Enough is enough. The people of Pakistan deserve relief, not endless fuel price hikes.
Hafiz Naeem ur Rehman demands that the government reduce the petrol price to Rs. 225 per litre to ease the burden on ordinary citizens and businesses.
Affordable fuel means lower inflation, reduced transport costs, and relief for every household.
@NaeemRehmanEngr
#پیٹرول225روپےلیٹرکرو
گزشتہ رات الخدمت رازی ہسپتال چاندنی چوک راولپنڈی کی ہیلپ لائن پر کال کی تو نمائندے نے بہت اچھے انداز میں بات سننے کے بعد لیب میں میری وقار صاحب سے مفصل بات کروائی، مطلوبہ ٹیسٹ کے لئے تمام پروٹوکول کے متعلق بتایا۔ ماشاءاللہ بڑا ہسپتال اور وابستہ اداروں کے خوبصورت لوگ، دعائیں
بدل دو نظام تحریک کے تحت ہم پورے پاکستان کے عوام کے حقوق، امن اور خوشحالی کا مقدمہ لڑیں گے۔
ہر لحاظ سے کامیاب اجتماع عام کے انعقاد پر ہر سطح کے ذمہ داران و کارکنان جماعت اسلامی پاکستان کو دلی مبارکباد
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام#BadalDoNizam#HafizNaeemurRehman
@UpaisaOfficial محترم آ میرے براہِ راست پیغام دیکھ لیں کہ اس سلسلے میں کیا کیا کچھ نہیں کیا، آن لائن کمپلینٹ، ایک میلز، ہیلپ لائنز پر کالز لیکن معاملہ جوں کا توں ہے🤔
انجیئنر نعیم الرحمن سید مودودی کے وہ وارث ہیں جو قنوطیت کا شکار ہوئے نہ بددل۔وہ امیر بنے تو مہنگائی لوگوں کو خود کُشیوں تک لے جا چکی تھی، قوم لاتعداد مسائل کا شکار تھی، تیل ، بجلی وگیس عام آدمی کیا، کھاتے پیتے لوگوں کی دسترس سے باہر ہورہا رہا تھا، بین الاقوامی محاذ پر غزہ میں ایسا ظلم و جبر بپا تھا جس کی نظیر تاریخ انسانی میں ملنا دشوار ہے۔ حافظ نعیم الرحمن بیک وقت کئی محاذوں پر جُت گئے۔ انتخابی دھاندلی کا زیادہ شکار کوئی اور ہوا مگر اس بددیانتی کیخلاف توانا آواز حافظ نعیم بنے، بجلی کی قیمتوں اور آئی پی پیز پر نوازشات کیخلاف تاریخی دھرنا انھوں نے دیا۔ غزہ میں مظالم کیخلاف تاریخ ساز مارچوں کی قیادت کرتے حافظ نعیم نظر آئے۔حکمران طبقے کی ہوس اقتدار اور غلط پالیسوں کے نتیجے میں بے روزگاری کا شکار نوجوان نسل ایسی بددل ہوئی کہ پُر خطر سفر اختیار کر کے ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئی ۔
شکوۂ ظُلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
امیر جماعت حافظ نعیم کی ٹیم کا اہم حصہ ہوتے ہوئے میں دیکھتا ہوں کہ شکوے سے زیادہ وہ اپنی اور اپنے قافلے کی توانائیاں شمعیں جلانے پر صرف کررہے ہیں۔کہیں بنو قابل کا شاندار پروگرام لیکر آگے بڑھتے اور کہیں وہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت کی صورت حال بہتر بناتے کسان کاروں کی قیادت کرتے نظر آتے ہیں۔
چشم تصور مجھے قرارداد و یاد گار پاکستان لے گئی تھی تو آج پھر مجھے بدل دو نظام کی صورت ایک اور قرارداد اکیس تا تیئس نومبر منظور ہوتی نظر آرہی ہے۔ نواب بہادر یارجنگ کو کچھ کھوٹے سکے نظر آئے تھے مگر میں اپنے رب کا ایک عاجز بندہ دیکھ رہا ہوں کہ سید مودودی کے اس قافلے کے راہی ، حافظ کے ’’ کھرے سکے‘‘انشاء اللہ اس اجتماع سے ولولہ و مہمیز لیکر جائیں گے۔ بدل دو نظام ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تحریک بنے گی
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی صاحب کا روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا بہترین کالم۔
ضرور پڑھیے
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام
۔
مینار پاکستان: ایک اور قرارداد https://t.co/tHMdM8xNzN
The countdown has begun.
3 days to a historic moment where Pakistan rises against exploitation and demands a just system.
See you at Minar-e-Pakistan.
#بدلو_نظام_تاریخ_لکھو
آج واہ ماڈل ٹاؤن فیز ٹو واہ کینٹ میں صبح نو بجے سے دو بجے تک بجلی کسی وجہ سے بند رہی حسبِ معمول بجلی جاتے ہی جاز کے سگنل غائب کس سے فریاد کریں؟
@PTAofficialpk@jazzpk
بنگلہ دیش میں آج جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ پوری دنیا کے لیے ایک ایسا عبرت ناک درس ہے جو روزِِ روشن کی طرح واضح ہے۔ بھارتی پروردہ شیخ حسینہ واجد، نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جس طرح جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا، عدالتی فیصلوں کو انتقام کا ہتھیار بنایا اور فسطائیت پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنائی، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
بھارت کی سرپرستی اور اُس کی ہدایات پر قومی مفادات کا سودا کرنے کے باوجود وہ نہ نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں، نہ ہی عوامی لیگی فسطائیت کو دائمی بنا سکیں۔ آج، بالآخر، اُسی کے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل نے حسینہ واجد کے خلاف انتہائی سزا کا فیصلہ سنایا ہے—وہی عدالت جس کے ذریعے اُنہوں نے بے شمار محبِ اسلام اور محبِ وطن شخصیات کو یک طرفہ مقدموں کے عبرتناک ڈرامے کے بعد پھانسیوں کے تختے پر چڑھایا تھا۔
یہ منظر نامہ اُن تمام جابروں، ظالموں، جھوٹ اور ظلم پر مبنی حکمرانی چلانے والوں، اور عدل و انصاف کا خون کرنے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ انجام بالآخر سب کے سامنے آتا ہے۔
ہم آج اُن تمام مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے یہ ستم برداشت کیے، اور بنگلہ دیش کی ترقی، خوش حالی اور اسلامی تشخص کے استحکام کے لیے دُعا گو ہیں۔
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
آپ سب کو دل کی اتھاہ سے 21، 22، 23 نومبر 2025 کو مینار پاکستان لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام میں شرکت کی پرخلوص دعوت ہے۔
Hafiz Naeem ur Rehman
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام
انصار عباسی صاحب کو سالوں سے ہم جانتے ہیں، یہاں ٹوئٹر پر ان کی ایکٹیویٹی دیکھتے ہیں۔
ان کی انفرادیت یہ ہے کہ کسی بھی حکمران، سیاستدان یا جماعت سے ان کے تعلق کی بنیاد کسی ذاتی مفاد کے بجائے اسلام اور پاکستان ہے۔ حکمران آتے جاتے رہتے ہیں، انصار صاحب اسلامی معاملات سے متعلق نصیحت بھی کرتے ہیں، اور آواز بھی اٹھاتے ہیں۔ کسی کے اندھ بھگت بہرحال وہ نہیں ہیں۔ نہ کوئی جھوٹے خواب سناتے ہیں
اس کے بعد عرض ہے کہ ان کی بعض خبروں یا تجزیوں سے مجھے اختلاف ہوتا ہے، کسی کو بھی ہو سکتا ہے، لیکن پاور کوریڈورز میں ان کی بات کا سنا جانا، جنگ جیسے گروپ میں ان کی موجودگی اور حکومت پر اسلامی معاملات سے متعلق اثرانداز ہونا، یہ زیادہ پسند ہے، بجائے اس کے کہ ان کی جگہ کوئی سیکولر خیالات کا حامل یا کوئی لادین بیٹھا ہو۔ ایسے لوگوں کی ویسے بھی کمی نہیں ہے۔ ان میں انصار صاحب جیسی اکا دکا اسلام پسند آوازیں ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے نہ کہ ان پر طعن دراز کیا جائے۔
وما علینا الا البلاغ