا:
وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر شوہر سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔
ذرا رک کر اس واقعے کو دیکھیں۔
شوہر تھا، مگر اس کا دعویٰ خود بخود ثبوت نہیں بن گیا۔
غصہ ثبوت نہیں۔
شک ثبوت نہیں۔
بدگمانی ثبوت نہیں۔
اور محض الزام کسی عورت کو مجرم نہیں بنا دیتا۔
اسلام نے یہاں ایک انتہائی سخت راستہ رکھا۔
لعان۔
یعنی معاملہ لوگوں کی افواہوں کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فریقوں کو اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھانے کے مرحلے تک پہنچایا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘
پانچویں قسم کے وقت عورت کچھ دیر جھجکی۔
لوگوں نے اسے متنبہ کیا کہ یہ بہت سنگین قسم ہے۔
پھر اس نے اپنی قسم پوری کی۔
اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ صحیح بخاری میں اس جدائی کا واضح ذکر موجود ہے۔
یہاں اسلام کا ایک انتہائی گہرا اصول سامنے آتا ہے:
ازدواجی تعلق کسی انسان کو دوسرے کی عزت پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
اگر الزام ہے تو ثبوت چاہیے۔
اگر چار گواہ نہیں تو شوہر کے لیے بھی معاملہ محض دعوے پر ختم نہیں ہوتا۔
اور عورت کو بھی صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جاتا۔
آج کے زمانے میں اس سبق کی اہمیت شاید پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک جھوٹا میسج،
ایک ایڈٹ شدہ تصویر،
ایک بے بنیاد پوسٹ،
ایک افواہ،
اور کسی انسان کی برسوں کی عزت چند گھنٹوں میں تباہ ہو سکتی ہے۔
اس لیے کسی کی پاک دامنی، کردار یا عزت کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے رک جائیں۔
کیا آپ کے پاس حقیقت ہے، یا صرف گمان؟
کیونکہ دنیا کے سامنے انسان اپنی بات منوا سکتا ہے۔
اپنے خاندان کو دھوکا دے سکتا ہے۔
لوگوں کو قائل کر سکتا ہے۔
مگر اللہ کو نہیں۔
لعان کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے:
کسی انسان کی عزت کے بارے میں ایسا لفظ نہ کہو جس کا جواب تمہیں ایک دن اللہ کے سامنے دینا پڑے۔
ماخذ: سورۂ نور، 24:6–9؛ صحیح بخاری، 4747، 5313، 5314۔
इस्लाम को मिटाने वाले मिट गये इस्लाम से दुनिया शुरू हुई थी इस्लाम पर दुनिया खत्म हो जाएगी।
एक हिंद��� युवक जिसने बाबरी मस्जिद को तोड़ा और बाद में दिल में खुदा की मोहब्बत पैदा हो गई मुसलमान हो गया अपना नाम मुहम्मद आमिर रख लिया और 100 मस्जिद बनाने का ऐलान कर दिया।
Being a Muslim has also become a major crime in India.
In Surat, Gujarat, more than 100 homes belonging to Muslims were demolished.
The court also reprimanded the authorities, but the cruel and authoritarian government did not seem to care.
HINDUTVA TERROR IN KOLKATA 🚨
136-year-old Ghouri Jama Masjid 🕌near airport bulldozed by RSS to build Ram Mandir 🛕Muslims were crying, begging but these saffron goons showed zero mercy and martyred the mosque 🇮🇳
پاکستانی نوجوان ویزا لینے کے لیے خود کو ہم جنس پرست پرست (Gay) شو کرتے ہیں..
پاکستانی نوجوان یورپ اور امریکہ کا ویزہ لینے کے لیے خود کو ہم جنس پرست گو Gay شو کرتے ہیں اور باقاعدہ طورGay گیم میرجز کرتے ہیں جس کے بعد ان کو ویزا مل جاتا ہے یہ افسوس کا مقام ہے لیکن ہمارے نوجوانوں کو اخر کار یہ کرنا ہی کیوں پڑ رہا ہے ظاہر ہے اس ملک میں نوجوانوں کے لیے کوئی کاروبار کے مواقع نہیں نوکریاں نہیں کوئی روشن مستقبل نہیں اور سب سے بڑی بات اب اس ملک میں کوئی محفوظ نہیں ریاست کا جس کو ر��است کا دل کرتا ہے گھر سے اٹھا لیتے ہیں اس پہ ظلم و جبر کرتے ہیں ہر سال سات سے اٹھ لاکھ پاکستانی ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جس میں پڑھے لکھے ڈاکٹرز انجینیئرز ارکیٹیکٹس پی ایچ ڈیز شامل ہوتے ہیں ہمارے لیے افسوس کا مقام تو ہے کیونکہ اس ملک میں کوئی جمہوری حکومت نہیں ایک نکمی کر��ٹ حکومت کو لا کر ہمارے سر پر بٹھایا ہوا ہے
#اليوم_الوطني_السعودي_٩٦
#LGBT #Trump #saudiaarabia
#مارية_الرفاعي
الشاعرة السورية المبدعة مارية الرفاعي، وقصيدة عصماء في الشام، لا تدري وأنت تنصت إليها وتتأمّل في معانيها: ألشاعرةٍ من العصر الأموي هي، أم لشاعرة من العصر العباسي؟
هذه شاعرة سيكون لها مستقبل شعري عظيم!
*سور چربی کی تاریخ*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے*
*یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے*۔
*کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔*
*اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔*
*اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ ص��بن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔*
*شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔*
*چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔*
*اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا*
*1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟* *تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔*
*اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!*
*آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا* *استعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں*،
*ان مصنوعات میں*
*دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں*
*کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں* *چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔*
*سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔*
*لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی* *فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،* *کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔*
*E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ*
*👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں*۔
*یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے*
Copy
آج صبح قرآن پڑھتے ہوئے ایک آیت پر دل تھم سا گیا۔۔۔۔ جتنا اس پر غوروخوض کیا اتنا ہی غم بڑھا اور آنکھیں کھلیں
سورہ النساء میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا
تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حل��ل تھیں ان پر حرام کردیں۔ اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے
یہ بات یہاں یہودیوں کے لئے کہی۔ تو پھر محفوظ کرکے ہم تک کیوں پہنچائی گئی؟ یہ پچھلی قوموں کے واقعات ہمیں کیوں بتائے گئے؟
تاکہ خود پر اپلائی کرکے دیکھیں، سبق حاصل کریں، خود کو درست کریں
ہمارے ہاں گھروں میں جھگڑے ہوتے ہیں۔ کیسے کیسے خوان بنے پڑے کے پڑے رہ جاتے ہیں۔ کوئی دیکھتا تک نہیں۔ ہونے کے باوجود کسی کے نصیب میں نہیں ہوتے
میرے پاس روزانہ ایسے مریض آتے ہیں جو بہت کچھ کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ کچھ کو میں خود بھی کسی ضروری وجہ سے وقتی طور پر کچھ چیزیں کم کھانے کا مشورہ دیتا ہوں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی وجہ کے یا کسی شارٹ کٹ کے چکر میں یا محض سنی سنائی پر صاف اور پاکیزہ غذائیں چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ اللہ کی نعمتیں خود پر خود ہی حرام کر چک�� ہوتے ہیں اس چکر میں کہ دوا نہ کھانی پڑے۔ اور پھر چھ مہینے سال بعد شدید کمزوری اور بہت سے مسائل کے ساتھ ہمارے پاس آتے ہیں
تین باتیں کہنا چاہتا ہوں
نمبر 1۔ اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے میانہ روی میں رہتے ہوئے صحتمند طریقے سے لطف اندوز ہوں
نمبر 2- جب وقتی طور پہ یا کچھ ��رصے کیلئے کچھ کھانے سے پرہیز بتایا جائے تو اپنی صحت کیلئے بہت احتیاط کریں۔ باقاعدگی سے مستند علاج کروائیں تاکہ آپ پر لگی ہوئی وہ غذائی پابندیاں کم یا ختم ہو سکیں
نمبر 3۔ غور کریں۔ میری کون سی غلطی اللہ کو اتنی ناپسند ہوئی کہ حلال غذائیں میرے نصیب سے نکل گئیں۔ اللہ سے جڑ جائیں۔ مغفرت طلب کریں
یاد رکھیں! ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں ان یہودیوں کی طرح خودسری کا مظاہرہ نہیں کرنا جن کا ذکر اللہ نے عبرت کے طور پر کیا ہے
خود پہ توجہ دیں، غلطیوں کا ازالہ کریں، جھک جائیں، اللہ کے آگے رو دیں۔ جیسے بھی ہو اسے منائیں
یقین رکھیں! اللہ سے مغفرت کی، اس سے دل جوڑنے کی کوئی ڈوز لمٹ نہیں۔ ��س راستے پر کوئی نقصان نہیں، کوئی سٹریس نہیں۔۔۔۔ سب سکون، سب خیر ہے
اللہ تعالٰی ہماری، ہمارے والدین کی اور اولاد کی مغفرت فرمائے ۔ اور ہم پر دونوں زندگیاں آسان کردے
اللہ تعالٰی ہمیں عطا کیا ہوا رزق اور نعمتیں ہمارے اور ہماری اولاد کے نصیب میں بھی کردے آمین ثم آمین
غلام عربی زبان کا لفظ ھے جس کامعنی لڑکا یا بیٹا ھے یھاں اس کا استعمال غلط کیا گیا یہاں تک غلام اللہ بھی نام رکھے گئے جس کے مشرکانہ معنی نکلتے ھیں گو کہ اردو میں غلام کا معنی مملوک عبد ھے مگر ایسے نام سے احتراز کرنا ضروری ھےیہ عقیدت کی وجہ سےھی نہیں بلکہ جہالت کی وجہ سے بھی ھے
کیا ہم محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے ایسی زبان اختیار نہیں کر سکتے جو محبت کے ساتھ ساتھ انسانی وقار ، آزادی اور خودداری کو بھی نمایاں کرے؟
آپ کی کیا رائے ہے؟
شمشیر احمد گوندل