@MCBBankPk Very bad service and deduct too much. I regret the moment when I open my account and my all family accounts in this looter bank.
It's my lifetime advise never do any business with MCB.
Stay away from them not reliable really. Waste of money & time with @MCBBankPk
جس شخص کو سادہ جنرل نہیں دیکھنا چاہتے تھے وہ آرمی چیف بن گیا
جس شخص کو سادہ جج نہیں رہنے دینا چاہتے تھے وہ چیف جسٹس بن گیا
اور جس شخص کو جیل میں رکھنا چاہتے تھے وہ وزیراعظم بن رہا ہے
یہ عمران خان سے قدرت کا انتقام ہے
In 2014, a 15-year-old Pakistani schoolboy named Aitzaz Hasan noticed a stranger wearing a suicide vest entering his school.
Despite being urged by his friends to run away, Aitzaz decided to confront the bomber.
He grabbed the terrorist, and that's when the explosive vest detonated. Killing Aitzaz instantly.
His actions prevented the terrorist from entering the school and killing hundreds of students.
Following his death, his father said, "My son made his mother cry but saved hundreds of mothers from crying for their children."
مروت نے کل ٹاک شو میں مجھ پر حملہ کیا، میں عدم تشدد پر یقین رکھتا ہوں مگر میں نواز شریف کا سپاہی ہوں۔ جو پھینٹا مروت کو لگایا ہے یہ تمام پی ٹی آئی اور بالخصوص عمران خان کے لیے ایک اہم سبق ہے، کہیں شکل دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، بڑی بڑی کالی عینکیں لگانی پڑیں گی۔😁
TODAY: The world’s tallest building Burj Khalifa in Dubai lights up to celebrate Pakistan’s Independence Day #PakistanIndependenceDay on #14August.
Vid : via @ Burj Khalifa / IG
ایک فلم ہے In Time نام کی، یہ فلم مستقبل کے سال 2169 کا زمانہ دکھاتی ہے جب لوگوں کی مجموعی عمر فقط 25 سال ہوجاتی ہے۔عمر کا حساب رکھنے کے لیے ہر شخص کے بازو پر ایک گھڑی ہمہ وقت بندھی رہتی ہے جو، بتاتی ہے کہ آپ عمر کا کتنا حصہ گزار چکے ہیں اور باقی کتنے، مہینے، دن، گھنٹے اور سیکنڈ باقی ہیں. جو بھی شخص 25 ویں سالگرہ تک پہنچتا ہے اسے زندہ رہنے کے لیے مزید ایک سال ملتا ہے اور اگر اس دوران وہ اپنی عمر کو ری چارج کرتا ہے یعنی اگر وہ اپنی عمر کے بقیہ وقت میں مزید عمر کا کریڈٹ شامل کرتا ہے تو زندہ رہتا ہے ورنہ مرجاتا ہے ۔
مزید عمر کے لیے کوئی بھی شخص زیادہ عمر والے سے سودا کرکے عمر خرید سکتا ہے، یا پھر کوئی جرم کر کے کسی سے عمر چھینی جاسکتی ہے. خرید و فروخت کے لیے انسانی عمر ہی کرنسی کا درجہ حاصل کر لیتی ہے، اس کے بعد زندگی گزارنے کے لیے درکار تمام حاجتیں پوری کرنے کے لیے عمر کی نقدی خرچ کرنا ہوتی ہے ۔
مثال کے طور پر، جسے کوئی بھی چیز خریدنے کی ضرورت ہو اسے اس چیز کو حاصل کرنے کے بدلے میں تیس منٹ، ایک گھنٹہ، یا ایک دن ادا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے اس کے بازو پر لگی گھڑی سے کٹوتی کر لی جاتی ہے.
اس فلم کی کہانی عجیب ہے اور اس میں تقریباً چند ہی واقعات ہیں، لیکن اس میں ایک خوفناک اور حقیقت پسندانہ "پیغام" موجود ہے!
خوفناک مگر حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ لوگ اپنی عمر کی نقدی کو مادی اشیاء کے لین دین میں خرچ کرنے لگتے ہیں اور ایک دن چیزیں وہیں رہ جاتی ہیں مگر ان کی عمر ختم ہوجاتی ہے.
ایک سین میں دکھایا گیا ہے کہ ہیرو اسٹیشن پر اپنی ماں کا انتظار کر رہا ہے، اس کی ماں کے پاس عمر کا فقط ڈیڑھ گھنٹہ بچتا ہے، اور ہیرو چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس تک جلد پہنچے تاکہ وہ وہ اپنی ماں کی عمر ختم ہونے سے پہلے اسے مزید کچھ گھنٹے اور دن دے.
ماں بیٹے کے پاس جانے کے لیے بس میں سوار ہوتی ہے تو ڈرائیور کہتا ہے، میڈم، کرایہ آپ کی زندگی کے دو گھنٹے گزارنے کے برابر ہے۔
آپ کے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ ہے، اس لیے آپ کے پاس مطلوبہ کرایہ کم ہونے کی وجہ سے آپ یہ سفر نہیں کرسکتی. اس عورت نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو حیرت اور امید سے دیکھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس کی ختم ہوتی زندگی کی پرواہ نہیں کی، اور نہ ہی کسی نے اسے اپنی زندگی کے چند منٹ دیے۔
عورت نیچے اتر کر اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتی ہے.
دور سے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک دوسرے کی طرف بھاگے اس دوران زندگی کی گھڑی چل رہی ہے منٹ اور سیکنڈ خرچ ہو رہے ہیں اور جیسے ہی وہ ایک دوسرے کے قریب پہنچے اور اس نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا تو وہ اس کے بعد گر پڑی۔
وہ اپنی زندگی کے آخری سیکنڈ کو استعمال کرتے ہوئے مر جاتی ہے.
پوری فلم کا سب سے دردناک سین یہی ہے
کہ
بس میں موجود لوگ اس خاتون کی حیرانی اور بے بسی کو بے حسی سے نظر انداز کر دیتے ہیں ، حالانکہ کوئی بھی اسے اپنی زندگی کے چند منٹ دے سکتا تھا تاکہ وہ اپنے بیٹے سے بروقت مل کر مزید دس سال کے لیے عمر کی بیٹری ریچارج کرسکتی ۔
لیکن حقیقت میں آپ کو کوئی بھی اپنی زندگی کا ایک پل بھی نہیں دے سکتا..
ایک دن آئے گا آپ گر جائیں گے اور آپ کی بیٹری ختم ہو جائے گی
آپ اس کائنات کا مرکز ہیں، آپ کی زندگی نہایت قیمتی ہے، لہٰذا اپنی زندگی کا ایک سیکنڈ بھی فضول ضائع نہ کریں۔
Many marriages are breaking because:
-Educated girls are refusing to tolerate their husband's abuse.
-Educated girls are not willing to tolerate their husband's extramarital affairs.
-Educated girls are going to the police station instead of bringing jewelry and money from their parents' home every now and then.
-Educated girls are going to court for demanding what's rightfully theirs instead of waiting for years with their children in their parents' home.
-Educated girls are choosing to get jobs or run a business in less money rather than getting comfort zones in exchange for their husband's misconducts and whims.
-Educated girls are not just fitting into the roles of mother, daughter in law, and mere objects for their partner's physical requirements. They rightfully demand to be treated with equal respect, love, honor, and rights deserving of any human being.
If you haven't understood anything yet, it's okay. Educated women will gradually make you understand 😊