سفر کی نہیں، تالیاں آخری موڑ پر ملتی ہیں اور راستے میں لگنے والے زخم وقت کے ساتھ بے نام ہو جاتے ہیں، شاید اسی لیے انسان تھک کر بھی رکنے کی ہمت نہیں کرتا، خاموشی سے چلتا رہتا ہے، کیونکہ دنیا کو چلتے رہنا دکھائی دیتا ہے، ٹھہر جانا نہیں۔
دنیا بس دنیا کو ہی دیکھتی ہے، وہ چہرہ جو ہنستا دکھائی دے، وہ لباس جو چمکتا ہو اور وہ کامیابی جو آنکھوں کے سامنے ہو، دنیا نہ تھکن پڑھتی ہے نہ راتوں کی خاموشی سنتی ہے، نہ وہ سوال جو انسان خود سے کرتا ہے جب سب سو چکے ہوتے ہیں اور دل جاگ رہا ہوتا ہے، یہاں قدر ہمیشہ نتیجے کی ہوتی ہے.