سلاجیت: پہاڑوں کی گود سے نکلنے والا سیاہ سونا
جب ہم بازار میں سلاجیت کی ایک ڈبی دیکھتے ہیں تو شاید ہی کبھی سوچتے ہوں کہ یہ قدرت کا انمول خزانہ کن جان لیوا مراحل سے گزر کر ہمارے ہاتھوں تک پہنچتا ہے۔ اگر آپ نے سلاجیت نکالنے والوں کی ویڈیوز دیکھی ہوں تو اندازہ ہوگا کہ یہ کوئی عام کام نہیں بلکہ موت سے آنکھیں ملانے کے مترادف ہے۔
گلگت بلتستان، ہراموش، استور، ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، خپلو، گانچھے اور چترال کے بلند و بالا پہاڑوں میں سلاجیت قدرتی طور پر چٹانوں کی دراڑوں سے رس کر باہر آتی ہے۔ یہ علاقے سطح سمندر سے 15 ہزار سے 18 ہزار فٹ تک کی بلندی پر واقع ہیں، جہاں پہنچنا ہی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
مقامی لوگ خطرناک چٹانوں پر رسیاں باندھ کر سینکڑوں فٹ گہری کھائیوں میں لٹکتے ہیں، تیز ہواؤں، برفانی موسم اور جان لیوا راستوں کا سامنا کرتے ہوئے اس قیمتی مادے کو جمع کرتے ہیں۔ بعض اوقات کئی دنوں کی مشقت کے بعد صرف چند کلو سلاجیت حاصل ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سلاجیت کو بعض لوگ "پہاڑوں کا سیاہ سونا" بھی کہتے ہیں۔ اگر اس کی قیمت صرف نکالنے کی دشواری، خطرات اور انسانی محنت کی بنیاد پر لگائی جائے تو شاید اس کی قدر سونے سے کم نہ ہو۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر اصل اور نقلی سلاجیت میں فرق نہ ہونے اور مناسب مارکیٹنگ کے فقدان کی وجہ سے یہ نایاب خزانہ اپنی حقیقی قدر حاصل نہیں کر پاتا۔
سلاجیت صرف ایک قدرتی مادہ نہیں بلکہ ان گمنام پہاڑی لوگوں کی ہمت، جرات اور محنت کی داستان بھی ہے جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اسے دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ جب بھی آپ سلاجیت کا نام سنیں تو یاد رکھیے کہ اس کے ہر قطرے کے پیچھے برف پوش چوٹیوں، خطرناک چٹانوں اور بے مثال انسانی جدوجہد کی ایک پوری کہانی موجود ہے۔
قدرت نے گلگت بلتستان اور شمالی پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدرتی وسائل کی قدر کی جائے، مقامی لوگوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہ سلاجیت محض ایک چیز نہیں بلکہ پاکستان کے بلند ترین پہاڑوں کی گود سے نکلنے والا ایک نایاب تحفہ ہے۔
از قلم ار۔ کے خان مغلوٹ
✨🏔️ شندور پاس: ایک خوابوں جیسا سفر، جہاں فطرت اور ثقافت رقص کرتے ہیں! 🇵🇰
اگر آپ پاکستان میں کسی ایسی جگہ کی تلاش میں ہیں جو قدرتی حسن، بھرپور ثقافت اور روح کو سکون بخشنے والی خاموشی کا حسین امتزاج ہو، تو شندور پاس آپ کی سفری فہرست میں سرفہرست ہونا چاہیے۔ دلکش وادی، جو چترال اور گلگت بلتستان کے سنگم پر واقع ہے، تقریباً 12,500 فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے بجا طور پر "دنیا کی چھت" کہلاتی ہے۔ یہاں قدم قدم پر آپ کا استقبال کرتے ہیں مخملی سبز چراگاہیں، وسیع و عریض نیلا آسمان اور برف پوش فلک بوس پہاڑ — ایک ایسا منظر جو کسی خیالی دنیا سے کم نہیں لگتا۔
شندور پاس کا سب سے بڑا جادو اس کی بے مثال سادگی اور پرسکون فضا ہے۔ یہاں شہروں کا شور و غل نہیں، نہ ہی سیاحوں کی بھیڑ بھاڑ؛ یہاں صرف قدرت کی وہ سریلی آوازیں ہیں جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہیں۔ اس علاقے کو ایک خاص پہچان ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے (عموماً 7 سے 9 جولائی) میں منعقد ہونے والے شندور پولو فیسٹیول نے عطا کی ہے۔ صدیوں کی پرانی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے، چترال اور گلگت بلتستان کی بہادر ٹیمیں یہاں "فری اسٹائل" پولو کا مقابلہ کرتی ہیں — ایک ایسا کھیل جو کسی خاص قانون کا پابند نہیں، بلکہ خالص جوش اور مہارت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اور اس پولو گراؤنڈ کا نام؟ "ماس جنالی" — یعنی "چاندنی رات کا میدان"۔ کیا یہ نام ہی اس جگہ کی رومانیت کی عکاسی نہیں کرتا؟
لیکن یہ میلہ صرف پولو تک ہی محدود نہیں! یہاں آپ کو مقامی موسیقی کی دلنشین دھنیں، روایتی رقص کے رنگ اور اس خطے کی بھرپور ثقافت کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ اگر آپ ایسی جگہ کی تلاش میں ہیں جہاں آپ قدرت کے قریب ترین محسوس کریں، مقامی ثقافت کو گہرائی سے جانیں اور ایک گہرا سکون پائیں، تو شندور پاس ایک مکمل اور بے مثال تجربہ ہے۔
اور یہ بات بھی جان لیجیے کہ یہ علاقہ وسیع و عریض شندور-ہندروپ نیشنل پارک کا ایک اہم حصہ ہے۔ تقریباً 1,986 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ پارک نایاب جنگلی حیات کا مسکن ہے، جن میں شان دار برفانی چیتے، ہمالیائی بھورے ریچھ، دلکش ہمالیائی آئی بیکس اور چالاک انڈین گرے وولف جیسے جانور شامل ہیں۔ پرندوں سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی یہ جگہ کسی جنت سے کم نہیں!
شندور کا سفر بلاشبہ کچھ دشوار گزار ہو سکتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر جو روح پرور نظارے، مقامی لوگوں کی بے مثال مہمان نوازی اور قدرتی دلکشی آپ کو ملتی ہے، وہ راستے کی تمام تھکن کو پل بھر میں بھلا دیتی ہے۔ یقین جانیے، شندور صرف ایک سیاحتی مقام نہیں، یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو آپ کے دل و دماغ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے۔
تو کیا آپ تیار ہیں "دنیا کی چھت" کے اس سحر انگیز سفر کے لیے؟ اپنی سفری فہرست میں شندور پاس کو ضرور شامل کریں! ✨
امیر المومنین مولا علی علیہ السلام سے رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا:
کہ پچھلی امتوں کا سب سے بدبخت شخص وہ تھا کہ جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں
اور اس امت کا سب سے بڑا بدبخت وہ ہو گا کہ جو تجھے شہید کرے گا
جبکہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر جبرائیل نے آ کر دی اور کربلا کی خون آلود مٹی بھی لا کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دی
کیا لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اس پہ غور و فکر کریں ؟؟؟
امیر المومنین مولا علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کا قاتل ایک ہی خاندان تھا
اور دنیا کے سب سے بڑے بدبخت خاندان اور ان کے حمایتیوں کا حشر میں سب سے برا انجام ہو گا
#حسین_پھر_حسین_ہے
صلائے عام ہے
سوچیں ذرا :
اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم ، بزرگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی صالح اولادوں ، خود حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پانچ بیٹوں کی موجودگی میں آخر معاویہ نے یزید کو ہی تخت نشین کرنے پہ اصرار کیوں کیا ؟؟
یزید کے کردار و عمل کو اگر پوری اسلامی دنیا جانتی تھی تو اس کا باپ کیوں نہیں جانتا تھا ؟؟
امام حسن علیہ السلام سے کئے گئے معاہدے کی بنیادی شرط بھی یہی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
آخر یزید اتنا ناگزیر کیوں تھا کہ اس کو لانے کیلئے امام حسن علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا اور یزید کی حکومت باقی رکھنے کیلئے امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا ؟؟
اتنے بڑے قدم کیوں اٹھائے گئے ؟؟
کیا ان مظالم کے پیچھے صرف بنو امیہ تھے ؟؟
کیا بنو امیہ اتنے بڑے بڑے فیصلے اکیلے لے سکتے تھے ؟؟
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جس طرح آج کل کے دور میں عالمی اسٹیبلشمنٹ سازشیں کرتی ہیں
اور اپنے مہروں کو استعمال کرتی ہے
ایسا ہی اس دور میں بھی کچھ ہوا ہو ؟؟
کیا آپ نے کبھی غور نہیں کیا کہ جنگ صفین میں مولا علی علیہ السلام کے اسلامی لشکر کے مقابلے میں باغی لشکر دو گنا بڑا تھا
باغی لشکر کے پاس جدید اسلحہ اور وافر جنگی سامان موجود تھا
باغی لشکر میں انواع اقسام کے کھانے چلتے تھے
جبکہ اسلامی لشکر میں سادگی تھی
باغی لشکر کے پاس یہ سب کہاں سے آیا ؟؟
جنگ خندق سے شروع کریں
اور کربلا تک آئیں
دین اسلام کے دشمن کبھی تنہا نہیں تھے
بدر میں شکست کھائے ہوئے اور خیبر میں مار کھائے ہوؤں کا مشترکہ دشمن علی تھا
اور مولا علی علیہ السلام و اولاد علی علیہ السلام کے خلاف دونوں ہمیشہ اکٹھے رہے
تاریخ کو محض وقت گزاری یا معلومات کے حصول کیلئے نہ پڑھا کرو
تاریخ میں تحقیق کرو
یزید کو عالمی ایجنڈے کے تحت ہی لایا گیا تھا
مقصد اسلام کو جڑ سے مٹانا تھا
امام حسین علیہ السلام کی قربانی نے مگر اس وقت کی عالمی اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ خاک میں ملا دیا تھا
امام حسین علیہ السلام نے دین اسلام کو بچانے کیلئے بہت بڑا کام کیا ہے
ورنہ جو کچھ ابلیسی قوتیں چاہتی تھیں
اگر کامیاب ہوتیں تو آج اسلام کا نام و نشان بھی موجود نہیں ہوتا
اور اہلیان پاکستان سے زیادہ ایسی سازشوں کو کون سمجھ سکتا ہے ؟؟
#حسین_پھر_حسین_ہے
رسول ﷺ نے دوسری شادی حضرت سودہ سے کیوں کی اس کے پیچھے کیا وجہ بنی ؟
رسول اللہ ﷺ کی دوسری زوجہ مطہرہ (بیوی) کا نام حضرت
سودہ بنت زمعہ (رضی اللہ عنہا) ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا تھا۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا ان اولین مسلمانوں میں سے تھیں جنہوں نے مکہ میں شدید ترین ظلم و ستم کا سامنا کیا۔
آپ نے اپنے پہلے شوہر (سکران بن عمرو) کے ساتھ دین کی خاطر حبشہ کی طرف ہجرت کی، جو کہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی۔ وہاں سے واپسی کے کچھ عرصے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد نبی کریم ﷺ اور ان کا گھرانہ شدید غم اور تنہائی کا شکار تھا۔ ایسے نازک وقت میں حضرت سودہؓ نے حضور ﷺ کے عقد میں آ کر ان کے گھر اور سیدہ فاطمہؓ سمیت آپ ﷺ کی بیٹیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔
انہوں نے مکہ کے اس الوداعی اور کٹھن دور میں رسول اللہ ﷺ کو ایک پرسکون گھریلو ماحول فراہم کیا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی، تو بعد میں حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت ابو رافعؓ مکہ سے رسول اللہ ﷺ کے اہل و عیال کو لینے آئے۔ حضرت سودہؓ نے مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہیں۔
وہ دیگر ازواج مطہرات کی طرح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مختلف اسفار اور غزوات میں بھی شریک رہیں۔ روایات کے مطابق، وہ غزوہ خیبر کے موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھیں اور اس فتح کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھی مالِ غنیمت سے حصہ عطا فرمایا۔
سنہ ۱۰ ہجری میں حضرت سودہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کا تاریخی سفر کیا۔ اس سفر کے دوران، ان کے ضعیف العمری اور بھاری بھرکم جسم کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں خصوصی رعایت دی کہ وہ مزدلفہ میں رات کے وقت لوگوں کے رش سے پہلے ہی (رات ہی کو) منیٰ کے لیے روانہ ہو جائیں، جو کہ اسلام میں ضعیف اور معذور افراد کے لیے ایک مستقل آسانی اور حکم بن گیا۔
ایک عظیم قربانی: حضرت سودہؓ کا رسول اللہ ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب وہ بوڑھی ہو گئیں اور انہیں لگا کہ شاید رسول اللہ ﷺ انہیں الگ نہ کر دیں (تاکہ ان پر بوجھ نہ بنے)، تو انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام کر دیا، تاکہ وہ قیامت کے دن بھی رسول اللہ ﷺ کی زوجیت ہی میں اٹھیں اور حضور ﷺ کے دل کو بھی آسودگی رہے۔
حضرت سودہؓ اور ان کے پہلے شوہر (سکران بن عمروؓ) اسلام لانے والے ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔ کفارِ مکہ کے ظلم سے تنگ آ کر انہوں نے حبشہ ہجرت کی تھی۔ جب وہ مکہ واپس لوٹے، تو کچھ ہی عرصے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا، جس سے حضرت سودہؓ بالکل اکیلی ہو گئیں اور ان پر کسمپرسی کا وقت آگیا۔
دوسری طرف، اسی زمانے میں رسول اللہ ﷺ کی غمخوار بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو چکا تھا اور آپ ﷺ شدید غمگین تھے (جسے عام الحزن یا غم کا سال کہا جاتا ہے)۔ آپ ﷺ کے گھر میں چھوٹی بیٹیاں تھیں اور گھر سنبھالنے والا کوئی نہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ گھریلو تنہائی اور اداسی دیکھ کر حضرت عثمان بن مظعونؓ کی زوجہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خدیجہ کے بعد بھلا کس سے؟"
حضرت خولہؓ نے دو نام تجویز کیے: ایک کنواری (حضرت عائشہؓ، جو ابھی کمسن تھیں) اور ایک بیوہ (حضرت سودہ بنت زمعہؓ)۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے حالات اور اپنی بیٹیوں کی پرورش کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت سودہؓ کے پیغامِ نکاح کی اجازت دے دی۔
حضرت خولہؓ فوراً حضرت سودہؓ کے پاس گئیں اور کہا: "اللہ نے تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیر اور برکت بھیجی ہے!" جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچایا، تو حضرت سودہؓ حیران بھی ہوئیں اور خوش بھی، لیکن انہوں نے کہا: "میری خواہش تو ہے، لیکن آپ میرے والد (زمعہ) سے اس کا ذکر کریں" (وہ اس وقت بوڑھے تھے اور ابھی ایمان نہیں لائے تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کا بے حد احترام کرتے تھے)۔
حضرت خولہؓ نے حضرت سودہؓ کے والد زمعہ کے پاس جا کر بات کی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شرافت اور مرتبے کو سراہتے ہوئے کہا: "محمد (ﷺ) تو ایک معزز اور کفو (برابر) ترین انسان ہیں، لیکن کیا سودہ اس پر راضی ہے؟" حضرت خولہؓ نے کہا: "ہاں، وہ راضی ہے"۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ خود تشریف لائے اور حضرت سودہؓ کے والد (یا بعض روایات کے مطابق ان کے بھائی) کی موجودگی میں یہ نکاح مکہ مکرمہ ہی میں پڑھایا گیا۔
اس مبارک نکاح کا مہر 400 درہم مقرر ہوا۔
*صرف عمران خان ہی کیوں۔۔..*
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید
(اشک بہا دینے والی تحریر)
"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔
"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟
یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔
مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے۔۔۔۔۔۔۔
تاریخِ اسلام کی پہلی شہید: حضرت سمیہؓ کی داستانِ عزیمت
مکہ کی وادیٔ بطحاء کا وہ منظر تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی، جہاں آسمان سے آگ برس رہی تھی اور زمین تپتے ہوئے انگاروں کا روپ دھار چکی تھی۔ انسانیت سسک رہی تھی اور قریش کے جلادوں کے قہقہے اس ہولناک خاموشی کو چاک کر رہے تھے۔ لیکن اس ظلم و ستم کے طوفان کے سامنے ایک ضعیفہ، عزم و استقلال کا ہمالیہ بنی کھڑی تھی۔ یہ حضرت سمیہ بنت خباطؓ تھیں—جن کا نحیف جسم زخموں سے چور تھا، مگر آنکھوں میں ایمان کا وہ نور تھا جس نے مکہ کے فرعونوں کی نیندیں اڑا دی تھیں۔
یہ محض ایک خاتون پر تشدد کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم معرکہ تھا جہاں ایک طرف ظلم و جبر کی مادی طاقت تھی اور دوسری طرف "اَحد، اَحد" کی وہ سچی پکار جس کے سامنے مکہ کی چوہدراہٹ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی۔
مکہ کا مسموم ماحول اور حق کی آواز
جس دور میں مہرِ نبوت ﷺ نے مکہ کے افق پر توحید کا علم بلند کیا، وہ معاشرہ اخلاقی اور سماجی پستی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ کعبہ بتوں کا مسکن تھا اور کمزوروں کا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔ قریش کے سردار جانتے تھے کہ اسلام کا پیغام ان کے ظالمانہ اور طبقاتی نظام کے خلاف ایک پُرمن انقلاب ہے۔ اسی لیے انہوں نے اس نئی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنی تمام تر وحشیانہ طاقت کا رخ ان بے بس اور غریب لوگوں کی طرف کر دیا جن کا مکہ میں کوئی خاندانی پشت پناہ نہیں تھا۔
انہی سرفروشوں کے کاروانِ حق کے سالار بنو مخزوم کے حلیف حضرت یاسر بن عامرؓ، ان کی اہلیہ حضرت سمیہؓ اور ان کے نوجوان فرزند حضرت عمار بن یاسرؓ تھے۔ عمر کے اس حصے میں جہاں ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، حضرت سمیہؓ نے مصلحت پسندی کے بجائے اسلام کا اعلانیہ اظہار کیا۔ ابو جہل کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اس کے زیرِ اثر رہنے والے غلام اس کے معبودوں کو ٹھکرا دیں۔ چنانچہ، اس نے اس معصوم خاندان کو عبرت کا نشان بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
تپتی ریت پر ایمان کا امتحان
تشدد کا یہ سلسلہ روز کا معمول بن چکا تھا۔ تپتی ہوئی دوپہر میں اس پورے خاندان کو لوہے کی بھاری زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا جاتا تاکہ تپش سے گوشت پگھلنے لگے۔ سینوں پر بھاری پتھر رکھ دیے جاتے اور کوڑوں کی برسات کی جاتی۔ ابو جہل غصے سے چلاتا: "محمد (ﷺ) کے خدا کا انکار کرو!" لیکن ایمان جب دلوں میں راسخ ہو جائے تو موت کا خوف مٹ جاتا ہے۔ حضرت سمیہؓ کے خشک لبوں سے صرف ایک ہی صدا گونجتی: "اللہ احد... اللہ احد..."
اس بے بسی کے عالم میں جب دو جہاں کے مالک، حضور اکرم ﷺ وہاں سے گزرتے، تو آپ ﷺ کا دل تڑپ اٹھتا۔ اس وقت مادی وسائل نہ تھے کہ ان کی زنجیریں کاٹی جا سکتیں، لیکن آپ ﷺ اپنی نم آلود آنکھوں کے ساتھ انہیں وہ زادِ راہ دیتے جو روحوں کو امر کر دیتا۔ آپ ﷺ فرماتے:
"صَبْراً آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ"
(اے آلِ یاسر! صبر کرو، یقیناً تمہارا وعدہ گاہ جنت ہے)
جنت کی یہ نوید سن کر حضرت سمیہؓ کے چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہٹ پھیل جاتی اور مکہ کی جلتی ریت انہیں گلزار نظر آنے لگتی۔
وہ آخری وار... جو ابو جہل کی شکست بن گیا
مظلومیت کا یہ سفر اپنے آخری موڑ پر پہنچا۔ حضرت یاسرؓ شدید ستم جھیلتے ہوئے پہلے ہی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ حضرت سمیہؓ تنہا اور شدید زخمی حالت میں زمین پر تھیں۔ ابو جہل نے اپنی مادی طاقت کے زعم میں آ کر نہایت بدزبانی کی اور اسلام کی توہین کی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ بوڑھی خاتون اب ٹوٹ جائے گی، لیکن حضرت سمیہؓ نے اپنے ایمان کی پوری قوت سمیٹ کر اس جابر کے چہرے پر حقارت سے تھوک دیا اور اس کے جھوٹے معبودوں کی مذمت کی۔
یہ قریش کے سب سے مغرور سردار کی وہ تاریخی تذلیل تھی جو وہ برداشت نہ کر سکا۔ غصے اور شکست خوردگی کے جنون میں اندھے ہو کر ابو جہل نے اپنا نیزہ اٹھایا اور پوری قوت کے ساتھ حضرت سمیہؓ کے جسم پر مارا۔ نیزہ جسم کے پار ہو گیا، اور مکہ کی ریت پر تاریخِ اسلام کا پہلا پاکیزہ خون بہہ نکلا
حضرت سمیہؓ کی روح پرواز کر گئی، اور وہ کلمۂ توحید کی گواہی دیتے ہوئے
اسلام کی پہلی شہید ہونے کا ابدی اعزاز پا گئیں۔
قربانی کے اثرات اور لازوال پیغام
حضرت سمیہؓ کی اس عظیم شہادت نے صنفِ نازک کے وقار کو وہ بلندی عطا کی کہ آج بھی تاریخِ اسلام جب اپنی پہلی قربانی کا ذکر کرتی ہے، تو کسی مرد کا نہیں بلکہ ایک عظیم عورت کا نام فخر سے لیتی ہے۔ یہ ایک بظاہر کمزور خاتون کی مادی طاقت پر وہ اخلاقی اور ایمانی فتح تھی، جس نے ظلم کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
غزوۂ بدر کے دن جب ابو جہل مارا گیا، تو حضور اکرم ﷺ نے حضرت عمارؓ سے فرمایا تھا: "اللہ نے تمہاری ماں کے قاتل کو ہلاک کر دیا"۔ یہ عدلِ الٰہی کا وہ مہرِ تصدیق تھا جو تاریخ نے ثبت کیا۔
ترکی میں
خلافت گر گئی
غدار اتاترک نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ مساجد کو بند کر دیا گیا، اذان پر پابندی لگا دی گئی، اور حجاب ہٹا دیا گیا۔
خلیفہ کے خاندان کو رات کے وقت ان کے نائٹ کپڑوں میں نکال دیا گیا، اور ان کی مزید تذلیل کے لیے انہیں اردن، مصر یا شام جلاوطن کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
کچھ کو یونان میں یہودیوں کے مرکز تھیسالونیکی اور دوسروں کو فرانس بھیج دیا گیا۔
سلطان وحیدالدین کے بیٹوں نے منہ ڈھانپ لیا تاکہ لوگ انہیں پہچان نہ سکیں اور پیرس میں بھیک مانگنے لگے!
جب وہ مر گیا تو چرچ نے دکانداروں اور بازار فروشوں کے قرضوں کی وجہ سے اس کی لاش قبضے میں لے لی۔ مسلمانوں نے مال جمع کیا اور سلطان کا قرض ادا کیا!
وہ تابوت لے گئے اور اسے شام میں دفن کر دیا۔
بیس سال بعد عدنان میندریس ان کی تلاش میں پیرس گئے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں، اس نے سلطان عبدالحمید کی بیوی شفیکا (85 سال کی عمر) اور اس کی بیٹی شہزادی آیشے (60 سال) کو ایک فیکٹری میں معمولی اجرت پر برتن دھوتے ہوئے پایا۔ اس نے روتے ہوئے ان کے ہاتھ چومے۔ شہزادی عائشہ نے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا، "مینڈیرس، وزیر اعظم ترکی۔" اس نے پلیٹیں گرا دیں اور چیخ کر بولی، "کہاں تھے تم؟ اتنا عرصہ ہو گیا بیٹا!" خوشی سے مغلوب ہوکر وہ بے ہوش ہوگئی اور زمین پر گر گئی۔
وہ ان کی معافی اور خاندان کی ترکی واپسی کے لیے انقرہ واپس آیا۔ تاہم، سیکولرز صرف خواتین کو لانے پر اصرار کرتے تھے، لہذا وہ سلطانہ شفیقہ اور شہزادی عائشہ کو ترکی لے آئے۔ ہر چھٹی کے دن مینڈیرس سلطانہ اور شہزادی سے ملنے جاتے اور ان میں سے ہر ایک کو اپنی تنخواہ اور ذاتی فنڈز سے 10,000 لیرا دیتے۔ اس کے مقدمے کی سماعت کے دوران، اس کے خلاف الزامات میں سے ایک ریاستی فنڈز میں غبن اور انہیں سلطان کی بیوی اور بیٹی پر خرچ کرنا تھا۔
عدنان میندریس کو پھانسی دے دی گئی، اور صرف ایک دن بعد، سلطانہ شفیقہ اور عائشہ سجدے کی حالت میں نمازی قالینوں پر مردہ پائی گئیں۔ یہ زمین پر شیطان کے کارندوں کی حالت ہے: کوئی غیرت، کوئی بہادری، کوئی مردانگی، کوئی ہمدردی، کوئی رشتہ داری، کوئی انسانیت، یہاں تک کہ حب الوطنی بھی نہیں، صرف اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی اور نفرت۔
ہم بچوں کو سونے کے لیے کہانیاں نہیں سناتے...
لیکن مردوں کو جگانے کے لیے۔
پھانسی کی تاریخ: 17 ستمبر 1961
{ پس اے آنکھوں والے ہوشیار رہو !}
صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے
صدقہ احادیث کی روشنی میں
1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں
ایک جرمن آدمی بار میں داخل ہوا اور ایک بیئر کا آرڈر دیا۔
بار ٹینڈر نے کہا: "20 یورو!"
جرمن حیران رہ گیا: "20 یورو؟ کل تو یہی بیئر صرف 3 یورو کی تھی!"
بار ٹینڈر بولا: "جی ہاں، لیکن آج اس کی قیمت 20 یورو ہے۔"
جرمن نے غصے سے پوچھا: "آخر کیوں؟"
بار ٹینڈر نے وضاحت کی:
3 یورو بیئر کی قیمت ہے۔
3 یورو یوکرین کی مدد کے لیے۔
4 یورو ان یورپی ممالک کی امداد کے لیے جنہوں نے روس پر پابندیاں لگائی ہیں لیکن یورپی یونین کے رکن نہیں۔
4 یورو برطانیہ کی مدد کے لیے تاکہ وہ روس کے خلاف پابندیوں کو کامیابی سے نافذ کر سکے۔
3 یورو بلقان کے ممالک کو کوئلہ خریدنے کے لیے امداد کے طور پر۔
اور آخری 3 یورو یورپی یونین میں گیس سبسڈی اور روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کے فنڈ کے لیے۔
جرمن نے خاموشی سے 20 یورو نکالے اور بار ٹینڈر کو دے دیے۔
بار ٹینڈر نے رقم کیش رجسٹر میں ڈالی اور 3 یورو واپس کر دیے۔
جرمن نے حیرت سے پوچھا: "ایک منٹ! تم نے 20 یورو مانگے تھے، میں نے 20 دیے ہیں، پھر یہ 3 یورو واپس کیوں؟"
بار ٹینڈر مسکرایا اور بولا:
"کیونکہ... ہمارے پاس بیئر ہی نہیں ہے!"
😂
پاکستان میں یوٹیلٹی بلوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے؛ بل تو پورا آ جاتا ہے، مگر سہولت اکثر غائب ہوتی ہے!
- IMF کے مطابق پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی 5300 ارب روپے کی کرپشن گزشتہ 4 سال میں ہوئی
- پاکستان کی تاریخ میں پچھلے ساٹھ سالوں میں سب سے کم ترین بیرونی سرمایہ کاری 2022 سے 2026 میں ہوئی
- پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس 50 ہزار ارب روپے پچھلے چار سالوں میں عوام سے لیا گیا
- پاکستانیوں نے سب سے بڑی تعداد میں ملک پچھلے تین سالوں میں چھوڑا
- پچھلے تین سالوں میں دہشتگردی نے بیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا
- پچھلے تین سالوں میں سب سے بڑی تعداد میں تقریباً 79 فارن کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کاروبار بند کر دیا
- پاکستانی پاسپورٹ تاریخ کی بدترین رینکنگ میں صومالیہ سے بھی نیچے جا گرا۔
- گزشتہ 4 سالوں میں 57،000 ارب کا قرضہ لیا لگا کہاں پتہ نہیں۔
ہم کس کے دامن پہ اپنا
لہو تلاش کریں ۔۔۔۔۔۔۔؟
😢😭💔
ایک ریٹائرڈ پروفیسر کی عادت تھی کہ وہ ہر رات ایک پرانے لکڑی کے صندوق کو تالا لگا کر بند کرتا تھا۔
اس صندوق میں اس کے نہایت قیمتی کاغذات، یادگاریں اور تھوڑی سی نقد رقم رکھی ہوتی تھی۔
ایک دن اس سے اس صندوق کی چھوٹی سی چابی گم ہو گئی۔
اس نے ہر جگہ تلاش کی—اپنی میز، الماریاں، کتابوں کی شیلفیں، حتیٰ کہ قالینوں کے نیچے بھی۔ مگر چابی نہ ملی۔
آخرکار اس نے اپنے بیٹے کو بلایا جو ایک انجینئر تھا۔
بیٹا مختلف آلات، ٹارچ اور اوزار لے کر آیا۔ اس نے تالے کا بغور جائزہ لیا اور کہا:
"فکر نہ کریں ابا جان، میں اسے توڑ کر کھول دیتا ہوں۔"
اتنے میں پروفیسر نے کہا:
"ٹھہرو، پہلے میں اپنے پرانے کالج کے ساتھی کو بلا لیتا ہوں۔"
بیٹا حیران ہو گیا۔
"کیوں؟ وہ تو تالہ ساز بھی نہیں ہے!"
کچھ دیر بعد پرانا دوست آ گیا۔ دونوں مسکرائے، ہنسے اور اپنے کالج کے زمانے کی باتیں کرنے لگے۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد دوست نے اچانک پوچھا:
"کیا تم اب بھی اہم چیزیں اپنی پرانی لغت (ڈکشنری) میں چھپا کر رکھتے ہو، جیسے ہاسٹل کے دنوں میں رکھا کرتے تھے؟"
پروفیسر چونک اٹھا۔
وہ فوراً کتابوں کی الماری کے پاس گیا، ایک موٹی ڈکشنری نکالی، اور اس کے صفحات کے درمیان وہی چھوٹی سی گم شدہ چابی موجود تھی۔
بیٹا ہنس پڑا اور بولا:
"میرے سارے انجینئرنگ کے اوزار بے کار ہو گئے، اور آپ کے پرانے دوست نے صرف آپ کو جاننے کی وجہ سے مسئلہ حل کر دیا!"
پروفیسر مسکرایا اور بولا:
"ماہرین مسائل حل کر سکتے ہیں، مگر پرانے دوست اُن جگہوں کو یاد رکھتے ہیں جہاں تم خود کو کھو بیٹھتے ہو۔"
کہانی کا سبق:
ان لوگوں سے تعلق قائم رکھیں جنہوں نے آپ کو زندگی کے مختلف ادوار میں قریب سے جانا ہو۔
بعض اوقات وہ صرف مسائل کا حل ہی نہیں بتاتے، بلکہ آپ کی شخصیت کے وہ گم شدہ حصے بھی واپس دلا دیتے ہیں جنہیں آپ خود بھول چکے ہوتے ہیں۔
*رات گہری ہو چکی تھی۔*
مصر کے ایک خاموش گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں دو لوگ بیٹھے تھے۔ ایک استاد… اور دوسرا شاگرد
سامنے قرآن کھلا ہوا تھا۔
اور ایک آیت نے دونوں کو خاموش کر رکھا تھا۔
﴿ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ﴾
ترجمہ:
“اور وہی ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے، اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔”
مسئلہ صرف ایک لفظ تھا… “إِلَٰهٌ”۔
عربی نحو کا مشہور قاعدہ یہ کہتا ہے کہ جب نکرہ اسم دو مرتبہ دہرایا جائے تو دونوں کا مفہوم الگ ہوتا ہے۔
اگر کوئی کہے: “میں نے گھر میں ایک آدمی دیکھا اور بازار میں ایک آدمی دیکھا” تو دونوں آدمی الگ سمجھے جائیں گے۔
یہی قاعدہ اُس رات شیخ شعراویؒ کے ذہن میں بجلی کی طرح کوند رہا تھا۔
آیت میں بھی “إِلَٰهٌ” دو مرتبہ آیا تھا۔
ایک بار آسمان کے لیے۔
ایک بار زمین کے لیے۔
چند لمحوں کے لیے اُن کے دل پر عجیب خوف طاری ہوا۔
کیا نحوی قاعدے کے مطابق یہاں دو معبودوں کا تصور نکلتا ہے؟
معاذ اللہ۔
وہ فوراً لرز اٹھے۔
استغفار کیا۔
اور اسی بے چینی میں اپنے استاد کے پاس جا پہنچے۔
استاد اُس وقت گاؤں میں تھے۔ عصر کا وقت قریب تھا۔ دونوں مسجد کی طرف نکل گئے۔ نماز ادا کی۔ پھر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر آیت پر گفتگو شروع ہوئی۔
ایک عالم۔
اور دوسرا مستقبل کا امام التفسیر۔
مگر دونوں خاموش تھے۔
جواب سامنے نہیں آ رہا تھا۔
عشا ہو گئی۔
مسجد میں عجیب سکوت تھا۔
باہر مٹی کا راستہ… دور کھجوروں کے درخت… اور اندر قرآن کی ایک آیت نے دو ذہین دماغوں کو روک رکھا تھا۔
اسی لمحے مسجد کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔
سادہ لباس میں ایک دیہاتی اندر داخل ہوا۔
چہرے پر عام سا تاثر۔
مگر آنکھوں میں عجیب سکون۔
اس نے سلام کیا… پھر بغیر کسی تمہید کے بولا:
“کیا آپ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کر رہے ہیں؟
﴿ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ ﴾”
شیخ شعراویؒ اور اُن کے استاد ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
اُس شخص نے بات جاری رکھی:
“آپ لوگ اسمِ موصول کو بھول گئے۔”
پھر اُس نے لفظ “الَّذِي” کی طرف اشارہ کیا۔
اور کہا:
“عربی کا قاعدہ یہ بھی تو ہے کہ اسمِ موصول نکرہ کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ یہاں ‘إِلَٰهٌ’ الگ الگ نہیں رہے… بلکہ ‘الَّذِي’ نے دونوں کو ایک ہی ذات کی طرف لوٹا دیا۔”
مسجد میں خاموشی چھا گئی۔
گویا ایک بند دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔
پھر وہ اجنبی شخص آیت کی بلاغت، نحوی ساخت اور قرآنی حکمت پر گفتگو کرتا رہا۔ ایسے جیسے برسوں سے یہی مضمون پڑھا رہا ہو۔
شیخ شعراویؒ بعد میں کہا کرتے تھے کہ اُس لمحے انہیں محسوس ہوا جیسے قرآن اپنے دفاع کے لیے خود بول اٹھا ہو۔
چند لمحوں بعد وہ شخص خاموشی سے اٹھا… اور مسجد سے باہر نکل گیا۔
شیخ شعراویؒ بھی فوراً اُس کے پیچھے نکلے۔
مگر باہر کوئی نہیں تھا۔
دروازے کے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا گیا:
“وہ شخص کہاں گیا جو ابھی مسجد سے نکلا ہے؟”
لوگ حیران ہو گئے۔
انہوں نے کہا:
“یہاں تو آپ دونوں کے علاوہ کوئی اندر آیا ہی نہیں…”
وہ رات گزر گئی۔
مگر وہ آیت… وہ لمحہ… اور وہ اجنبی شخص… شیخ شعراویؒ کی زندگی کے اُن واقعات میں شامل ہو گیا جسے وہ اللہ کی نصرت کی ایک جھلک سمجھتے تھے۔
شاید اسی لیے قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا…
کبھی کبھی وہ انسان کو اُس کی اپنی حد بھی دکھا دیتا ہے۔
منقول
─────••●◎●••─────
ڈاکٹر زغلول النجار کہتے ہیں:
ایک دن میں سورہ الرحمٰن کی تلاوت کر رہا تھا، تو ایک بزرگ شخص نے مجھے سن لیا۔ انہوں نے مجھے ایک ایسی معلومات دی جس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ جیسے میں سورہ الرحمٰن زندگی میں پہلی بار پڑھ رہا ہوں، اور اس سے پہلے میں نے اسے کبھی پڑھا ہی نہیں۔
اس بزرگ نے مجھ سے ایک سوال پوچھا:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۱- آیت ۴۶: (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ) "اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، دو باغ (جنتیں) ہیں۔"
۲- آیت ۶۲: (وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ) "اور ان دو کے علاوہ دو اور باغ (جنتیں) ہیں۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں چار جنتیں ہیں جو دو دو کی شکل میں تقسیم ہیں۔ تو ان دونوں (جوڑوں) کے درمیان کیا فرق ہے؟
میں نے کہا: "میں نہیں جانتا۔"
انہوں نے کہا: "میں تمہیں واضح کرتا ہوں"۔۔۔ اور یہاں مجھے ایک حیرت انگیز جھٹکا لگا کہ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان کا فرق ہے!
۱- پودوں اور درختوں کا فرق
پہلی دو اعلیٰ جنتیں (جو ڈرنے والے متقیوں کے لیے ہیں): ان کے بارے میں فرمایا: (ذَوَاتَا أَفْنَانٍ) یعنی ان میں گھنے اور پھیلے ہوئے درخت ہیں جن کے درمیان سے روشنی چھن کر آتی ہے، اور یہ ایک ایسا خوبصورت اور دلکش منظر ہے جو دل اور روح کو خوش کر دیتا ہے۔
بعد والی دو کم درجے کی جنتیں: ان کے بارے میں فرمایا: (مُدْهَامَّتَانِ) یعنی ان میں درخت اتنے شدید گھنے ہیں کہ روشنی اندر نہیں جا پاتی، بلکہ مکمل سایہ ہے، اس لیے یہ منظر حسن و جمال میں پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔
۲- چشموں کا فرق
متقیوں کی جنتیں: (فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ) "ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں۔" بہتے ہوئے چشموں کا پانی سب سے پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ کبھی گدلا (خراب) نہیں ہوتا کیونکہ وہ مسلسل رواں رہتا ہے۔
کم درجے کی جنتیں: (فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ) "ان دونوں میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔" یعنی پانی جوش مار کر چشمے سے باہر تو آتا ہے لیکن بہتا نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ بہنے والے چشمے ابلنے والے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ابلنے والے چشموں کا بہنا ضروری نہیں (اس لیے بہتے چشمے اعلیٰ ہیں)۔
۳- پھلوں کا فرق
متقیوں کی جنتیں: (فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ) "ان دونوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔" یعنی دو طرح کے: تر (تازہ) اور خشک۔ دونوں ہی لذت اور اچھائی میں ایک دوسرے سے کم نہیں ہوں گے۔
کم درجے کی جنتیں: (فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ) "ان میں پھل اور کھجوریں اور انار ہیں۔" یعنی (مطلق طور پر) ایک ہی قسم ہوگی، جو کہ لطف اندوزی میں پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔
۴- تکیوں اور آرام گاہوں کا فرق
متقیوں کی جنتیں: (مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ) "وہ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوں گے جن کے استر (اندرونی حصے) باریک ریشم کے ہوں گے، اور دونوں باغوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔"
ذرا سوچیں! جب بستروں کے اندرونی حصے (استر) کا یہ حال ہے، تو ان کے اوپر کا ظاہری حصہ کیسا ہوگا؟ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "ان کے ظاہری حصے چمکتا ہوا نور ہیں۔"
اس کے علاوہ، جب انسان لیٹا ہوا ہوگا تو درخت خود اس کے قریب آ جائیں گے تاکہ وہ بیٹھے یا لیٹے ہی اپنی پسند کا پھل توڑ سکے۔ ذرا اس عظمت کا تصور کریں کہ درخت آپ کی جگہ پر خود چل کر آ رہا ہے!
کم درجے کی جنتیں: (مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ) "وہ سبز مسندوں اور نفیس و خوبصورت قالینوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔" یہاں صرف ظاہری حسن کا ذکر ہے اور اندرونی حقیقت کو مخفی (مبہم) رکھا گیا ہے، جو کہ پہلے وصف (جہاں اندرونی حصہ ہی ریشم کا تھا) کے مقابلے میں کم درجے کا ہے۔
اصل سبق اور عبرت
ان کم درجے کی دو جنتوں کا مالک وہ شخص ہے جس نے نیک اعمال تو کیے، لیکن وہ تنہائیوں میں کبھی کبھار اللہ جل وعلا کی نافرمانی کر بیٹھتا تھا، یہ سوچ کر کہ اسے کوئی انسان نہیں دیکھ رہا۔
آپ تصور کریں کہ "تنہائی کے گناہوں" نے جنت میں ان کے درمیان کتنا بڑا فرق پیدا کر دیا!
اللہ والوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ:
"تنہائیوں کے گناہ ہی انسان کے ایمان کی بربادی (انحطاط) کی اصل وجہ ہیں، اور چھپ کر کی جانے والی عبادات ہی ایمان پر ثابت قدمی کی اصل بنیاد ہیں۔"
اس لیے متقیوں میں شامل ہو جائیے اور اپنی تنہائیوں (خلوتوں) کی حفاظت کیجیے۔
*بیٹیاں واقعی رحمت ہوتی ہیں❤️*
لڑکیوں کے اسکول میں ایک نئی ٹیچر آئیں۔
بےحد خوبصورت، نفیس انداز، اعلیٰ تعلیم یافتہ۔۔
مگر ایک بات سب کو حیران کرتی تھی کہ انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔
ایک دن وقفے میں لڑکیوں نے ہنستے ہوئے پوچھ ہی لیا۔۔
میڈم! آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟
ٹیچر چند لمحے خاموش رہیں، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں۔۔
میں تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں۔۔
ایک شخص کی پانچ بیٹیاں تھیں۔
ہر بار بیٹی کی پیدائش پر اس کا چہرہ اُتر جاتا۔ چھٹی بار اس نے اپنی بیوی سے سخت لہجے میں کہا۔۔
اگر اس بار بھی بیٹی ہوئی تو اسے گھر نہیں لاؤں گا!
مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔
چھٹی بار بھی بیٹی پیدا ہوئی۔
وہ شخص غصے میں ننھی سی بچی کو اٹھا کر رات کے اندھیرے میں شہر کے ایک سنسان چوک پر چھوڑ آیا۔
ماں ساری رات روتی رہی، دعائیں کرتی رہی کہ۔۔
یا اللہ! میری بچی کی حفاظت فرمانا۔۔
صبح جب باپ وہاں سے گزرا تو حیران رہ گیا۔
بچی ویسے ہی محفوظ پڑی تھی۔
کوئی اسے لے کر نہیں گیا تھا۔
وہ اسے واپس گھر لے آیا۔۔
مگر اگلی رات پھر چھوڑ آیا۔
پھر اگلی رات۔۔
پھر اس کے بعد بھی۔۔
لیکن ہر بار وہ ننھی جان صحیح سلامت اسی جگہ ملتی۔
آخرکار وہ شخص تھک گیا اور سمجھ گیا کہ شاید خدا کو یہی منظور ہے۔
وقت گزرتا گیا۔۔
ایک سال بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔
گھر میں خوشیاں منائی گئیں۔۔
مگر کچھ ہی دن بعد ایک بیٹی اس دنیا سے چلی گئی۔
پھر دوبارہ بیٹا پیدا ہوا۔۔
اور ایک اور بیٹی فوت ہوگئی۔۔
یوں ہی وقت گزرتا رہا۔۔
پانچ بیٹے پیدا ہوئے۔۔
اور پانچوں بیٹیاں ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
صرف ایک بیٹی زندہ رہی۔۔
وہی بیٹی💔
جسے اس کا باپ کبھی چوک پر چھوڑ آیا کرتا تھا۔
ٹیچر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
وہ آہستہ سے بولیں
وہ بیٹی… میں ہوں😢
کلاس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
انہوں نے مزید کہا۔۔
آج میرے والد بہت بوڑھے ہوچکے ہیں۔
اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ ان کے پانچ بیٹے ہیں۔۔
مگر سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں۔
کبھی کبھار آکر حال پوچھ جاتے ہیں۔
ان کی خدمت کرنے والا اگر کوئی ہے۔۔
تو صرف وہی بیٹی ہے۔۔
جسے وہ کبھی چھوڑ آتے تھے۔۔
میرے ابو اکثر روتے ہوئے مجھ سے کہتے ہیں
بیٹی! مجھے معاف کردو۔۔
میں تمہاری قدر نہ پہچان سکا۔۔
سچ کہا گیا ہے۔
بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں،
رحمت ہوتی ہیں۔
اور بعض اوقات وہی بیٹیاں بڑھاپے میں ماں باپ کا سب سے مضبوط سہارا بنتی ہیں۔✨
ڈراپ سائٹ کی اسٹوری کا سب سے چونکا دینے والا حصہ
جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن حاصل کرنے کے لیے آمریکی حکام کو پاکستان کے نیوکلیئر جیسے حساس پروگراموں تک رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
یاد رہے کہ عمران خان اور باجوہ کے درمیان تعلقات کی خرابی میں ایکسٹینشن بھی ایک اہم پہلو تھا۔ جب جنرل باجوہ کو معلوم ہوا کہ عمران خان دوسری مرتبہ ایکسٹینش نہیں دیں گے۔ پھر انہوں نے سازشیں شروع کیں، عمران خان کے خلاف واشنگٹن میں لابیوں کی خدمات حاصل کیں، پھر وہاں سے سائفر آیا، رجیم چینج آپریشن ہوا۔
جب جنرل باجوہ نے اپریل میں رجیم چینج آپریشن کیا تو ان کی ریٹائرمنٹ میں آٹھ ماہ باقی تھے۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اکتوبر 2022 میں جنرل باجوہ نے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں اہم لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی حکام کو کئی یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ پاکستان اپنے Long-range missile پروگرام کو رول بیک کیا جائے گا، اپنے نیوکلیئر پروگرام میں کمی کیا جائے گا اور امریکا کو ان پروگراموں تک خصوصی رسائی بھی دے گا۔ یعنی، باجوہ ایکسٹینش حاصل کرنے کے لیے اس قدر Desperate تھے کہ وہ ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل امریکی حکام سے کہتا ہے کہ وہ انہیں پاکستان کی نیوکلیئر جیسے حساس پروگرام تک رسائی دے گا۔
جب باجوہ پاکستان واپس آتا ہے تو ایس پی ڈی جو کہ نیوکلیئر سے ریلیٹڈ ہے، ایس پی ڈی کے انچارج سے امریکی وفد تک رسائی دینے کو کہتا ہے۔ ایس پی ڈی نے باجوہ سے انکار کیا آرمی چیف کا نیوکلیئر چین آف کمانڈ پر ڈائریکٹلی کنٹرول نہیں ہے۔ چیں آف کمانڈ جو ایس پی ڈی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو رپورٹ کرتا ہے، جوائنٹ چیفس اف اسٹاف وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔ آرمی چیف کا اس پر ڈائریکٹلی کنٹرول نہیں ہے۔ (لیکن اب جب کہ 27ویں ترمیم منظور ہو چکی ہے، چین آف کمانڈ براہ راست چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔)
ایک طرف عمران خان پھر سے ایکسٹینشن کی فیور نہیں دیں رہے تھے، دوسری طرف نواز شریف کے عاصم منیر سے معاملات طے پا چکے تھے، اور باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں دی جا رہی تھی۔ اہم ساتھی جنرل ندیم انجم نے بھی پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی, باجوہ کو پھر سے ایکسٹینشن کی حمایت کسی سے نہیں ملی۔ اور ریٹائر ہو کر چلے گئیں
جنرل باجوہ نے نیوکلیئر پروگرام تک رسائی اور Long-range missile پروگرام جیسے اہم معاملات پر امریکا کو یقین دلایا تھا لیکن یہ سب ان کے اختیار میں نہیں تھے۔ بصورت دیگر جنرل باجوہ امریکی وفد کو ایٹمی پروگرام تک رسائی دینے کے لیے تیار تھے۔
جنرل عاصم منیر کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی 27ویں آئینی ترمیم لائی گئی جس میں آرمی چیف کے عہدے میں نمایاں تبدیلی کی گئی اور آرمی چیف چین آف کمانڈ کے انچارج بن گئے۔ اب اگر کوئی امریکی وفد آکر ایٹمی پروگرام تک رسائی چاہتا ہے تو پورے پاکستان میں ان کی رسائی کا انحصار صرف اور صرف عاصم منیر پر ہے اور عاصم منیر ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل بن چکے ہیں تو اس قربت کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ یہ بہت حساس مسئلہ ہے۔
(یہ ڈراپ سائٹ کی اسٹوری ہے۔ جنرل باجوہ نے امریکہ کو ایٹمی پروگرام تک رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس وقت یہ ان کے کنٹرول میں نہیں تھا۔ )
اب یہ کنٹرول 27ویں آئینی ترمیم میں عاصم منیر کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ اور عاصم منیر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ بندے بن گئے ہیں۔
نوٹ؛ اگر آپ کے پاس ڈراپ سائٹ کی پوری اسٹوری پڑھنے کا وقت نہیں ہے، تو کم از کم شہزاد اکبر کے بلاگ کے آخری دس منٹ تو سن لیں۔