@TheEconomist The U.S. has a Constitution too, yet the war against Iran was waged without Congressional approval because Netanyahu is the one in control. At least Asim Munir isn't Israeli.
We were told by Western media that girls in Iran 🇮🇷 were not allowed to go to school
Meanwhile Iran 🇮🇷 has the highest women scientists in the world, more than the United States 🇺🇸
Yes, you read that right.
دلیر مہدی حسن نے سب کو ایکسپوز کردیا
ٹرمپ وہ کررہا ہے, جو ہٹلر نے بھی نہیں کئیے, ہٹلر بھی پانی سے لوگو کو ریسکیو کرتے رہے, ٹرمپ کو کسی چیز کی پرواہ نہیں, بچوں کے سکول پر اور عوام پر بم گرائے
امریکہ کو ایرانی عوام سے کوئی لینا دینا نہیں
یہ غیر مقبول جنگ ہے
اب مہنگا تیل خریدنے کے لیے پیسے نہی ہیں آمدن سے زیادہ ہم نے خرچے پھیلا رکھے ہیں ہر بڑے عہدے دار نے اپنا الگ ذاتی وی آئی پی طیارہ رکھا ہوا ہر رکن اسمبلی کو مفت بزنس ٹکٹ چاہیں ہر ریٹار ڈ جج کو دو ہزار یونٹ بجلی پانچ سو لیٹر مفت پیٹرول چاہیے ہر وزیر کو دس دس گاڑیوں کا پروٹوکول چاہیے اور ان سب کی مجموعی کارکردگی یہ کہ تیل خریدنے کے پیسے نہی قرض مانگنا پڑتا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں نئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب میں شامل کیا جائے۔ سو انھیں شامل کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے جسے نہ بنانے کا کہا تھا، اسے ہی بنا دیا گیا۔ مجتبیٰ خامنائی، پاسدارانِ انقلاب کے سب سے محبوب اور کٹر نظریات کے لیڈر ہیں۔ جس کا مطلب ہے ایران نے مزاحمت کا راستہ چنا ہے۔ ایران پر برستے بموں کو دیکھ کر بیرون ملک بیٹھے رقصاں ایرانیوں کو مبارک ہو کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی مدد بموں سے اور مزید ہارڈ لائنرز کو ٹاپ پر لا کے کر دی ہے۔ جبکہ ایران واضح طور پر صدر مسعود پزشکیان جیسے لیڈرز کی طرف بڑھ چکا تھا جو ریفارمسٹ اور سخت گیری سے ایران کو دورلے جا رہے تھے۔ اسی ایجنڈے پر انھوں نے الیکشن جیتا تھا۔ مگر جوانوں کی جلدبازی اور زائینسٹ لائبیز کا "متشدد مذہبی گروپس سے پیار" اس خطے کو امن کی طرف ایک قدم نہیں بڑھنے دے رہا۔
شہر تباہ کر دیے گئے۔ سڑکیں اور پل جلا دیے گئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر، دہشت زدہ اور ہجرت پر مجبور۔ لاتعداد قتل ہوئے۔ کھیلوں کے میدانوں سے لے کر لائبریریوں اور معاشی انفراسٹرکچر تک، سب کچھ راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ چراگاہیں، باغات، کھیت، آبپاشی کا نظام، سکول، ہسپتال اور گھر؛ سب ملیا میٹ کر دیے گئے۔
مقصد کیا تھا؟ مسلمانوں کی کامیابیوں اور ان کی تمدنی اہمیت کے تمام نشانات مٹانا۔ معصوموں کے خون میں ڈوبی ایک نئی سلطنت کھڑی کرنا۔
غزہ؟ تہران؟ لبنان؟ 2025/26؟ ٹرمپ؟ نیتن یاہو؟
نہیں۔
چنگیز خان۔ 1220-1221۔ بلخ، سمرقند، ہرات، بخارا، مرو، نیشاپور۔
مسلمانوں کے لیے حالات پھر کبھی پہلے جیسے نہ رہے۔ اور نہ ہی آج اس کا انجام کچھ مختلف ہوگا۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد کے حالات کی ہو بہو نشاندہی والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ نے 11 ستمبر 2001 کے فورا بعد کی تھی۔
انکے مطالعہ اور خطابات کی روشنی میں ہم المحمۃ العظمی (آرمگیڈن) کے درمیان ہیں۔
ہماری نظریاتی اور عسکری تیاری تمام طرح کے ذاتی، مذہبی، علاقائی، لسانی و سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر ہونی چاہیئے۔ ورنہ دجالی ٹولے کی سب پر تباہی بلاامتیاز ہوگی۔
انفرادی اور اجتماعی توبہ و اصلاح اور ہنگامی بنیادوں پر اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین
The day the war started, I explained in my video that Iran will not lose.
Now it is clear that the US cannot win this war. However, if it insists on continuing, the US, with each passing week will hasten its decline as the military hegemon. The ball is in US' court: to either end its war of aggression. Or face military consequences around the world.
I will upload my video on this subject by Tuesday March 10 evening!
بلجیم میں دو اسرائیلی فوجی غزہ میں جنگی جرائم میں شریک ہونے پر گرفتار.
شدید حبس میں یہ ایک بوند ہی سہی مگر ہے تو. کبھی تو برکھا بھی برسے گی. ضرور برسے گی.
وہ شہید بیٹی اپنا پلو سنبھالے اور چادر درست کرتے ہوئے پورے وقار کے ساتھ اپنی مقتل گاہ میں خود چل کر گئی اور اپنے حصے کی گولیوں کا انتظار کرنے لگے وہ ذرا سا بھی نہیں گڑگڑائی کسی کے پاؤں نہیں پکڑے کیونکہ ...
وہ جانتی تھی کہ ان بیغیرت ہجڑوں کی جھوٹی مردانگی کی تسکین اس کے بےگناہ خون سے کم کسی چیز سے ممکن نہیں ...