ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ
سینے میں ہیں تپاں جگر و دل الگ الگ
قاتل تو رشک دیکھ ذرا اپنے کشتوں کا
مقتل میں بھی تڑپتے ہیں بسمل الگ الگ
اسد علی خان قلق
#قومی_زبان
زلف آہستہ جھٹکئے جی مرا جی ڈرتا ہے
دیکھئے ہاتھ کا جھٹکا نہ کمر تک پہنچے
آ لپٹ جا مرے سینے سے کہ ائے بحرِ جمال
کبھی ٹھنڈک بھی تو عاشق کے جگر تک پہنچے
مرزا نواب داغ دہلوی
#قومی_زبان
درد دوری کا بجز مــــــرگ نہیں کوئی علاج
ایسے بیمار کی ہــــــم کوئی دوا کیا کرتے
کر کے بسمل جو ہمیں چھــــــوڑ دیا قاتل نے
ہــــــم تڑپتے کہ اسے دیکھتے کیا کرتے
سید ہمایوں میرزا حقیــــــر
#قومی_زبان
#شب_بخیر
ہمیں کو ذبح کرتے ہیں ہمیں سے پوچھتے ہیں یوں
ذرا صاحب بتا دینا مری تلوار کیسی ہے
قضا بھی صدقے ہوتی ہے نگاہ تیز قاتل کے
شہادت سر کٹانے کے لیے تیار کیسی ہے
قاتل اجمیری
#قومی_زبان