@muneebfaruqpak منیب صاحب ۔۔کیا ہوا آپ کو ۔۔کیوں اپنے آپ کو متنازعہ بنا رہے ہو ۔۔۔۔آپ صحافی ہیں،صحافی ہی رہنی۔۔ورنہ آنے والے زمانے میں صابر،معید پیر زادہ اور عمران ریاض کی طرح مہاجر یا پھر نئی رجیم کا tout بننا پڑے گا ۔۔۔خدا را ۔۔۔واپس آئیں اور صحافت کریں
کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، سوالات اٹھاتی ہیں۔ شیخ محمد امین کی نئی کتاب ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ بھی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔ شیخ صاحب سے طویل رفاقت رہی، ایک دفتر میں عرصہ ساتھ کام کیا اور قریب سے دیکھا کہ کشمیر ان کے لیے محض خبر یا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط ایک فکری سفر ہے۔
’’کشمیر الیوم‘‘ کے مدیر اور کئی کتابوں کے مصنفِ شیخ محمد امین نے اس کتاب میں 1999 کے اعلانِ لاہور سے 5 اگست 2019، پھر مئی 2025 کی پاکستان بھارت جنگ تک کشمیر سے متعلق پاکستان کی پالیسی، سیاسی حکومتوں، عسکری قیادت اور سفارتی فیصلوں کا جائزہ لیا ہے۔
’’تاجرانہ ڈاکٹرائن‘‘، ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ اور ’’ماضی بھولو ڈاکٹرائن‘‘ جیسے ابواب میں نواز شریف کی بھارت پالیسی، تجارت اور کشمیر، سجن جندال، اُوفا اعلامیہ، مودی کا لاہور دورہ اور جنرل باجوہ کے دور کی کشمیر پالیسی سمیت کئی اہم پہلو زیر بحث آئے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کے بعد کی صورتحال، کشمیری قیادت کی ٹارگٹ کلنگ، بھارتی خفیہ اداروں کے مبینہ کردار، بھارتی فوج و اسرائیل کے مبینہ تعاون اور کشمیر کے ’’نئے غزہ‘‘ بننے کے خدشات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
کتاب کا بنیادی سوال شاید یہی ہے، کشمیر کو فریب کس نے دیا—وعدوں نے، پالیسیوں نے، سیاسی مصلحتوں نے یا تاریخ کے مختلف موڑ پر کیے گئے فیصلوں نے؟
اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ سوال اٹھانے اور کشمیر کی تاریخ و پاکستان کی کشمیر پالیسی کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے پر ضرور مجبور کرتی ہے۔ کشمیر کے تاریخی، سیاسی اور سفارتی پہلوؤں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔
اسیری کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے تکیوں اور صوفہ کُشنز پر اپنے ہاتھوں سے مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی سے اس قدر خوبصورت کڑھائی کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے 76 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے اندر چھپی بہار کو جیل میں آزاد کر دیا اس بہار کے رنگوں اور خوشبو کو اب دنیا کی کوئی طاقت قید نہیں رکھ سکتی یہ بہار آزاد ہو چکی: حامد میر
@HamidMirPAK
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
"ایک ہمنگ برڈ کے نام " (کیوں کہ ہمنگ برڈ اور پھول کا رشتہ جیل کی سلاخیں بھی نہیں توڑسکتیں )
میرا ڈاکٹر یاسمین راشد سے رشتہ ان کا سیاست میں آنے سے پہلا کا ہے - ہم نے 2008 - 2009 میں ان سے کنگ ایڈورڈ کالج میں گائنی کی تعلیم حاصل کی ہے - یہ تب بھی ایک آئرن لیڈی تھیں - یہ تب بھی اصولوں کی بہت سخت تھیں - اس وقت ہم جب لیڈی ولنگٹن ہسپتال میں روٹیشن پر ہوتے تھے تو یہ اصول تھا کہ رات وہی سونا ہوتا تھا تاکہ رات میں سینیر ڈاکٹرز کی مدد کی ضرورت ہو تو سٹوڈنٹس وہی ہوں - میں ایک دفعہ وہاں سے واپس ہاسٹل آکر سوگیا کہ طبیعت ٹھیک نہیں تھی - اگلی صبح ان کو معلوم ہوا تو مجھے بلایا اور سخت سرزنش کی اور کہا کہ "آپ کی طبیعت زیادہ خراب تھی یا اس زچہ اور حاملہ کی زیادہ خراب ہوتی ہے جو آدھی رات میں ڈیلوری کیلئے آتی ہے" - مجھے وائس چانسلر کے سامنے پیش ہونا پڑا اور تحریری معافی مانگنی پڑی تب خلاصی ہوئی اور ان کی کلاس میں بیٹھنے کی اجازت ملی -
یہ واقعہ اس لئے لکھا کہ ان کے اصول پسندی اور مریضوں کیلئے ان کی فرض شناسی کو ہائی لائٹ کروں - کچھ دن پہلے ان کا برتھ ڈے تھا اور اس پر یہ کلپ دیکھ کر دل ان کے استحصال پر اداس بھی ہوا اور ان کی ہمت اور استقلال دیکھ کر نہال بھی ہوا - اس ایک عورت نے نواز شریف کو اپنے حلقے سے صاف شکست دی تھی - یہ ایک اوپن سیکریٹ ہے - خود قائد محترم صاحب کو بھی یہ معلوم ہے کہ وہ کتنے ووٹوں سے ہارےتھے - پر نظام کی کالک اور اندھیر نگری کہ جس کو نشت پر اور اسمبلی میں ہونا چاہیے تھا وہ جیل میں ہے اور جس کو اس نشت پر نہیں ہونا چاہیے تھا وہ قاید محترم ہے -
لیکن ان تین سالوں میں بھی 76 سالہ اس کینسر زدہ ضعیف عورت کا عزم متزلزل نہیں ہوا - نہ اس نے عمران خان کا ساتھ چھوڑا نہ اس نے پریس کانفرنس کی نہ ہی اپنے اصولوں سے دستبردار ہوئی - جیل میں انہوں نے سلاخوں کے پیچھے سے رنگ برنگے پھولوں میں چونچ لگاتے ہمنگ برڈ بنایے- تکیوں پر رنگ برنگے پھل اور پھول کڑھائی کیے اور یہ پیغام دیا کہ
"جب حالات قابو سے باہر ہوں تب بھی تخلیق خوبصورتی اور رنگ بکھیر سکتی ہے "
مجھے سب پینٹنگ اور ڈیزائن بہت پسند آیے پر یہ ہمنگ برڈ والا میرا فیوریٹ ہے - اس میں ایک پیغام چھپا ہے کہ پرندے کو آپ قید تو کرسکتے ہیں پر پھول سے اس کی محبت کو ختم نہیں کرسکتے - اس کا اور پھول کا تعلق امر اور اٹوٹ ہے جس کو کوئی سلاخیں کوئی ایف ای ار بھی ختم نہیں کرسکتی - مجھے لگتا ہے اس تصویر میں یہ ہمنگ برڈ ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں اور یہ پھول عمران خان ہے جس کی محبت اور جس سے وفاداری کا تعلق تین سال بعد بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے آج بھی رنگ برنگا اور مظبوط نظر آتا ہے - یہ اس نظام کی بدقسمتی ہے کہ جس کا آج یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کے ذہنوں میں علم کے رنگ بھرنے چاہیے تھے وہ آج جیل کے پیچھے تکیوں پر کڑھائی کے ذریے اپنی تخلیقی تشنگی پوری کر رہی ہے -
Happy Birthday the brave Humming bird.
Your humming was so powerful, your voice so strong,
They feared the truth you carried along.
So they locked you away and silenced your song,
But courage like yours cannot be held for long.
قلم کی جسارت وقاص نواز
----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@agentjay2009
اسیری کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے تکیوں اور صوفہ کُشنز پر اپنے ہاتھوں سے مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی سے اس قدر خوبصورت کڑھائی کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے 76 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے اندر چھپی بہار کو جیل میں آزاد کر دیا اس بہار کے رنگوں اور خوشبو کو اب دنیا کی کوئی طاقت قید نہیں رکھ سکتی یہ بہار آزاد ہو چکی
https://t.co/ksVZARlxpf