بصورتِ دیگر سندھ کے کارکنوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ جو لوگ کارکن کے دکھ اور عزت کا خیال نہیں رکھتے، کارکن بھی ان کی ہر ایسی محفل کا اجتماعی بائیکاٹ کریں جہاں اسے صرف نعرے لگانے اور تالیاں بجانے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
#PMLN#Sindh#DrDarshanLal
وقت_بدلا_عہدے_مل_گئے_کیا_لوگ_بھی_بدل_گئے
ڈاکٹر درشن لال صاحب! اب سندھ کا کارکن خاموش نہیں رہے گا، جواب دینا ہوگا! قائدِ محترم میاں نواز شریف نے آپ پر بارہا اعتماد کیا، 2013 میں MNA بنایا، 2017 میں وفاقی وزیر بنایا اور آج بھی آپ بااختیار منصب پر فائز ہیں۔
جب میاں شہباز شریف کراچی سے انتخاب لڑ رہے تھے تو آپ اسٹیج پر کارکنوں کے درمیان ضرور نظر آئے، مگر اس کے بعد کارکن آپ کو چراغ لے کر ڈھونڈتے رہے۔ اب بھی وقت ہے کہ مسلم لیگ ہاؤس کو حقیقی رابطہ مرکز بنایا جائے اور جائز مسائل کے حل کے لیے عملی طریقہ کار اپنایا جائے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کا محفوظ پنجاب محفوظ سفر۔۔!!🚨
جب بھی آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں تو گاڑی پر لگے QR کوڈ اسکین کریں۔۔ اور دوران سفر کسی بھی ایمرجنسی میں فوری پولیس سے مدد حاصل کریں۔۔🚑🚓
بشیر میمن صاحب - ٹی وی ٹاک شو📺👏
آج کے ٹاک شو میں بشیر میمن صاحب نے اپنے مدبرانہ انداز سے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ صرف بیوروکریٹ ہی نہیں، ایک بہترین سیاسی مبصر بھی ہیں۔❤️
صرف ایک لفظ "سسٹم" کے استعمال سے انہوں نے پورے بیانیے کا خلاصہ کر دیا۔
اس ایک لفظ نے مخالف فریق کو لاجواب کر دیا اور مکالمے کا رخ ہی بدل دیا۔👍
یہی فرق ہے تجربے اور بصیرت کا - جہاں لمبی تقریریں ناکام ہوں، وہاں ایک لفظ کامیاب ہو جاتا ہے۔💪
بشیر میمن صاحب نے ٹی وی ٹاک شو میں ثابت کیا کہ سیاسی مکالمہ الفاظ کی تعداد سے نہیں، وزن سے ہوتا ہے۔👏
#BashirMemon
واہ بشیر میمن صاحب! 👏
کیا معجزانہ انداز میں لفظ ”سسٹم“ استعمال کیا کہ پیپلز پارٹی کی رہنما مکالمے کے میدان میں ہی بال نوچنے پر مجبور ہوگئیں۔ 😄
مجھے غلط فہمی تھی کہ بیوروکریٹ ہیں، سیاسی وار شاید پولیٹیکل ورکر جیسا نہ کر سکیں۔ مگر آپ نے تو صرف ایک لفظ ”سسٹم“ سے بازی پلٹ دی
یہ خوبصورت وڈیو مجھے بہت ہی محترم شخصیت سے ملی ۔پر مجھے تھوڑا اعتراض ہے اس میں کہا جارہا ہے کہ مریم کام تو کر رہی ہے ۔جب کے میرا ماننا ہے مریم ہی کام کر رہی ہے 💗
@MaryamNSharif
1/9
#وقت_بدلا_عہدے_مل_گئے_کیا_لوگ_بھی_بدل_گئے؟
سندھ بالخصوص کراچی کے مایوس اور نالاں کارکنوں کی زبان پر اکثر یہ سوال آتا ہے کہ آخر وفاقی مرکز کی نظر میں سندھ کیوں نظرانداز ہوتا ہے؟ لیکن اگر حقیقت کا معروضی تجزیہ کیا جائے تو مسئلہ اسلام آباد کی عدمِ توجہی کا نہیں ہے۔
(آخری حصہ)
اب وقت آ گیا ہے کہ حساب مانگا جائے۔ اب سوال مرکز سے نہیں، سندھ کے ان عہدیداروں سے ہے: قیادت نے تو آپ کو احترام اور اختیار دیا، آپ نے اس کارکن کو کیا دیا جس کے کندھوں پر سوار ہو کر آپ ان مسندوں تک پہنچے؟
#سندھ_کے_کارکنان #
1/9
#وقت_بدلا_عہدے_مل_گئے_کیا_لوگ_بھی_بدل_گئے؟
سندھ بالخصوص کراچی کے مایوس اور نالاں کارکنوں کی زبان پر اکثر یہ سوال آتا ہے کہ آخر وفاقی مرکز کی نظر میں سندھ کیوں نظرانداز ہوتا ہے؟ لیکن اگر حقیقت کا معروضی تجزیہ کیا جائے تو مسئلہ اسلام آباد کی عدمِ توجہی کا نہیں ہے۔
یہ محض عدمِ توجہی نہیں بلکہ کھلم کھلا استحصالی رویہ ہے کہ وفاق سے ملا ہوا اقتدار اور وسائل سندھ کے عام کارکن تک پہنچنے ہی نہیں دیے جا رہے۔ قائدین نے عہدے کارکنوں کی طاقت بننے کے لیے دیے تھے، لیکن انہوں نے اسے ذاتی اقتدار کی ڈھال بنا لیا۔