اختر مینگل نے جو رقم واپس نہیں کی!
اختر مینگل نے 76 لاکھ روپے تنخواہ واپس کر کے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے خود کا مسلسل شاباش بھی دے رہا ہے۔ لیکن جو پیسے اختر مینگل نے قوم کو واپس نہیں کیے انکی تفصیل درج ذیل ہیں۔
عمران خان نے موصوف کو مسنگ پرسنز کے معاملے میں 10 ارب روپے دیا تھا جس کا کوئی فنڈ بننا تھا۔ یہ حضرت وہ سارے پیسے ڈکار گیا اور پتہ بھی نہ چلا کہ رقم گئی کہاں۔ تاہم اس کے بعد وہ عمران خان کو سپورٹ کرنے لگا تھا۔
اختر مینگل نے اپنے خاندان کی کمپنیوں کے لیے 16 بہت بڑی مائننگ لیز جاری کیں۔ ان میں موجود ماربل، کرومائٹ، کوئلے اور گرینائٹ کی کم سے کم مالیت بھی 50 ارب روپے سے زائد ہے۔
موصوف نے اپنے جو اثاثے اور آمدن خود ڈکلئیر کی ہیں ان کے حساب سے اس پر سالانہ 1 سے 2 ارب روپے ٹیکس بنتا ہے جو عوام کا حق ہے۔ لیکن یہ صرف 3 کروڑ روپے سالانہ ٹیکس جمع کرتے ہیں باقی ٹیکس چوری کرتے ہیں۔
ترقیاتی فنڈز کے نام پر جو ہر سال 15 تا 20 ارب روپے خضدار اور ملحقہ علاقوں کے لیے الاٹ کیے جاتے ہیں اسکا 90٪ موصوف کی جیب میں جاتا ہے۔ باقی ایم پی ایز کھا پی لیتے ہیں اور خضدار ویسے کا ویسا ہے۔
اس مگر مچھ نے اپنی تنخواہ کے 76 لاکھ قوم کو واپس کیے ہیں اور اب اسکا احسان جتا رہا ہے۔
سعودیہ نے تیل کی قیمت میں قابل ذکر کمی کا اعلان کر کے عالمی منڈی کو ہلا دیا۔ عالمی ذرائع
چاچو نے پاکستان میں تیل کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام کو ہلا دیا۔
🔴اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا:
تئیس سال پہلے امریکا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوے کی بنیاد پر ہمیں عراق جنگ میں گھسیٹا تھا۔ وہاں ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے۔ آپ ہمیں دوسری بار دھوکا نہیں دے سکتے۔
حامد میر اور اسد طور کو مبارک باد
ایک اور لاپتہ بلوچ مل گیا
بی ایل نے حالیہ حملوں میں جس دہشتگردی عطا اللہ بلوچ کا پوسٹر تیار کیا ہے اسکے متعلق بی وائی سی نے مہم شروع کی تھی کہ وہ 15 سال سے لاپتہ ہے، اسکی والدہ کو جگہ جگہ اسکے پوسٹر دے کر گھماتے رہے۔
اب وہ سامنے آ گیا
پاکستان میں پیٹرول عالمی منڈی کی وجہ سے نہیں، حکومت کے ٹیکسوں کے باعث مہنگا ہے۔
تیل کی قیمتیں بالکل غلط بڑھائی گئیں۔
حکومت نے آئل ریفائنریز کو 75 ارب روپے ناجائز منافع سے نوازا۔
(مفتاح اسماعیل)
اس بندے کی کئی چیزوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر
اس بات میں وزن ہے
جبکہ اس دوران عوام کا پیٹرول 150 سے 315روپے لیٹر کر دیا بجلی کے بلوں پر ہزار طرح کے ٹیکس لگا دیے گیس مہنگی کر دی اور کہا ملک میں معاشی بحران ہے ملک کے لئے قربانی دو
بلوچستان میں امن و امان قائم رکھنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کا صرف ایک حلقہ NA 260۔۔رقبے کے لحاظ سے پورے پاکستان کا 11% ہے(دنیا کے 85 ممالک رقبے کے لحاظ سے اس حلقے سے چھوٹے رقبے کے حامل ہیں)
تقریبا 99 ہزار مربع کلومیٹر کا یہ قومی اسمبلی کا حلقہ چاغی،نوشکی،خاران،واشک پر مشتمل ہیں۔
جو سوئزرلینڈ،اردن،اسرائیل،
متحدہ عرب امارات،آسٹریا،پرتگال،
آزربائیجان،چیک ریپبلک،ہالینڈ،ڈنمارک،سری لنکا،بھوٹان،آئرلینڈ سمیت دنیا کے 85 ملکوں کے اپنے اپنے رقبے سے بڑا صرف ایک قومی اسمبلی کا حلقہ ہے۔
اور اس حلقے کی آبادی صرف 10 لاکھ ہے،ساڑھے 3 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور
یہاں 1 کلومیٹر میں اوسطا صرف 10 لوگ آباد ہیں۔
اب ایسے صوبے میں ریاست کی رٹ قائم رکھنا اور امن و امان برقرار رکھ پانا کتنا مہنگا اور مشکل کام ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
جہاں بھارت۔۔اربوں ڈالرز جھونک کر چند ہزار بے روزگار افراد کو سرداروں یا چند سو افراد کے زریعے خرید کر دہشت گردی کے لیے تیار کرتا ہے اور پھر وہ اس طرح کے صوبے میں ایسی جگہوں پر آسانی سے چھپے بھی رہتے ہیں۔اور
جب/جہاں موقع ملے وہ منصوبہ بندی کر کے حملے کر کے پھر چھپ جاتے ہیں
قانون نافذ کرنے والے ادارے سینکڑوں حملے ناکام بناتے ہیں
وہ عمومی طور پر منظرعام پر نہیں آتے۔
لیکن دہشت گردوں کو کئی بار ناکام کوشش کر کر کے کبھی کوئی وقتی کامیابی مل جاتی ہے۔
ہمیں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراہنا چاہیے کہ وہ ایسی مشکل جگہ پر
ایسی مشکل جنگ لڑ رہے ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
@Inam_Jhatla ہمیں کربلا کا غم بدر کی فتح سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔یہی ہماری نفسیاتی الجھن ہے۔اسی وجہ سے ہم حکمت و خرد پر ہمیشہ جذبات کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس لعین ابلیس صفت درندے نے پہلے اس معصوم کو کھیل کے بہانے اپنے گھر کی تیسری منزل بلایا پھر ریپ کیا پھر زبان کاٹی پھر وزنی چیز سے مار ڈالا منہ پہ ہاتھ رکھا کہ چیخیں نہ نکلیں پھر 3 دن پڑوسیوں کیساتھ تلاش کرتا رہا یہ ابلیس پولیس کا مخبر بھی ہے اب پکڑا گیا ہے، تلخ حقیقت یہ ھیکہ اب ان
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ نے پبلک فورم پر انکشاف کیا ہے کہ: "پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ایکشن کمیٹی سے نمٹنے کے لیے وہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی تیاریاں کر لی ہیں جو بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے"۔
ایک ذمہ دار صحافی اور ملک کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم کا سربراہ اگر پبلک فورم پر اتنی بڑی بات کہہ رہا ہے، تو یقیناً اس کے پیچھے مستند معلومات ہونگی۔ اور یقینا خود سیکیورٹی ادارے بھی اس بات کو پبلک کرنے اور "مقبوضہ کشمیر جیسے ایکشن" کے لیے ماحول سازگار بنانے کی خاطر اس بیانیے کو عام کرنے پر آمادہ ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کرنے کا تہیہ کر لیں، تو عام شہری یا دلیل کی آوازیں بندوق کی نالی کو نہیں روک سکتیں۔ طاقت کے سامنے دلیل کی اہمیت ہمیشہ ثانوی رہ جاتی ہے۔
اس لیے یہاں گفتگو کا مقصد صرف اس حقیقت کو واضع کرنا ہے کہ "مقبوضہ کشمیر جیسے ایکشن" کے نتائج بھی مقبوضہ کشمیر جیسے ہی نکلیں گے۔
ریاستی پالیسی سازوں کو تاریخ کا ایک اہم ورق یاد دلانا ضروری ہے۔ وادی کشمیر 1947 میں عمومی طور پر نیشنل کانفرنس کی وجہ سے بھارت نوازی میں بہت آگے تھی۔ مجموعی طور پر 1950 سے لے کر 1980ء کی دہائی تک پورا مقبوضہ کشمیر ایک مکمل پرامن علاقہ تھا، جہاں بھارتی فلموں کی شوٹنگز عروج پر تھیں اور سیاحت وہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ سیاسی منظرنامہ یہ تھا کہ سید علی گیلانی اور سید صلاح الدین جیسے کٹر رہنما بھی، بادلِ ناخواستہ ہی سہی، لیکن بھارتی آئین کے تحت وفاداری کا حلف نامہ (Affidavit) جمع کروا کر مقامی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیتے تھے۔ وادی میں مصلحت پسندی کا راج تھا اور آزادی کی باتیں عملاً محض ایک فکری عیاشی ہی تھیں۔
لیکن پھر 1987-88ء کا سال آیا، جب انتخابی دھاندلی کے خلاف کشمیریوں نے ایک پرامن سیاسی تحریک شروع کی۔
تو تب نئی دہلی کے مقتدر حلقوں نے اس سیاسی احتجاج کو دلیل اور مذاکرات کے بجائے بندوق اور ریاستی طاقت سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔ اس ایک غلط فیصلے نے پوری وادی کا رخ موڑ دیا۔
پھر آج چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون (Militarized Zone) ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سیاہ ریکارڈ بھارت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر چمک رہا ہے۔ وہاں امن و امان اور نام نہاد "نارملسی" کا لوٹنا شاید اب بھی کئی عشروں کے فاصلے پر ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان، جو بھارت کبھی پورا نہیں کر سکتا، وہ یہ ہے کہ کشمیر کے عوام ذہنی، فکری اور جذباتی طور پر بھارتی ریاست سے کئی نوری سال کے فاصلے پر جا چکے ہیں۔ اس دوری اور نفرت کی واپسی کا کوئی امکان اگلی کئی نسلوں تک دکھائی نہیں دیتا۔
ریاستی طاقت سے وقتی طور پر سڑکیں سنسان کی جا سکتی ہیں، احتجاج کچلے جا سکتے ہیں اور قیادت کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والی خلیج کو کسی گولی سے نہیں بھرا جا سکتا۔
اگر پاکستان کے سیکیورٹی ادارے واقعی "مقبوضہ کشمیر والا راستہ" اپنانے کا حتمی فیصلہ کر چکے ہیں، تو انہیں یہ سوچ کر اور ان نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو کر ایکشن کا آغاز کرنا چاہیے کہ تاریخ کا قانون اٹل ہے۔
سیدھا سا اصول ہے: بیری کے بیج بو کر کبھی آم کی فصل حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے۔
#مہتاب_عزیز
عوام کی جیب کاٹ کر کمائے منافع پر لعنت بنتی ہے تعریف نہی آپ کے آنے کے بعد بجلی کے بل دو گنا سے زیادہ بڑھ چکے سلیب کا چھ مہینے سزا کا ظالمانہ قدم ہوا اور اب یہ فکسڈ ٹیکس ہے بجلی استعمال کرو نا کرو بل اس حساب سے ہی آئے گا یہ سب ظلم وہ بھی پنجاب پر باقی تو کوئی صوبہ اور کشمیر بل دینے پر تیار نہی ہے
شرم تم کو مگر نہی آتی
جان اور اس کی بیوی نے پاکستان آنے سے پہلے گوگل پر سرچ کیا: "Is Pakistan safe to visit?"
نتائج نے انہیں ڈرا دیا۔
مگر وہ پھر بھی آئے۔ اور جو انہوں نے دیکھا، اس نے ان کی پوری سوچ بدل دی۔
پہلے دن ہی لاہور کی ایک گلی میں وہ راستہ بھول گئے۔ ایک دکاندار نے دکان بند کی، اپنی موٹرسائیکل نکالی اور خود انہیں ہوٹل تک چھوڑ آیا۔
جان نے بعد میں لکھا: "میرے ملک میں کوئی اجنبی کے لیے اپنا کام نہیں چھوڑتا۔ یہاں لوگوں نے اپنا وقت، اپنا آرام، سب کچھ ایک اجنبی کے لیے چھوڑ دیا۔"
اس کی بیوی نے حیدرآباد کے ایک بازار میں دوپٹہ خریدنا چاہا۔ دکاندار نے قیمت بتائی، پھر مسکرا کر کہا: "آپ ہمارے مہمان ہیں، یہ تحفہ ہے۔"
پیسے لینے سے انکار کر دیا۔
وہ دونوں حیران رہ گئے۔ مغرب میں مہمان نوازی کا مطلب ہوتا ہے ایک اچھا ہوٹل، اچھی سروس۔ یہاں مہمان نوازی کا مطلب ہے، اجنبی کو اپنا بنا لینا۔
پہاڑوں میں، صحراؤں میں، شہروں میں، ہر جگہ ایک ہی چیز نظر آئی۔ لوگ پیسے کے پیچھے نہیں بھاگ رہے تھے۔ وہ رشتہ بنانے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
جان نے آخری دن کہا: "میں نے دنیا کے 30 ممالک دیکھے ہیں۔ کہیں بھی مجھے یہ احساس نہیں ہوا کہ میں کسی کا مہمان ہوں۔ صرف پاکستان میں یہ احساس ہوا۔"
میڈیا کچھ اور دکھاتا ہے۔
حقیقت کچھ اور ہے۔
اور یہ حقیقت صرف وہی جانتا ہے جو یہاں خود آ کر دیکھے۔
💬 اگر آپ کسی غیر ملکی دوست کو پاکستان دکھانا چاہیں، تو سب سے پہلے اسے کہاں لے کر جائیں گے؟ کمنٹ میں بتائیں۔
Before coming to Pakistan, John and his wife Googled: "Is Pakistan safe to visit?"
The results scared them.
They came anyway. What they saw changed everything they thought they knew.
On their very first day, they got lost in a street in Lahore. A shopkeeper closed his shop, grabbed his motorbike, and personally drove them to their hotel.
John later wrote: "Back home, no one drops their work for a stranger. Here, people gave up their time, their comfort — everything — for someone they'd just met."
His wife wanted to buy a dupatta at a market in Hyderabad. The shopkeeper quoted a price, then smiled and said: "You're our guest. This is a gift."
He refused to take the money.
They were stunned. In the West, hospitality means a nice hotel, good service. Here, hospitality means turning a stranger into family.
In the mountains, in the deserts, in the cities — the pattern repeated everywhere. People weren't chasing money. They were chasing connection.
On their last day, John said: "I've visited 30 countries. Nowhere else did I feel like someone's guest. Only in Pakistan."
The media shows one story.
Reality tells another.
And only the people who come see it for themselves know the truth.
💬 If you had to show a foreign friend Pakistan for the first time, where would you take them first? Comment below.
#PakistanZindabad #Pakistan #tourism #trending #foryoupage
خدا کے لیے، اپنے بچوں کی خود انتہائی احتیاط اور دیکھ بھال کریں۔ آپ کے اپنے ہی درمیان ایسے درندہ صفت اور گھٹیا انسان موجود ہیں جو آپ کے بچوں پر ہوس بھری نظریں ڈالتے ہیں۔ اپنے بچوں کو کسی بھی رشتہ دار کے گھر—یہاں تک کہ اپنے قریبی عزیزوں کے ہاں بھی—اپنے ساتھ جائے بغیر اکیلے نہ بھیجیں؛ کسی بھی رشتہ دار پر آنکھ بند کر کے بھروسہ نہ کریں۔ یہ واقعی انتہائی افسوسناک بات ہے کہ انسان جانوروں کا روپ دھار چکے ہیں۔
پاکستان کو اب افغان طالبان کی مرکزی لیڈرشپ کا"سر"لینا ہو گا
اور
بھارت میں اپنی
"پرانی پالیسی"کو شروع کرنا ہو گا۔
بلوچستان میں
4 روز میں 42 قانون نافذ کرنے والے جوانوں کی شہادت
کوئی چھوٹا واقعہ نہیں۔
خدارا۔۔۔بڑے فیصلے کیجئے
(اسد آر چوہدری)
تحریک انصاف کی حکومت نے کے پی میں قانون سازیاں فرمائی ہیں۔ پڑھ کر شرم آتی ہے کہ کیسے ندیدوں کے سے انداز میں مراعات پر ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے۔
مجھے اب یاد نہیں آ رہا یہ جسٹس وجیہہ الدین احمد صاحب تھے یا کون تھے، لیکن ان کی بات مجھے خوب یاد ہے۔ ان کا کہنا تھا تحریک انصاف والے جس چیز پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ، عین اسی و قت یہ وہی کام خود کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا پروپیگنڈا کمال کا ہے یہ جھوٹ بڑے اعتماد سے بولتے ہیں، جس اعتماد سے یہ جھوٹ بولتے ہیں اس اعتماد سے دوسرے اپنا سچ بھی نہیں بول سکتے۔ اس لیے سب کچھ کر کے بھی پاک صاف رہتے ہیں اور دووسروں پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں۔
ڈھنگ کا کوئی کام انہوں نے نہیں کیا۔ کسی سنجیدہ کام کی طرف توجہ مبذول کرائی جائے تو کہتے ہیں ہمیں کام کرنے کا مینڈیٹ نہیں ملا ، ہمیں تو خان کو رہا کروانے کا مینڈیٹ ملا ہے۔ ان سے کوئی پوچھے، خان کیا اس بندر بانٹ کے ذریعے رہا کرواؤ گے؟
ان کے اقوال زریں سنو تو لگتا ہے ساری جماعت ہی درویشوں اور قلندروں پر مشتمل ہے لیکن نامہ اعمال ایسا ہے کہ علی بابا چالیس چور کی کہانی یاد آ جاتی ہے۔
آج کا کالم
https://t.co/BQnoSiGJ9X