میں وقت کے اس دوراہے پر ہوں جہاں ہر پیچھے ہٹتی ہوئی شئے مجھے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے اور میں اس اندھی بھاگ دوڑ سے تنگ آنکھ موند لینا چاہتی ہوں مگر تیز روشنی کی دھار میری پلکوں کو کاٹتی ہے اور بیداری کے نام پر مجھے ہر پل خلجان ملتا ہے !!!
عجیب لگے گا سننے میں
لیکن سر پر پلو ڈال کر گھر میں پھرنا ہندوئوانہ رواج ہے۔
مردوں کو پہلے کھانا دینابھی
اور سسرالی رشتے داروں کی خدمت بھی۔
ہندوانہ مشترکہ خاندانی نظام کا حصہ ہے۔
اسلام میں دیور جیٹھ نامحرم ہیں ، ساس سسر کی خدمت کا کوئی ذکر نہیں ، کھانے پینے میں کوئی روک ٹوک نہیں الٹا بہترین عمل یہ قرار پایا ہے مرد گھر میں داخل ہو تو کھانے پینے کی چیز پہلے بیٹئ کو دے
اپنے اہل خانہ کو وہ کھلائے جو وہ خود اپنے لیئے پسند کرتا ہو
اور سر پر گھر کے اندر دوپٹہ تو دور گھر مین دوپٹہ اوڑھنا بھی لازم نہیں کیونکہ عورت کو پردے سے مستثنی قرار دیا گیا ہے تو گھر میں نامحرم کوئی ہونا نہیں چاہیئے۔
اصل اسلام اتنا ہی آسانیاں دیتا ہے۔ باقی بحث میں جو مرضی لگے رہیں
کسی کی ذہنی صلاحیت کا اندازہ اس با ت سے لگاؤ کہ وہ اپنے دفاع کے لیے کون سے راستے کو اکثر کھلا رکھتا ہے اگر وہ خود کا دفاع کرنے سے قاصر ہو تو جان لو آپ اس کے ساتھ محفوظ نہیں رہ سکتے!
کتنا دلکش ہو کہ
میرا آنچل تمہارے چہرے پہ اڑ کہ آئے
تو جھنجھلانے کے بجائے
تم زیرِ لب مسکرا دو
مگر اس ابر آلو موسم میں ہوائیں روک دی گئی ہیں
اگر یہ بادل برس بھی جائیں
تو جانتے ہو؟
بھیگا آنچل ہوا کے رخ پر تمہاری سمت اڑنا
قوی امکان ہے
کہ ممکن نہیں ہے
منیبہ
تمہارے تمام تجسس کو ختم کرکے کھلی کتاب بن کہ میں تم میں دیکھوں گی کہ دلچسپیاں ختم ہو جانے کہ بعد کیا رہا ہے کیوں کہ میں جانتی ہوں رموز و اسرار کے کھل جانے کے بعد جو بچ جائے وہی سراسر محبت ہے۔
ہم نے پہلے کچھ اصول بنائے پھر خود کو ان اصولوں کا پابند بنایا پھر خود ایک مثال بن گئے لوگوں کو خود کی مثال دے کر اصول پیش کیا پہلے محبت سے کہا کہ مان لو ، جب انکار ہوا تو جامہ سے باہر ہوئے زبردستی کی اصول کے غلام بنے غلامی کی غلامی کروائی بھول گئے کہ اصول بنانے والے ہم ہی تھے